” علامہ اقبال ؒکی شاعری کا غلط استعمال ‘©‘

” علامہ اقبال ؒکی شاعری کا غلط استعمال ‘©‘
” علامہ اقبال ؒکی شاعری کا غلط استعمال ‘©‘

  

یہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پبلک سیکرٹریٹ میں یوم اقبالؒ کے حوالے سے اک تقریب تھی، آئی ایس ایف کے ڈویژنل صدر گلریز اقبال کی دعوت پر علامہ اقبالؒ کے نواسے ولید اقبال کے ہمراہ میں بھی وہاں ڈھیر سارے نوجوانوں کے درمیان موجود تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اپنی پوری صحافتی زندگی کے دوران میں نے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم سے زیادہ علامہ اقبالؒ سے محبت کرنے والا سیاستدان نہیں دیکھا اور اگر میں رینکنگ کرنے پر آجاو¿ں توان کے بعد ان کی پارٹی کے چئیرمین عمران خان کا نام لے سکتا ہوں۔ اب روایتی سیاستدان اک طرف رہے، علامہ اقبالؒ کی فارسی تو فارسی، اردو شاعری کو پڑھنے اور سمجھنے والے طالب علموں کی تعداد روز بروز کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ولید اقبال نے بتایا کہ علامہ اقبالؒ کی ساٹھ فیصد شاعری فارسی میں، صرف چالیس فیصد اردو میں ہے۔ میرا کہنا تھا کہ ہم اپنے بچوںکو انگریزی میڈیم سکولوں میں بھیج رہے ہیں اورا س کے بعد ان کی چالیس فیصداردو شاعر ی کو سمجھنے والے بھی کم سے کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ مجھے یہ بتانے میں عار نہیں کہ میں اردو میڈیم میں پڑھا ہوا ہوں اور میرے گھر میں بچپن سے ہی کلیات اقبالؒ کی موجودگی نے مجھے اقبالؒ کی سوچ اور فکر سے آشنائی دینے میں اہم کردارادا کیا۔

درست کہتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری، قرآن کی تفسیر اور تشریح کے سواکچھ نہیں اور مجھے یہ حیرت انگیز مماثلت بھی نظر آتی ہے کہ قرآن کی کسی بھی سورت کو، چاہے وہ کتنی بھی طویل کیوں نہ ہو، آپ ذوق و شوق سے پڑھتے رہیں، رفتہ رفتہ پوری کی پوری حفظ ہو جائے گی اور یہی حال اقبالؒ کی شاعری کے ساتھ ہے۔ شکوہ، جواب شکوہ، والدہ محترمہ کی یاد میں، طلوع اسلام اور اس طرح بہت ساری نظمیں میری پسندیدہ رہی ہیں، زمانہ طالب علمی میں مشکل ترین اشعار پانی کی روانی کی طرح زبان سے ادا ہوتے تھے ۔ قرآن بھی نہ پڑھا جائے تو ذہن سے نکل بھاگتا ہے لیکن جیسے ہی دوبارہ رجوع کریں، اتنی ہی محبت اور بہت ہی آسانی سے اس کی واپسی ہوجاتی ہے۔ یہی اقبالؒ کے شاعری کے ساتھ ہے، اک مرتبہ دیکھا اور زبان پر شعر رواں ہونے لگے ” کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں،فکر فردا نہ کروں، محو غم دوش رہو، نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں، ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں، جرات آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو ، شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو ۔۔“

