اقبالؒ اور ہم خیال احباب کی آرزو

اقبالؒ اور ہم خیال احباب کی آرزو
اقبالؒ اور ہم خیال احباب کی آرزو

  

علامہ اقبال مرحوم و مغفور کے حالات زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنی زندگی ہی میں بہت زیادہ شہرت نصیب ہوئی اور ان کے لا تعداد شناسا تھے۔ ان کے ہاں ہر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اتنے وسیع روابط اور معاشرتی تعلقات کے باوجود وہ کبھی کبھار اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا کرتے تھے۔ ان کے اس شدید احساسِ تنہائی کا اظہار ہمیں ان کی نظم اور نثر میں جا بجا ملتا ہے۔ ان کے اس احساس تنہائی کی کئی وجوہات تھیں مگر سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اُن ہم خیال احباب سے محروم سمجھتے تھے جو ان کے حقیقی افکار اور احساسات کو بخوبی جان کر ان کے معیارِ انقلاب پر پورا اتر سکیں۔ ظاہر میں دیکھنے والوں اور سننے والوں کا یہی تاثر ہوتا تھا کہ وہ علامہ اقبالؒ کے بہت قریب ہیں اور وہ ان کے جذبات و خیالات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ یہ علامہ اقبالؒ کی عظمتِ کردار تھی کہ وہ سب ملاقاتیوں سے گھل مل کر باتیں کرتے اور انہیں اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیتے تھے۔ اپنے قریبی احباب کی پُر لطف محافل اور اپنے عقیدت مندوں کی کثرت کے باوجود انہیں اپنی تنہائی کا بخوبی احساس تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں ہم خیال احباب کی آرزو تادمِ آخر قائم رہی۔ وہ عطیہ بیگم کے نام اپنے ایک مکتوب مورخہ 1909ء میں لکھتے ہیں:’’ وہ خیالات جو میری روح کی گہرائیوں میں طوفان بپا کئے ہوئے ہیں، عوام پر ظاہر ہو جائیں تو مجھے یقین ہے کہ میری موت کے بعد میری پرستش ہوگی۔‘‘ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انقلاب آفریں انسانوں کو ہمیشہ مخصوص احباب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

انسان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی خوشگوار اور کامیاب انداز میں گزارنے کے لئے ہم خیال اور متحد العقیدہ انسانوں کی اشد ضرورت ہوا کرتی ہے۔ ایسے ہم دم اور مونس افراد کی فکری یگانگت اور عملی وحدت بعدازاں حیرت انگیز اور انقلاب پرور حالات کو جنم دے سکتی ہے۔ ایک ہی ذہنی وحدت اور فکری مماثلت رکھنے والے بخوبی باہمی تعاون کے ذریعے بلند پرواز بن سکتے ہیں:

کُندہم جنس باہم جنس پرواز

کبوتر با کبوتر ،باز با باز

اگر عام انسانوں کو اپنی زندگی بہتر طور پر بسر کرنے کے لئے دیگر ہم خیال اور ہم جنس انسانوں کی رفاقت و محبت کی سخت احتیاج ہوتی ہے تو اس عالم رنگ و بُو کی زیب و زینت میں اضافہ اور رعنائی پیدا کرنے والے اعلیٰ انسانوں اور انقلابی شخصیات کو تو قریبی ساتھیوں اور ہمدردوں کی بہت ہی زیادہ آرزو ہوتی ہے۔ عام انسان زندگی کی مروجہ غلط روش سے انحراف کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ اس لئے وہ انقلاب کے حامیوں اور بلند نظر پیغامبروں کے انقلابی نظریات اور آتشیں جذبات کو کلیتہً قبول کرنے اور ان کا ساتھ دینے سے گھبراتے ہیں۔ ان ناساز گار حالات میں نئی اخلاقی قدروں اور جدید فکِری عظمتوں کے چراغ روشن کرنے والوں کو ایسے افراد کی تلاش ہوتی ہے جو زندگی اور کائنات کے کارواں کو رواں رکھنے اور اعلیٰ انسانی اصولوں کو فروغ دینے کے لئے ان کا بھرپور ساتھ دے سکیں۔ عام انسان چونکہ زندگی کی عام ڈگر پر چلنے اور تقلیدِ کورانہ کو اختیار کرنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لئے وہ کاہلی اور بے عملی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ مروجہ اقدارِ حیات اور عموماًمسلمہ نظریات کی مخالفت اور اصلاح کی آرزو سے اہل فرد بھی تہی دامن ہوتے ہیں۔ یہ کام تو عشق ومستی کے حامل افراد کا ہوا کرتا ہے۔بقول غالب:

ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں

پابستگیء رسم و رہِ عام بہت ہے

یہ امر ارباب علم و دانش سے مخفی نہیں کہ علامہ اقبالؒ کی انقلابی، وجد آور اور دلکش شاعری نے اسلامیانِ ہند کی آزادی اور مملکتِ پاکستان کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے بلا مبالغہ برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی اور خودی کی بیداری کے لئے بہت جوش و خروش پیدا کر کے انہیں آتشیں ولولوں کا حامل بنا دیا تھا۔ آزادی کی یہی تڑپ بعد ازاں حصولِ پاکستان کا موثر ترین ذریعہ بن گئی تھی۔علامہ مرحوم و مغفور کو اپنی ان ملت ساز سرگرمیوں اور آتش نوائی کا بخوبی احساس تھا۔ انہوں نے اپنے متعدد اشعار میں اس بات پر فخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انقلابی شاعری سے مردہ دلوں میں حیات نو کے آثار پیدا ہوگئے ہیں چند اشعار بطور ثبوت یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

مری نو اسے ہوئے زندہ عارف و عامی

دیا ہے میں نے انہیں ذوقِ آتش آشامی

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی

اگرچہ تو ہے مثالِ زمانہ کم پیوند

جو کو کنار کے عادی تھے ان غریبوں کو

تری نوا نے دیا ذوقِ جذبہ ہائے بلند

اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو

لاہور سے تاخاکِ بخارا و سمر قند

اس ملی بیداری کے باوجود وہ مسلمانوں کی سست رفتاری ،کاہلی اور کم ہمتی کے شاکی تھے، وہ انہیں بہت کچھ دینے کے لئے بے تاب تھے، مگر وہ انہیں کم حوصلہ خیال کر کے پریشان ہو جاتے تھے۔ اس ایک عظیم انسان نے تن تنہا بہت کچھ کر کے دکھا دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں اپنے جیسے چند اور انقلاب آفریں ساتھی میسر آ جائیں جو ان کے ساتھ مل کر ملت اسلامیہ کو بام عروج پر پہنچا دیں۔ وہ خوش نصیب تھے کہ انہیں قائد اعظم ؒ جیسامخلص،دور اندیش اور بے باک سیاسی لیڈر اور دوست مل گیا۔ جس نے علامہ اقبالؒ کے پیدا کردہ جوشِ آزادی کو صحیح منزل کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ علامہ اقبالؒ کے شعری جوش اور محمد علی جناحؒ کے سیاسی ہوش کے امتزاج حسیں نے اس صدی میں حیرت انگیز معجزہ دکھاتے ہوئے قیامِ پاکستان کوممکن بنادیا۔ علامہ اقبالؒ اس بات کے خواہاں تھے کہ مسلمان ہمیشہ سعیء پیہم، عملِ مسلسل اور مزید تگ و دو کے ذریعے مراحل ترقی طے کرتے رہیں اور وہ کسی ایک مقام پر جاکر نہ رک جائیں۔ ان کے فلسفۂ خودی اور نظریۂ ارتقاء کا یہ تقاضا تھا کہ مسلمان ایک اعلیٰ مقصد کو پانے کے بعد دوسرے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں رہیں۔ جب وہ انہیں سست رو، کاہل اور قناعت پسند دیکھتے تو وہ پریشان ہو جاتے اور اپنے جیسے ہم خیال احباب کی جستجو میں بے قرار ہو جاتے۔ ایسے بلند ہمت، جفا کش، دور اندیش اور انقلاب پسند ساتھیوں کا فقدان ان کے اندر احساس تنہائی پیدا کرنے کا سبب بن جاتا تھا۔ درج ذیل چند اشعار ان کے اس احساس کی شدت کے آئینہ دار ہیں ۔ وہ اپنی تنہائی سے تنگ آکر خدا سے کہتے ہیں:

