اقبال ؒ کا پیغام:اپنے ورثے کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوجاؤ!!

اقبال ؒ کا پیغام:اپنے ورثے کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوجاؤ!!
اقبال ؒ کا پیغام:اپنے ورثے کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوجاؤ!!

  

یہ ایک حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ فقط مسلمانوں کے شاعر نہیں ،بلکہ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مظلوم اور اچھوت اقوام کے لئے بھی نقیب انقلاب ہیں۔ بھارتی اخبار DALIT VOICEکے چیف ایڈیٹر وی ٹی راج شیکھر لکھتے ہیں : کہ ’’قیام پاکستان کا اصل محرک علامہ اقبالؒ ہیں، جنہوں نے کاروان آزادی کے لئے قائداعظم ؒ کا انتخاب کیا۔ مظلوم اچھوت اقوام کو بھی اقبال کے درس آزادی سے استفادہ کرنا چاہئے‘‘۔ دراصل آج کا انسان جب ذات پات، اونچ نیچ ، علاقے ،قبیلے، ظلم وجارحیت کی زنجیروں میں قید ہے، علامہ اقبال دنیا کی محکوم قوموں کے لئے آزادی کا پیغام ہیں۔ اقبال کا زمانہ استعماری قوت کے عروج کا زمانہ تھا ، ہرطرف تاریکی ہی تاریکی تھی، اس کے باوجود وہ ان تاریک فضاؤں میں جلوۂ خورشید کی نوید دیتے رہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان آج بھی اور مستقبل میں بھی اپنی عظمت رفتہ کو بلاشبہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظریہ ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنی اپنی جگہ اپنے آپ کو مضبوط ومستحکم کریں، اس کے بعد وہ اپنی ایک تنظیم بنائیں جو اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر امت کے مسائل حل کرے۔ اگرچہ آج کے دور میں او آئی سی کے نام سے ایسی تنظیم تشکیل پاچکی ہے ،لیکن عملی طورپر اس نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ بعض مسلمان ممالک کے پاس بے حساب دولت ہے ،لیکن وہ بھی مغربی اقوام کے ہاتھ میں ہے۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں :’’اقبال کا سارا کلام مولانا رومی کی عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے ‘‘ ۔۔۔جس کا سب سے زیادہ اظہار ’’جاوید نامہ‘‘ میں ہوا ہے۔ جہاں وہ رومی کی رہنمائی میں عالم بالا کی سیر کرتے ہیں اور انہی کی رفاقت میں دانش وبصیرت کے خزائن سے مستفید ہوتے ہیں۔ ’’ارمغان حجاز‘‘ میں بھی علامہ اقبال ؒ نے رومی کو دس رباعیات کا آخری ہدیہ پیش کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ اظہار افسوس کرتے ہیں کہ دور حاضرمیں رومی جیسی شخصیت میسر نہ آئی جو ہمارے درد کا درماں بن سکے:

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

اسی لئے اقبال خود کو رومی عصر، قرار دیتے ہیں اور ’’رموز بے خودی‘‘ کا آغاز بھی رومی کے شعر سے ہوتا ہے۔ اقبال ؔ کا پیغام ہے کہ اپنے ورثے کی حفاظت کے لئے کھڑے ہو جاؤ!!۔۔۔تحریک پاکستان کے ایک کارکن ہونے کے ناطے مَیں چشم دید گواہ ہوں کہ تخلیق پاکستان نہ تو شاہی خاندان کے کسی پروگرام میں شامل تھی اور نہ ہی برطانوی قوم یہ چاہتی تھی کہ برصغیر کو تقسیم کردیا جائے ،لیکن تاریخ کے دھارے بنتے سنورتے اور نکھرتے رہتے ہیں اسلامیان ہند کی حالت زار، غلامی، بدحالی اور کسمپرسی پر رب العزت کو رحم آگیا جس نے قیام پاکستان کے مراحل کو آسان بنانا منظور فرمالیا اور ایک مردقلندر کو تیار فرما کر انہیں محمد علی جناح ؒ کا نام دے دیا ،جن کو ملت اسلامیہ نے اپنا قائداعظم منتخب کرلیا ،اسی طرح ایک دوسری ہستی کو حقیقت شناس شاعر اسلام ہونے کا شرف عطا کیا گیا، جنہوں نے غلامی کی اتھاہ گہرائیوں کا شعور رکھتے ہوئے اپنے شعری کلام سے غلام مسلمانوں کے رگ وریشے میں بجلیاں بھرتے ہوئے فرمایا :