مجھے یہاں شکوہ اللہ سے نہیں، اس کے بندوں سے ہے ۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری ہمیں اک فرد سے اٹھاتی ہے اور پوری ملت میں ڈھال دیتی ہے ، فرد بھی نظرانداز نہیں ہوتااور اقبالؒ کا مرد مومن حقیقی معنوں میں ایک سپر مین کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ اللہ اوراس کے نبی سے عشق کرتا ہے، وہ دولت کا طالب نہیں ہوتا، وہ جرات کا پیکر اور آزادی کا خوگر ہوتا ہے مگر مسئلہ یہاں یہ بن گیا ہے کہ میرے عہد میں اقبالؒ کے مجاہد کی بہت ہی قابل اعتراض تصویر عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کر دی گئی ہے۔ آج کی تصویرمیں وہ شخص جو بندوق اٹھا کے، کسی پہاڑ کے اوپر کھڑا گولیاں برسارہا ہے، وہ اقبالؒ کا مرد مومن ہے، وہی اصل مجاہد ہے۔ اگر میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری قرآن کی تفسیر ہے تو پھرمیں بے گناہوں کا لہو بہانے والے کو قرآن اور اقبالؒ کا سپرمین نہیں سمجھ سکتاکیونکہ میرا مذہب کو کسی اک بے گناہ کو قتل کرنے کو پوری انسانیت کاقتل قرار دیتا ہے۔آج معذرت اور افسوس دونوں کے ساتھ ہی کہنا ہے کہ اقبالؒ کا رسمی اور سطحی فہم رکھنے والے ہی حکیم اللہ محسود کو شہید کہہ سکتے ہیں، ملا فضل اللہ کو مجاہد اور مومن ڈیکلئیر کر سکتے ہیں۔ کیاان سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ اقبالؒ کے مومن اورمجاہد کے تصور کا مس یوز کرنا بند کر دیں۔ وہ شخص تو مومن ہو ہی نہیں سکتا جس کے ہاتھ اور پیر سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں، ہاتھ اور پیر سے کوئی کسی کو کیا گزند پہنچا سکتا ہے، تھپڑ، مکا یا لات مار سکتا ہے مگر یہاں جن لوگوں کومجاہد اور مومن ڈیکلئیر کیا جا رہا ہے ان کی بندوقوں اور من ، من وزنی بارودی جیکٹوں سے مسجدوں، مزاروں اور بازاروں میں لہو کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں۔ یہاں شکوہ تھا کہ کوئی سرحد کا مومن ہے اور کوئی بنگال کا مومن ، یہ تو اپنی جگہ رہے اب کوئی دیوبندیوں کا مومن ہے او رکوئی بریلویوں کا مومن، کوئی اہل حدیث کا مومن ہے تو کوئی کسی اور فرقے کا۔ اسلام کا مومن تو ہمیں کوئی ملتا ہی نہیں، اقبالؒ کی شاعری اگر اسلام کی تشریح ہے تو وہ یہ بھی تو بتاتی ہے کہ مومن تو گفتار، کردار اور اعمال کا ہوتا ہے، اللہ پر ایمان رکھنے والوں سے ملتا ہے تو ریشم کی طرح نرم ہوجاتا ہے مگر یہاں امریکہ کے خلاف جہاد ہوتا ہے اور مرتے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کلمہ گو ہیں ۔۔!

میرا سوال تو یہ بھی ہے کہ اقبالؒ جس جہاد کی بات کرتے ہیں کیاوہ گروہوں کا جہاد ہے کہ اک گروہ اٹھے، وہ دوسروں کو واجب القتل قرار دے، ہتھیار اٹھا ئے اور مارنا شروع کر دے۔جہاد و قتال کے حکم کا کون منکر ہے مگر اس کی فرضیت کے تقاضوں اور ضابطوں کو بھی تو مدنظر رکھنا چاہئے۔ میرا قرآن کہتا ہے کہ دوسروں کے جھوٹے خداو¿ں کو بھی برا بھلا نہ کہو تاکہ وہ جواب میں تمہارے سچے خدا کے بارے میں غلط بات نہ کرسکیں مگر ان مجاہدین کی شریعت میں تو گرجوں میں بیٹھے،رب کا ذکر کرتے ہوئے، بے گناہوں کو جان سے مار دینا جائز قرار پاتا ہے۔ ذرا تصور کیجئے اگر یہی رویہ ہمارے معلم ، ہمارے پیغمبر اختیار کرتے تو کیا وہ بغیر کسی خون خرابے کے دنیا کی پہلی نظریاتی ریاست قائم کر سکتے تھے، کیادنیا کی پہلی نظریاتی ریاست کیا تلوار وں اور تیروں کے ذریعے قائم ہوئی تھی، کیا علمائ، صوفیاءاور بزرگ تلوار لے کر لوگوں کومسلمان کرتے تھے۔ کیا یہ عجب حقیقت نہیں کہ تیروں اور تلواروں کا استعمال تو ہمیشہ اہل ایمان کے مخالفین نے کیا۔ رسول اکرمﷺ نے مکہ چھوڑا تو وہ جان سے مارنے کے لئے پیچھے ہی نہیں لپکے بلکہ یثرب پر حملے کرتے رہے۔ اسلام تو اطاعت ہے، عشق ہے اور حق کی سربلندی کے لئے سر کٹا دینے کا نام ہے۔ یہ محرم الحرام ہے جہاں دنیا کی مقدس ترین ہستیوں کے سر صرف اور صرف اس لئے کاٹ دئیے گئے کہ وہ باطل کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگر اسلام تلوار چلانے کا شوقین ہوتا تو میرا ہر شے پر قادر اللہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو تلوار چلانے اور لہو بہانے کی پوری سہولت مہیا کر دیتا۔ اسماعیل علیہ السلام نے تو عشق اور اطاعت کی عظیم ترین مثال قائم کرتے ہوئے اللہ کے حبیب کو اپنے گلے پر چھری پھیرنے کی اجازت دے دی۔ یہ کون سے مومن ہیں جو دوسروں کو ماردینے کو ہی ایمان سمجھتے ہیں۔

اقبالؒ کا مومن ،اقبال کا مجاہد اسلام کے مومن اور مجاہد سے الگ ہرگزنہیں ۔ مومن اور مجاہد ہونے کے درجے پر پہنچنا تو بہت بڑی بات، اک عام مسلمان ہونے کا دعوے دار جھوٹا نہیں ہوتا، خائن نہیں ہو سکتا، قاتل نہیں ہو سکتا۔ علم ، خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کا دشمن نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمیں بہت سارا علم تو ملا ہی اپنی اماں عائشہ سے ہے ۔ یہ تو مانا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ وطنیت کے ریاستی تصور، جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام بارے نرم گوشہ نہیں رکھتے ، یہ بھی درست کہ وہ قوموں کی زندگی میں شمشیر و سنان کو اول اور طاو¿س و رباب کو آخر رکھتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اقبالؒ کا مرد مومن امن کا دشمن ہے، وہ بندوق لے کر نکل پڑتا، کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے۔ خدارا! اقبالؒ کی شاعری کا غلط استعمال بند کیا جائے ،اسے علم، امن اور ترقی کے دشمنوں کے ہاتھ کا ہتھیار نہ بنایا جائے۔ کہتے ہیںکہ بہت سارے جرائم پیشہ گروہ مل کے دور حاضر کے مجاہدبنے، پھر مال غنیمت اور کشور کشائی ہی ان کا مطلوب و مقصود ٹھہرا۔ گھوڑوں پر بیٹھ کے تلواروں سے جہاد کی اہمیت، فضیلت ضرور ثابت ہے مگرکیا کوئی فتویٰ دے گا کہ موجودہ دور میں معیشت کے میدان میں بھی جہاد ہو سکتا ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اہل ایمان میدان مار سکتے ہیں۔ ہم اللہ کے پہلے حکم اقراءاور دوسرے حکم کہ اے نبی اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھئیے، گندگی سے دور رہئیے کو بھی اتنا ہی اہم سمجھ سکتے ہیں جتنی اہمیت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں سب سے پہلے نازل کیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین اور شاعر مشرق کی شاعری کا صحیح فہم عطا فرماتے ہوئے دنیا میں امن اور بہتری کے لئے نازل ہونے والے احکامات کو تباہی اور ابتری کے لئے استعمال کرنے والوں سے بچائیں ۔۔۔ آپ کو یوم اقبال مبارک ہو!

مزید : کالم