ناکام ہونےوالے بلے بازوں کو ٹیم سے باہر کرنے کی ضرورت ہے،مےانداد

ناکام ہونےوالے بلے بازوں کو ٹیم سے باہر کرنے کی ضرورت ہے،مےانداد

کراچی (آئی اےن پی)پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائیریکٹر جنرل جاوید میاں داد نے کہا ہے کہ بار بار ناکام ہونے والے پاکستانی بلے بازوں کو سبق سکھانے اور انہیں ٹیم سے باہر کرنے کی ضرورت ہے۔بلے بازوں کو پتہ ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں ہے، اس لئے وہ مسلسل غلطیاں دہراتے ہیں، بیٹسمینوں کی تکنیک درست نہیں ہے۔ ایک انٹروےو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بورڈ معاملات دے دیئے جائیں تو ٹیم کے ساتھ نظام بھی درست کروں گا۔جاوید میاں داد نے کہا کہ اس وقت پاکستان کرکٹ کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں میچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ کوالٹی نہیں ہے۔ فرسٹ کلاس کیپ گلی محلوں میں بٹ رہی ہے۔ کمزور سسٹم کی وجہ سے ہمارے پاس کوالٹی کرکٹرز کی بھی کمی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ روزانہ میڈیا میں ایک ہی بحث ہورہی ہے لیکن کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ وکٹ پر رکنے کافن کیا ہوتا ہے۔ بیٹسمینوں کی تکنیک میں دفاع نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر پاکستانی بیٹسمینوں کے کھڑے ہونے کا انداز دیکھیں تو گیارہ کے گیارہ کھلاڑی مختلف انداز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے کھلاڑیوں کو کپتان بنانے کی باتیں ہورہی ہیں جو بار بار ناکام ہورہے ہیں۔، ہمارے دور میں ظہیر عباس، وسیم باری، صادق محمد اور مشتاق محمد جیسے کھلاڑی خود احتسابی کرتے تھے۔ وہ اپنی فٹنس پر خود توجہ دیتے ہیں۔ وسیم باری گالف کی گیند سے پریکٹس کرتے تھے اور جلد سونے کے عادی تھے۔

 آج کے کھلاڑیوں کی عادتیں اپنی جگہ ان کی نت نئے چشمے اور ہیئر اسٹائل دیکھیں۔ جاوید میاں داد نے کہا کہ جس دور میں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوچ تھا، میں نے محمد یوسف کو ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے نیٹ پریکٹس کرائی، آج بیٹسمین نیٹ پر ایک اوور میڈن کھیلنے کے عادی نہیں ہیں۔ جاوید میانداد نے کہاکہ کرکٹرز نے کوچ واٹ مور کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسے خوش رکھا ہوا ہے، بیٹسمینوں پر ڈنڈا اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس وقت اپنے خاندانی مسائل کی وجہ سے وقت نہیں ہے۔ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ کوچ کا عہدہ سنبھال سکوں۔    

مزید : کھیل اور کھلاڑی