من کہ بہرِ دیگراں سوزم چو شمع

بزمِ خود را گریہ آموزم چو شمع

دل بہ دوش و دیدہ برفردا ستم

درمیانِ انجمن تنہا ستم

درجہاں یا رب! ندیمِ من کجا ست

نخلِ سینائم، کلیمِ من کجا ست

]مَیں تو دوسروں کی خاطر شمع کی مانند جلتا ہوں اور اپنی بزم کو شمع کی مانند رونا سکھاتا ہوں۔ میرے دل میں تو ماضی ہے اور میری نگاہیں مستقبل پر لگی ہوئی ہیں۔ میں گویا سوسائٹی میں اکیلا پن محسوس کرتا ہوں۔اے اللہ! دُنیا میں میرا ندیم کہاں ہے؟ میں تو نخل سینا کی مانند ہوں مگر میرا کلیم کہاں ہے؟[

وہ اپنے احساسِ تنہائی سے بے زار ہو کر خدا تعالیٰ سے مزید کہتے ہیں:

من مثالِ لالۂ صحرا ستم

درمیانِ محفلے تنہا ستم

خواہم از لطفِ تو یارے ہمدمے

از رموزِ فطرتِ من محرمے

ہمدمے دیوانہء فرزانہء

از خیال ایں و آں بیگانہء

تابجانَ او سپارم ہوئے خویش

باز بینم در دلِ او روئے خویش

میں لالہء صحرا کی مانند ہوں کیونکہ میں محفل میں اپنے آپ کو تنہا خیال کرتا ہوں۔

اے خدا! میں تجھ سے ایک ہمدم اور ساتھی چاہتا ہوں جو میری فطرت کے اسرار سے آگاہ ہو۔

وہ دیوانگی اور فرزانگی کی صفات کا حامل ہو اور وہ دوسروں کے خیالات سے بیگانہ ہو۔

مَیں اپنا جوشِ انقلاب اس کے دل میں منتقل کرکے پھر اپنا چہرہ اس کے دل میں دیکھنے کا آرزو مند ہوں۔

کیا ان اشعار کو پڑھ کر یہ حقیقت نکھر کر ہمارے سامنے نہیں آجاتی کہ علامہ اقبالؒ اپنے آتشیں جذبات، انقلابی خیالات اور انسانیت ساز تصورات کو اپنے ان ساتھیوں کو منتقل کرنے کے خواہشمند تھے جو ان کے نظریات اور اعلیٰ مقاصد کو پایہء تکمیل تک پہنچا سکیں؟ کیا علامہ اقبالؒ کے عقیدت مندوں اور اسلامی نظریہ ء حیات کے علمبرداروں کا یہ اسلامی اور ملی فریضہ نہیں کہ وہ ان کی فکر کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ کی فلاح و بہبود اور ترقی و استحکام کے لئے انتھک کوشش کریں؟ ان کی فکری میراث کی حفاظت ہر ایک پاکستانی مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ حکومتِ پاکستان بھی فرد وقوم کی اصلاح کے لئے اپنے اس محسن اور ہمدردِ قوم مفکر کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو اپنی قومی ترجیحات میں شامل کرے۔ اگر انفرادی اور اجتماعی انداز سے یہ کام جلد از جلد کیا جائے تو پھر معاشرتی حالات بھی سدھر جائیں گے۔ علامہ اقبالؒ شعراء ، مفکرین اور مصلحین کے اس گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو انسانوں کی معاشرتی، ثقافتی اور اخلاقی اصلاح کے لئے انقلابی آہنگ اختیار کرنے کا زبردست حامی تھا۔ انقلاب پسند مصلحین ہمیشہ دوسروں کو اپنی طرح انقلاب آفرین بنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں اپنے مخاطبین کی تساہل پسندی، بے عملی، سست گامی اور آرام طلبی سے نفرت ہوتی ہے۔علامہ اقبالؒ کے دو اہم پیشرو ۔۔۔ مولانا رومؒ اور نطشے بھی جفاکش، بلند ہمت اور انقلابی ساتھیوں کی رفاقت کے طالب تھے۔ اگرچہ رومیؒ اور نطشے دوجداگانہ نظام ہائے فکر اور تصوراتِ حیات کی ترجمانی کرتے تھے تاہم ان کی ایک قدرِ مشترک بلند ہمت ساتھیوں کی جستجو تھی۔علامہ اقبالؒ کی طرح یہ دونوں حضرات بھی اپنے عصری حالات سے چنداں خوش اور مطمئن نہیں تھے۔

ان دونوں انقلابی شخصیات کا یہاں مختصر تذکرہ بے محل نہ ہو گا۔ سب سے پہلے نطشے کا ذکر کیا جاتا ہے۔

جرمنی کے اس مشہور فلسفی اور ’’مجذوبِ فرنگی‘‘ نے اپنے ابنائے وطن کے مروجہ غلط نظامِ فکر اور اہلِ یورپ کے ناصواب اخلاقی نظریات اور سیاسی مزعومات کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ان کے تصورات کی دھجیاں بکھیرنے کا عزم بالجزم کر رکھا تھا، اِس لئے وہاں کے بزدل،کاہل اور تقلید پرست عوام اس کا ساتھ نہ دے سکے۔ ایک طرف عوام کا مذہبی استحصال کرنے والے اہلِ مذہب اس کے سخت مخالف تھے تودوسری طرف زمانہ ساز اہلِ حکمت اس کے فکری انقلاب سے لرزاں و ترساں تھے۔ ان حوصلہ فرسا حالات میں نطشے کو ایسے ہم خیال اور ہم مشرب جاں نثاروں اور بلند ہمت دوستوں کی جستجو تھی جو اس کے رفیقانِ کار بن کر مغرب کے غلط نظریات کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دیں۔ اس ضمن میں نطشے کی اس جستجو سے متعلق اس کے درج ذیل افکار و احساسات ملاحظہ ہوں۔وہ کہتا ہے: ’’مجھے زندہ ساتھیوں کی ضرورت ہے نہ کہ مُردہ ہم صحبتوں اور لاشوں کی جنہیں مَیں ہر جگہ اٹھاتا پھروں۔ مجھ کو زندہ ساتھی درکار ہیں جو میری ہر کہیں اطاعت کر کے خود اپنی ہی اطاعت کریں۔۔۔زرتشت کو عوام الناس کی بجائے اپنے دوستوں سے ہمکلام ہونے دو۔ زرتشت چوپایہ صفت عوام الناس کا چرواہا اور محافظ کتا نہیں بنے گا۔ مَیں العوام کا الانعام میں سے اچھے ساتھی تلاش کرنے کے لئے آیا ہوں۔عمدہ افراد انتخاب کرنے کی بنا پر عام لوگ اور جانور صفت انسانوں کا گروہ مجھ سے ضرور ناراض ہو جائے گا۔۔۔ یہ سب لوگ اپنے آپ کو نیک، انصاف پسند اور صحیح مذہب کے پرستار کہتے ہیں،مگر مَیں تو انہیں عوام الناس کے چرواہے قرار دیتا ہوں‘‘۔

’’قولِ زر تشت‘‘، حص�ۂ اوّل

نطشے کی طرح مولانا جلال الدین رومیؒ بھی عام انسانوں کی حیوانی سطح اور بلند مقاصد سے عاری زندگی کو چوپایوں کی زندگی تصور کرتے تھے، جانوروں کی مانند محض کھانا پینا اور بچے پیدا کر کے مر جانا حیوانی سطح کی زندگی ہی تو ہے۔ جانوروں کی طرح شکم پُری پر قناعت کرنا انسانی عظمت و فضیلت کے منافی ہے۔علامہ اقبالؒ کے روحانی مرشد مولانا رومؒ نے اپنے ’’مرید ہندی‘‘ سے کئی صدیاں پیشتر اپنے دور کے پست ہمت انسانوں سے بے زاری کا یوں اظہار کیا تھا:

دی شیخِ با چراغ ہمے گشت گردِ شہر

کز دام و دَو حلومم و انسانم آر زوست

زین ہمرہانِ سست عناصر دِلم گرفت

شیرِ خدا و رستم دستانم آرزوست

علامہ اقبالؒ کو اپنے مرشد معنوی کے یہ اشعار اتنے پسند آئے کہ انہوں نے انہیں اپنی فارسی تصنیف ’’اسرارِ خودی‘‘ کے آغاز میں جگہ دی ہے۔ ان کی بے تاب روح کو وہ ماحول پسند نہیں تھا، جہاں زندگی، حرکت، عمل، جدوجہد، انقلاب آفرینی اور بلند ہمتی مفقود ہو۔ یہی وجہ تھی وہ اپنے آپ کو تنہا اور خلوت گزین محسوس کرتے رہے۔ کاش ہماری قوم ان کی انقلابی فکر سے کام لے کر اپنے حالات کو سنوارتی اور دُنیا میں مقام رفیع کی حامل ہوتی۔علامہ اقبالؒ نے ہماری بے حسی اور کم ہمتی کو دیکھتے ہوئے درست ہی کہا تھا:

کلی زور نفس سے بھی وہاں گُل ہو نہیں سکتی

جہاں ہر شے ہو محروم تقاضائے خود افزائی

مزید : کالم