بلاول بھٹو زرداری نے اندرون سندھ کامیاب شو آف پاور کیا

بلاول بھٹو زرداری نے اندرون سندھ کامیاب شو آف پاور کیا

کراچی کے بعد اندرون سندھ ڈہرکی کے مقام پر پیپلزپارٹی کے جواں سال اور جواں عزم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شو آف پاور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ میں بالائی سندھ کے اضلاع جیکب آباد، لاڑکانہ، شکار پور، سکھر اور خیر پور سے بڑی تعداد میں کارکن شرکت کے لئے آئے تھے، جلسہ ہندو برادری کی عبادت گاہ سے متصل چار دیواری کے اندر ایک بڑے احاطے میں ہوا ،جہاں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی نے اخبارات میں بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلائی تھی۔ بالائی سندھ میں جلسہ عام سے بلاول بھٹو زرداری کا یہ پہلا خطاب تھا۔ حاضری کے دعوؤں سے قطع نظر یہ ایک کامیاب شو تھا۔ ضلع گھوٹکی کے بااثر تمام ہی قبائل، جن میں میہڑ، لُنڈ، جام، دھاریجو اور دیگر تمام چھوٹے بڑے بااثر گروپ حکومتی چھتری تلے ایک پیچ پر ہیں تاہم ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ2016ء میں2018ء کے عام انتخاب کے لئے بلاول بھٹو زرداری کی جارحانہ انتخابی مہم کا انداز پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کی طرح چاروں صوبوں کی مقبول عام پارٹی بنانے میں کتنا کارگر ہو گا؟اس حقیقت سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا، سندھ میں پیپلزپارٹی کی بدترین خراب حکمرانی کے باوجود اس وقت بھی مضبوط ووٹ بنک بدستور موجود ہے، مگر بلاول بھٹو زرداری کو اصل چیلنج جو درپیش ہے وہ ہے پیپلزپارٹی کو سندھ میں قومی جماعت بنانے کا، جو بدقسمتی سے اس وقت دیہی سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کی بھی مقبول عام جماعت تھی کراچی سمیت، حیدر آباد، میر پور خاص، سکھر، شکار پور، جیکب آباد، لاڑکانہ میں مقیم غیر سندھی بولنے والوں نے بھی بڑی تعداد میں ووٹ پیپلزپارٹی کو دیئے تھے۔ تاہم1970ء میں بھٹو کا پاور بیس پنجاب تھا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت سقوط ڈھاکہ کے بعد پیرپگارو سے بغاوت کر کے اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ جام صادق کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کے بعد ہوئی تھی۔ 1988ء کے عام انتخابات سے اب تک پیپلز پارٹی کا ’’پاور بیس‘‘ سندھ ہے۔ 1988ء، 1993ء اور 2008ء کے انتخابات کے بعد مرکز میں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومتیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی اکثریت کی مرہون منت رہی ہیں۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی وزارتِ اعلیٰ میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ سندھ کی سیاست کی خرابی کی اصل جڑ دیہی سندھ اور شہری سندھ کے درمیان موجود خلیج کو پاٹنے کی شعوری کوشش کریں گے جس کا انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد اعلان بھی کیا تھا، مگر بدقسمتی سے ان سے یہ توقع دم توڑتی نظر آ رہی ہے وہ خرابی کی اصل جڑ ختم ہونے کی طرف پیش قدمی کرنے کے لئے ’’میرٹ‘‘ کا قتل عام روکنے کے اقدام بھی نہیں کر پائے، بلکہ نئی سرکاری بھرتیوں کے لئے بھی وہی گھِسا پٹا پرانا طریقہ کار اپنایا جائے گا، جس میں بندر بانٹ کے سوا کچھ اور نہیں ہو گا، جس نے سندھ کو دیہی سندھ اور شہری سندھ کی دو اکائیوں میں بانٹ رکھا ہے جناب سید مراد علی شاہ کی حکومت سے میرٹ کی بحالی کی توقع بھی ختم ہو رہی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث اور اس کی آگ بھڑکانے والے دونوں طرف کے فتنہ پردازوں کو قانون کے شکنجے میں کسنے میں بھی ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں اہل تشیع اور اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے13شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں طرف کے ٹارگٹ کلرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تو میڈیا کو سرکاری ذرائع سے فراہم کرنے والی اطلاعات نے یہ تاثر گہرا کیا کہ اب فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں کسنے کے لئے کسی سیاسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا،مگر اب یہ تاثر ختم ہو رہا ہے جو سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کے لئے2018ء کے عام انتخاب میں نقصان کا باعث بنے گا۔

اس نامہ نگار نے ہمیشہ شعوری طور پر لکھتے وقت آئین قانون اور صحافتی ضابطہ اخلاق کے تحت عائد پابندی کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے کہ تحریر میں کسی دہشت گرد اور اس کے سہولت کاروں کی حمایت میں ایک لفظ بھی شامل نہ ہو، مگر ایک نامہ نگار کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ زمینی حقائق سے چشم پوشی نہ کرے۔ حالیہ چند دِنوں میں شہر کراچی میں جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے اس نے کراچی میں امن کی بحالی کے لئے جاری آپریشن کو نہ صرف خطرہ سے دوچار کر دیا ہے، بلکہ کارکردگی پر بھی کئی سنجیدہ سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں اور یہ حقیقت بھی طشت ازبام کر دی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے ساتھ وفاق اور سندھ حکومت کے اشتراک سے رینجرز اور پولیس کے مشترکہ تین سالہ آپریشن کے باوجود کراچی کی گنجان آبادیوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔

پیر کے دن سندھ کے وزیراعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں فوج کے جوانوں، سیکیورٹی اہلکاروں، امام بارگاہوں پر حملے اور معروف قوال امجد صابری کے اندوہناک قتل میں ملوث کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے (نعیم بخاری گروپ) کے دو خطرناک ٹارگٹ کلرز اسحاق عرف بوبی اور عاصم عرف کیپری جو ماہر نشانہ باز ہیں، کی لیاقت آباد سے گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ایس پی راجہ عمر خطاب کی ٹیم نے انٹیلی جنس اطلاعات پر اتوار اور پیر کی شب کی ہے۔ یہاں یہ ذکر نامناسب نہیں ہو گا عاصم عرف کیپری قبل ازیں 2013ء میں بھی اسی طرح کے الزامات میں گرفتار ہوا۔ کمزور تفتیش کی وجہ سے سکھر جیل سے رہا ہو گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ غلط اور کمزور تفتیش کا فائدہ اُٹھا کر رہائی پانے میں کامیاب بھی ہو گیا تو اس کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی؟ کہ وہ دوبارہ قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھنے میں کامیاب نہ ہوتا؟ اور اب کیا ضمانت ہے کہ کیس میں قانونی سقم نہیں چھوڑ دیئے جائیں گے؟یہ معاملہ کالعدم ’’سپاہ صحابہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے گروپوں کا ہی نہیں ہے،بلکہ کالعدم ’’سپاہ محمد‘‘ کے ٹارگٹ کلرز کا اور ان کے سہولت کار مقدمات میں قانونی سقم کے باعث عدالتوں میں ملزم سے مجرم ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک نہیں بہت سے واقعات ہیں اس کی دوسری وجہ حکومتوں کا سیاسی مصلحتوں کے سامنے دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے دباؤ میں آنا بھی ہے اس کی بڑی مثال سید قائم علی شاہ کے دورِ حکومت میں اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ناظم کراچی سید مصطفےٰ کمال کی نظامت کے دور میں یوم عاشورہ کے دن ایم اے جناح روڈ پر ماتھی جلوس پر دہشت گردی میں ملوث لوگوں کی گرفتاری سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی تھی۔ اس سانحہ میں ملوث ملزموں کے چہرے صاف تھے جو دہشت گردی کی واردات کے وقت جدید اسلحہ سے بھی لیس تھے اور لوٹ مار کے لئے دکانوں کے تالے توڑ نے کے سارے لوازمات سے بھی۔ قانون نافذ کرنے والوں نے واردات میں ملوث تمام ملزموں کو سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے گرفتار تو کر لیا تھا، مگر مجلس وحدت المسلمین کے احتجاج کے دباؤ پر کارروائی کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا اور حکومت جنگجوؤں کے دباؤ کے سامنے ڈھیر ہو گئی تھی۔ یہی کچھ مشرف دورِ حکومت میں نشتر پارک کے سانحہ میں عید میلاد النبیؐ کی تقریب پر دہشت گردی میں ملوث ملزموں کو بچانے میں کارگر ہوا۔ کسی کو اس سے اتفاق ہو یا اختلاف یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے فرقہ پرستوں اور فتنہ پردازوں کی حمایت میں دیو بندی مسلک کے ماننے والے ہوں یا بریلوی مسلک کے ماننے والے،یا اہلِ حدیث مسلک کے ماننے والے ہوں ان کی حمایت سے ان کے اہلِ علم اور عام پیرو کار لاتعلق رہتے ہیں جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ یہی روش اہل تشیع کے اہل علم اور عام پیرو کاروں کو بھی اختیار کرنا پڑے گی۔ تب ہی ہم فرقہ واریت کے ’’اژدھے‘‘ کو اپنے گلی محلوں میں موت کی نیند سلانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں مجموعی طور پر ہمیشہ عوام کی سطح پر مسلک کی بنیاد پر ایک مسلک کے ماننے والے دوسرے مسلک کے ماننے والوں سے نفرت اور دشمنی نہیں رکھتے، جب بھی فرقہ پرستی کی آگ بھڑکائی گئی اس کے پشت بان اس ملک کے طاقتور اور بااثر طبقات ہی پائے گئے یا ان کے خارجی سرپرست۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح ریاست پاکستان نے ’’ہمہ اقسام‘‘ اسلحہ برادروں اور ان کے سہولت کاروں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کر کے ضربِ عضب آپریشن شروع کر رکھا ہے۔اسی طرح لازم ہے کہ مُلک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنی صفوں سے مسلک اور فرقہ کی بنیاد پر دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں ملوث ہمہ اقسام کے مسلح گروہوں اور ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں کسنے پر اتفاق کا میثاق کریں۔ سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں کی ہے، بدقسمتی سے سید مراد علی شاہ کی حکومت نے پیر کے روز اپنے سرپرستوں اور سہولت کاروں کی حمایت میں ریلوے لائن اور نیشنل ہائی وے بند کر کے شہری زندگی کو مفلوج کرنے والوں کے دباؤ میں آ کر جو پسپائی اختیار کی ہے، اس نے کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کیا۔

مزید : ایڈیشن 2