انٹرنیشنل بزنس کانفرنس

انٹرنیشنل بزنس کانفرنس
انٹرنیشنل بزنس کانفرنس

  

پاکستانی قوم آہستہ آہستہ معاشی طور پر بیدار ہو رہی ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں ایک نئی توانائی جنم لے رہی ہے اور پاکستان دشمن منصوبے صحیح حکمتِ عملی سے ناکام بنائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی نے ایکسپو سنٹر لاہور میں دو روزہ انٹرنیشنل بزنس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کے نمائندے، سفارت کار، پاکستانی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو اور معروف بزنس مینوں کے علاوہ یونیورسٹیوں کے چیدہ چیدہ نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر احسن اقبال، بزنس لیڈر افتخار علی ملک، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالباسط ،ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ایس ایم منیر، آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مار گریٹ ایڈمسن، ترک لیڈر یاسر ڈوگن، ترک حکومت کے چیف ایڈوائزر انہر سیوک اور ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے خطاب کیا۔دوسرے سیشنوں کے مقررین میں جہانزیب خان (کنٹری ہیڈ پاکستان پیپسی) ندیم اے ملک (کنٹری ہیڈ مائیکر و سوفٹ) سلیم غوری (نیٹ سول کے سربراہ ) کے علاوہ ممتاز عالمی اور پاکستانی ریسرچ اور بزنس اداروں کے سربراہ شامل تھے۔آسٹریلیا اور پرتگال کے سفارت کاروں نے بھی خطاب کیا۔

اس عظیم الشان بزنس کانفرنس کا کریڈٹ (ڈائریکٹر جنرل یو ایم ٹی) عابد شیروانی کو جاتا ہے۔ کانفرنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تجربات بیان کئے۔ پورا ایک سال لگا اس مقصد کے لئے انتظامات کرنے میں۔ دلچسپ بات ہے کہ سرکاری سطح پر اتنی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، جتنی ہونی چاہیے تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتنا بڑا کام ایک تعلیمی ادارہ کیسے کر سکتا ہے؟ ایسے کام تو حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں، لیکن قطرہ قطرہ پانی گرے تو پتھر بھی گھس جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میں نے کسی جگہ بھی مشکلات تسلیم نہیں کیں اور مسلسل جدوجہد کرکے اپنی ٹیم کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ انٹرنیشنل بزنس کانفرنس کی کامیابی صرف میری کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ پوری پاکستانی قوم کی کامیابی ہے۔ اس کانفرنس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ 2013ء میں پاکستان کی معیشت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی۔ پاکستان کی برآمدات میں بھی کمی ہو گئی جو ابھی تک قائم ہے، جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہماری پیداواری مشینری پرانی ہو چکی ہے،پیداواری اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات دوسرے ممالک کی سستی مصنوعات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس مقصد کے لئے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے کو بھرپور انداز میں فعال کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ انٹرنیشنل بزنس کانفرنس بہت حد تک یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

برطانیہ کی ڈاکٹر ایمنولاٹوڈیوانے اس سلسلے میں بہت شاندار ریسرچ پیپر پیش کیا۔ پاکستان میں آسٹریلین ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے پاکستان کے بارے میں بہترین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ لوگوں سے مل کر اور پاکستان کی مختلف شعبوں میں ترقی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ اس قسم کے آئیڈیاز سے قومیں ترقی کی راہیں طے کرتی ہیں۔ مغرب نے بھی اسی طرح معاشی ترقی کی ہے۔ آسٹریلیا میں پاکستانی طلبہ نے پاکستان کا بہت اچھا امیج بنایا ہے۔ میں اپنی حکومت سے کہوں گی کہ وہ پاکستان کے لئے نہ صرف گرانٹ میں اضافہ کرے، بلکہ پہلے سے زیادہ سکالرشپ بھی جاری کرے۔۔۔بزنس لیڈر افتخار علی ملک نے بھی بہت اچھی تقریر کی اور کہا کہ آج کے نوجوان ایک روشن پاکستان کے لیڈر ہیں۔ اکیڈیمیہ انڈسٹری رابطوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل بزنس کانفرنس جیسے ایونٹس زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اس ایک ایونٹ میں تیرہ ممالک کے بزنس مین، ڈیڑھ سو کمپنیوں کے نمائندے اور پاکستان کے بھی ٹاپ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو شامل ہوئے۔ ان رابطوں سے معاشی ترقی کے نئے راستے نکلتے ہیں۔ صرف نئے آئیڈیاز کے ساتھ ہی پاکستان اپنی معاشی ترقی کی رفتار تیز کر سکتا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنی تقریر میں درست کہا کہ پاکستان اب معاشی طور پر ٹیک آف کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اس وقت سیاست کے میدان میں امن و امان کی ضرورت ہے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا کہ کوئی پاکستان آنے کا خطرہ مول نہیں لیتا تھا، یہاں تک کہ عالمی مالیاتی اداروں، جیسے ورلڈ بینک، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اعلیٰ عہدیدار پاکستان کے وزیرخزانہ کو دبئی میں مدعو کرتے تھے اور تمام معاہدے وہیں طے پاتے تھے، لیکن اب آپ خود دیکھیں کہ صرف دو ہفتے پہلے عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہ خوشی خوشی پاکستان آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انرجی کا بحران حل ہوتے ہی پاکستان میں معاشی سرگرمیاں بہت تیز ہو جائیں گی۔ سی پیک کی وجہ سے جو چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے، اس نے پاکستان کی معیشت کو بیدار کر دیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ دنیا بھر سے سرمایہ کار پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اکیڈیمیہ اور انڈسٹری میں باہمی رابطے میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔ نمائش میں بھی بہت اچھے سٹالز لگائے گئے اور غیر ملکی مندوبین نے نمائش دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ اس نمائش میں ایک سٹال یو ایس ایڈ کے تعاون سے گلگت میں ضائع ہو جانے والے پھلوں کو خشک کرنے کا بھی ہے، جس نے گلگت کی معیشت کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ اس نوعیت کے مزید پراجیکٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم