لوڈشیڈنگ میں کمی۔۔۔ خوش آئند مگر۔۔۔؟

لوڈشیڈنگ میں کمی۔۔۔ خوش آئند مگر۔۔۔؟

وزیراعظم نواز شریف نے لوڈشیڈنگ میں آدھی کمی کا اعلان کیا ہے،جس کے تحت اب شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تین گھنٹے اور دیہات میں چار گھنٹے ہو گا۔ اِس سے قبل شہروں میں لوڈشیڈنگ، چھ گھنٹے اور دیہات میں آٹھ گھنٹے ہو رہی تھی۔ وزیراعظم کی اس ہدایت پر 8نومبر (منگل) سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے تاہم جن علاقوں کے صارفین بلوں کی ادائیگی نہیں کرتے یا جہاں اس مد میں ریکوری کم ہوتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ پہلے کی طرح ہوتی رہے گی۔ وزیراعظم نے سیکرٹری پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ اِس فیصلے پر پہلے آزمائشی طور پر موثر انداز میں عمل کرایا جائے، اِس وقت بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگا واٹ ہے جسے کم کر کے دوہزار میگا واٹ تک لایا جائے گا اِس مقصد کے حصول کے لئے بجلی پیدا کرنے والے بند پلانٹس کو چلایا جائے گا۔

گرمی کا موسم جا رہا ہے، ائر کنڈیشنز بند ہو چکے ہیں، بجلی کے پنکھے بھی کہیں چل رہے ہیں اور کہیں بند ہیں،اِس لئے بجلی کی کھپت اور طلب کم ہو گئی ہے تاہم شارٹ فال اب بھی موجود ہے جو لوڈشیڈنگ کرنے ہی سے پورا ہو گا،تاہم لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نصف رہ جانے سے بھی عوام بڑی حد تک ریلیف محسوس کریں گے اور اس لحاظ سے وزیراعظم کا فیصلہ لائقِ خیر مقدم ہے۔ البتہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس پروگرام پر سختی سے عملدرآمد بھی کرایا جائے،کیونکہ تجربہ یہ ہے کہ جب کبھی لوڈشیڈنگ کم ہوتی ہے ترسیلی نظام کی مرمت وغیرہ کے نام پر بجلی زیادہ عرصے کے لئے بند رکھی جاتی ہے اور یہ عرصہ بعض اوقات آٹھ آٹھ دس دس گھنٹے تک محیط ہوتا ہے۔ بجلی کی اس طویل بندش کو فنی طور پر لوڈشیڈنگ تو نہیں کہا جاتا،لیکن اس کے اثرات لوگوں کی زندگیوں پر لوڈشیڈنگ سے بھی زیادہ مرتب ہوتے ہیں،کیونکہ شیڈول کے مطابق جو لوڈشیڈنگ ہو رہی ہوتی ہے اُس کے اوقات بھی مقرر ہیں اور لوڈشیڈنگ کا عرصہ بھی متعین ہے،اِس لئے لوگ اپنے تیاری کے شیڈول اس حساب سے طے کر لیتے ہیں،لیکن جو ’’لوڈشیڈنگ‘‘ ترسیلی نظام کی بہتری یا کسی اور وجہ سے کی جاتی ہے بعض اوقات تو اس کا پیشگی اعلان ہوتا ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتا، اور اس کی طوالت بھی بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اکثر شہروں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، بوسیدہ تاروں کو بدلنے کی ضرورت بھی ہے، جہاں بجلی کے تار مکانوں کے اوپر سے گزرتے ہیں وہاں بھی متبادل انتظامات کی ضرورت ہے،کیونکہ جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر ہائی وولٹیج تاروں کے نیچے گھر بنا لئے ہیں اُن کی وجہ سے حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں،اِس لئے مرحلہ وار پروگرام کے تحت ایسے تاروں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔اگر گرمی کے موسم میں تاروں وغیرہ کی تبدیلی کا کام کیا جائے تو طویل بندش سے لوگوں کو بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے اِس لئے بجلی سپلائی کی کمپنیاں عام طور پر یہ عذر کرتی ہیں کہ اگر تاریں تبدیل کرنے کا کام کیا جائے گا، تو لامحالہ بجلی بند کرنا پڑے گی، جس پر لوگ احتجاج کریں گے اِس لئے اس معتدل موسم میں یہ کام کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کے ترسیلی نظام کا باہمی تعلق بڑا قریبی ہے، بجلی کے شارٹ فال کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ایک مقررہ پروگرام کے تحت ہوتی ہے،لیکن جب ترسیلی نظام میں فنی خرابی یا ایسی کسی دوسری وجہ سے بجلی بند ہوتی ہے تو عام طور پر لوگ اسے’’غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ‘‘ سمجھ لیتے ہیں اور یہ مطالبہ سامنے آتا ہے کہ یہ سلسلہ بند کیا جائے،لیکن بجلی کی بندش کو لوڈشیڈنگ کا نام دیا جائے یا کسی اور وجہ سے بجلی بند ہو ،اس سے لوگوں کے معمولات تو متاثر ہوتے ہیں، گرمی کے موسم میں تو گرمی کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے،لیکن جس طرح لوگوں کی زندگیاں اور اُن کا لائف سٹائل بدل رہا ہے اس کی وجہ سے بجلی کی بندش انہیں بُری طرح متاثر کرتی ہے،باقی باتوں کو تو ایک طرف رکھئے کروڑوں لوگ اِس وقت مُلک بھر میں موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، بجلی زیادہ عرصے کیلئے بند ہو جائے تو ان ٹیلی فونوں کی بیٹریاں ہی چارج نہیں ہو پاتیں۔

بتایا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ میں یہ کمی آزمائشی طور پر کی جا رہی ہے اور جن علاقوں کے صارفین بجلی کے بل ادا نہیں کرتے وہاں لوڈشیڈنگ پہلے کی طرح رہے گی گویا کمی کی صورت میں اُن لوگوں کو ’’ریوارڈ‘‘ دیا جا رہا ہے جو بروقت اپنے بلوں کی ادائیگی کر رہے ہیں،لیکن جو لوگ بل ادا نہیں کرتے اُن سے بلوں کی وصولی کا انتظام بھی تو کرنا چاہئے،چند گھنٹے کی زیادہ لوڈشیڈنگ کے بدلے میں اگر انہیں بلوں کی ادائیگی میں سہولت ملتی ہے یا بل ادا نہ کرنے کے باوجود وہ دن میں بارہ چودہ گھنٹوں کے لئے بجلی حاصل کرتے رہتے ہیں، تو یہ کوئی سزا تو نہ ہوئی، بل ادا نہ کرنے والوں کے ساتھ تو قانون کے مطابق سلوک کرنا چاہئے۔ اس وقت مُلک کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں کے صارفین سو فیصد بل ادا کرتے ہیں، اس اصول کے تحت تو پھر ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہونی ہی نہیں چاہئے۔امید ہے بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں اس پہلو کو بھی مدِ نظر رکھیں گی۔

اس وقت مُلک کے اندر بجلی کا جو شارٹ فال ہے اس کی ایک وجہ تو طلب و رسد کا فرق ہے، یعنی بجلی کی ضرورت اور مانگ زیادہ ہے،جبکہ اس کی پیداوار کم ہے۔ حکومت کی جانب سے بار بار اعلان کیا جاتا ہے کہ2018ء میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی،کیونکہ اس وقت طلب کے مطابق بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی،لیکن جس طرح بجلی کے آلات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے اس کی وجہ سے بجلی پر انحصار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ2018ء تک اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو تو ساتھ کے ساتھ طلب بھی بڑھ جائے اور یوں لوڈشیڈنگ کا عذاب بدستور باقی رہے ،اِس لئے ابھی سے ایسا انتظام کرنے کی ضرورت ہے کہ نہ صرف بجلی کا شارٹ فال پورا ہو، بلکہ طلب کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے انتظامات بھی ساتھ ساتھ بہتر ہوتے رہیں۔

وزیراعظم نواز شریف بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ2018ء میں بجلی نہ صرف ضرورت کے مطابق میسر ہو گی، بلکہ سستی بھی ہو گی اس وقت فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر ہر ماہ بجلی کے بلوں میں جو کمی کی جا رہی ہے اُسے مستقل کرنے کی ضرورت ہے اور سستے ذرائع سے بجلی کی پیداوار ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ ہائیڈل بجلی نہ صرف سستی ہے، بلکہ اس سے کوئی آلودگی بھی پیدا نہیں ہوتی، جبکہ تھرمل بجلی کے پلانٹ جس طرح کا ایندھن استعمال کرتے ہیں اس حساب سے آلودگی بھی پھیلاتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی بجلی نسبتاً مہنگی بھی ہوتی ہے (آلودگی نے آج کل ’’سموگ‘‘ کی شکل بھی اختیار کر رکھی ہے)اس طرح آئی پی پیز کے بارے میں یہ شکایت منظر عام پر آئی ہے کہ وہ سپلائی کمپنیوں کو بجلی کی سپلائی میں گھپلا کرتی ہیں جو بل کلیم کیا جاتا ہے اس سے کم مقدار میں بجلی سپلائی کی جاتی ہے۔ یہ شکایت اگر درست ہے تو اس کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بجلی فروخت کرنے والی کمپنیوں کا پاور آڈٹ کیا جائے۔ یہ بھی لوڈشیڈنگ کی ایک وجہ ہو سکتی ہے اسی طرح بجلی چوری ہے، جس کا نام لائن لاسز رکھ دیا گیا ہے، جو کئی علاقوں میں 30فیصد سے بھی زیادہ ہیں، بہت سے علاقے تو ایسے ہیں جہاں بجلی چوری کرنے کے لئے کھلے عام کنڈے ڈالے گئے ہیں،لیکن متعلقہ حکام اس کا سدِ باب نہیں کر سکے، جب تک بجلی کی سپلائی میں ہر قسم کی چوری نہیں روکی جائے گی،لوڈشیڈنگ کسی نہ کسی انداز میں ہوتی رہے گی۔ ایک خیال تو یہ بھی ہے کہ مُلک میں ضرورت کے مطابق بجلی موجود ہے، لوڈشیڈنگ صرف اس وجہ سے کرنا پڑتی ہے کہ بڑے بڑے صارفین نے وسیع پیمانے پر بجلی چوری کے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں، جن میں کمپنیوں کا عملہ بھی ملوث ہے۔ ان تمام شکایات پر توجہ دے کر لوڈشیڈنگ سے مستقل نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزید : اداریہ