ازغلامی دل بمیرد در بدن

ازغلامی روح گرود بارِ تن

(غلامی سے دل بدن کے اندر مرجاتا ہے اور پھرروح بدن یا جسم کے لئے بوجھ بن جاتی ہے)۔ یہ فلسفہ وحدانیت ہے کہ مسلمان غلامی کے لئے کائنات میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ مسلمان حکمرانی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ قائداعظم ؒ نے جب علامہ اقبال ؒ کی غیرمعمولی سیاسی بصیرت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’علامہ اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اس امر پر فخر ہے کہ ان کی قیادت میں مجھے ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقعہ مل چکا ہے۔ مَیں نے ان سے زیادہ وفادار اور اسلام کا شیدائی کسی کو نہیں دیکھا ۔جس بات کو وہ صحیح خیال کرتے، وہ یقیناًصحیح ہوتی اور وہ اس پر چٹان کی طرح قائم رہتے تھے‘‘۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ علامہ اقبال اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اسلام زندہ رہے گا، انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ جب تک پاکستان زندہ ہے اقبال کا نام زندہ رہے گا۔ پاکستان کی اساس اور اقبال کا تصور پاکستان اسلام اور صرف اسلام تھا۔

متحدہ ہندوستان بھی ایک ملک تھا اور پاکستان بھی ایک ملک ہے جو ہندوستان کو تقسیم کرکے بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے دونوں میں امتیاز نظریے کا ہے، چنانچہ پاکستان اس حقیقت کو تسلیم کرکے بنایا گیا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں کسی دوسرے نظام کا پیوند نہیں لگایا جاسکتا۔ اسلام صرف فرد تک محدود نہیں، بلکہ پوری ریاست کو اسلامی قالب میں ڈھالنا ضروری ہے اور یہ پورے معاشرے کے لئے قابل نفاذ ہے۔ ایک نظریے کی بنیاد پر قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی سوچ میں گہری مماثلت اور پاکستان کا قیام دونوں سیاسی قائدین کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔

اپنے دورۂ ایران کے دوران مَیں نے دیکھا کہ ایران کے عوام اور حکومت بھی اس حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں۔ اقبال کو وہاں اقبال لاہوری ، کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور وہ یوم اقبال نہایت شان وشوکت سے مناتے ہیں ، وہ بھی اقبال کے عاشقان اور ان سے محبت کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔ علامہ اقبال کا بہت سا کلام فارسی زبان میں ہے اور ایرانی عوام انہیں اپنا شاعر کہتے ہیں۔

وہ امام خمینی جو ایران میں انقلاب کے بانی رہنما تھے، انہوں نے بھی علامہ اقبال کی تعلیمات سے بہت کچھ حاصل کیا ،رہنمائی پائی۔ کلام اقبال کے بغیر، ان کی ولولہ انگیز قیادت کے بغیر میرے نزدیک ہمارے دل ودماغ اور روحوں پر ایسے اثرات کا اتر جانا ممکن نہ تھا۔ اقبال چاہتے تھے کہ انسان معرفت خداوندی حاصل کرے، اس کے اندر ایک فکری اور ذہنی بلوغت آئے اور اس کے اندر ایک روحانی بالیدگی بھی پیدا ہو۔ مسلمانوں پر ایک شکست خوردہ ذہنیت کی وجہ سے جو پژمرگی سی طاری ہوچکی تھی، اس زہر کو ایک تریاق کے طورپر انہوں نے اس ’’شاہین‘‘ کو پیش کیا۔ اقبال کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مشاہدات اور علم کے ذریعے سے حق تک پہنچا جائے اور اس کی معرفت حاصل کی جائے ، اس لئے وہ کہتے ہیں کہ صرف مشاہدہ اور علم کافی نہیں ،بلکہ اس کے لئے تربیت بھی ضروری ہے۔

موجودہ بحرانی دور میں آج بھی پاکستانی قوم حضرت قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے نظریات کو پاکستان کی حفاظت کے لئے سب سے بہتر اور مؤثر ضامن سمجھتی ہے۔ اسلام بقول علامہ اقبال ؒ سرمایہ کی قوت کو معاشرتی نظام سے خارج نہیں کرتا ،لیکن اسلامی اصولوں پر اگر عمل کیا جائے تو سرمائے کی طاقت مناسب حدود سے تجاوز نہیں کرتی اور امیر طبقہ معاشرے کے غریب طبقے کا استحصال نہیں کرسکتا۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان میں جو عناصر نظریہ پاکستان پر حملہ آور ہیں ان کا نشانہ دراصل پاکستان کا جغرافیہ ہے۔ پاکستان صرف اس لئے ناقابل تسخیر نہیں ہے کہ وہ اب ایٹمی طاقت ہے، بلکہ اس لئے ناقابل تسخیر ہے کہ اس کی تلوار بھی اسلام ہے اور اس کا حصار بھی اسلام ہے ، یہی نظریہ تحریک پاکستان میں قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی سب سے بڑی طاقت تھی۔

مزید :

کالم -