طور خم سرحد پر اہل کاروں کی تعداد بڑھادی گئی

طور خم سرحد پر اہل کاروں کی تعداد بڑھادی گئی

خیبر ایجنسی ( عمران شنواری )

طورخم بارڈر پر تعینات سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی نفری گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھا دی گئی ہے( جن میں مختلف خفیہ اداروں کے علاوہ خاصہ دار فورس ، لیوی فورس، ایف سی ، کسٹم عملہ اور این ایل سی کے حکام اور اہلکار شامل ہیں) تاکہ افغانستان سے طورخم کے راستے کوئی شرپسند پاکستان کی حدود میں داخل نہ ہو سکے اور نہ ہی کوئی سونا، بیرونی کرنسی، دیگر سخت ممنوعہ اشیاء اور یوریا اسمگل کر سکے اور یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر سرکاری حکام نے طورخم بارڈر پر افغان شہریوں کو اس بات کا پابند بنانے کا فیصلہ کیا کہ کوئی بھی افغان شہری بغیر قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہوگا جس پر سختی سے عمل درآمد ہورہاہے طورخم بارڈر پر سیکیورٹی خدشات کی بناء پر چھوٹے پیمانے پر معمولی سامان افغانستان سے پاکستان لانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جو کہ سیکیورٹی بہتر بنانے کے حوالے سے تو ایک اچھا اقدام ہے تاہم اس فیصلے سے مقامی تاجروں اور کاروباری حضرات خصوصاً مزدورں کو کافی مشکلات کا سامان کرنا پڑا ہے جن کا مؤقف ہے کہ صدیوں سے مقامی قبائلی عوام طورخم کے راستے معمولی سامان لا کر اپنے گھروں کے چولہے گرم رکھا کرتے تھے جبکہ اب طورخم سرحد پر بارڈر منیجمنٹ کی صورت میں سختی کرنے اور سامان لانے پر پابندی سے وہ فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں اور ہزاروں مزدور دو وقت کی روٹی سے محروم کر دےئے گئے ہیں طورخم بارڈر منیجمنٹ کی روشنی میں قریب رہنے والے افغانوں کے لئے راہداری پاس جاری کرنے کی بھی پالیسی اختیار کی گئی ہے اور اب تک ہزاروں افغانوں کو راہداری پاس جاری کر دےئے گئے ہیں اور ان کے آنے جانے کے لئے ایک بہتر سہولت مہیا کر دی گئی ہے اورافغانستان کے دیگر دور دراز کے علاقوں کے باسیوں پر پاسپورٹ اور ویزے کی شرط لاگو کر دی گئی ہے۔

گزشتہ دو ہفتے کے دوران خاصہ دار فورس کے اہلکاروں اور کسٹم عملے نے سگلروں کی طرف سے سونا ، یوریا اور بیرونی کرنسی سمگل کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی طورخم بارڈر پر سرکاری اداروں کے مابین مقابلے کے رجحان نے مختلف ممنوعہ اشیاء افغانستان یا پاکستان اسمگل کروانے کی کوششوں اور منصوبہ بندی پر پانی پھیر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پشاور میں بیٹھے بڑے بڑے اسمگلرز اپنے ایجنٹوں اور کمیشن کاروں کے ذریعے طورخم بارڈر کے راستے ممنوعہ اشیاء اسمگل کروانے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کرنے لگے ہیں گز شتہ روزپولیٹیکل انتظامیہ طورخم نے پاکستان سے افغانستان جانے والے افغان شہری محمداگل سکنہ ننگرہار افغانستان سے تھیلے چیکنگ کے دوران پولیٹکل انتظامیہ کے پوسٹ کمانڈرجاوید شلمانی نے کامیاب کاروائی کی جس کی وجہ سے 1825گرام سونا اور 665000ہزار ریال برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ دوسری کاروائی میں افغان مہاجرین کے واپس جانے والے ٹرک سے تین عدد موٹر سائیکل برآمد کر کے چالان کر دےئے ہیں مذکورہ موٹر سائیکل غیر قانونی انداز میں سمگل کئے جا رہے تھے کسٹم سپرنٹنڈنٹ نعیم خان نے میڈیا کو بتا یا کہ ان ٹرالروں میں بظاہر افغان مہاجرین کے خاندانوں کا گھریلو سامان کم مقدار میں لدا ہواتھا جبکہ سامان کے نیچے یوریاکی بو ریاں تھیں جنہیں طورخم گیٹ کے راستے افغانستان سمگل کر نے کی کوشش کر رہا تھا انہوں نے کہاکہ ٹرالرز میں کم مقدارمیں گھریلو سامان سمیت مکانات تعمیر کرنے والا میٹریل موجودتھاانہوں نے کہا کہ یوریا کو قبضہ میں لے کر کسٹم ہاوس پہنچا دیا گیا ہے۔ اداروں کی چستی اور کڑی نگرانی نے اسمگلروں کے اوسان خطاء کر دےئے ہیں واضح رہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل اسمگلروں نے افغان مہاجرین کو افغانستان واپس لے جانے والے ٹرکوں میں جانوروں ، ماربل ٹائلز، رکشے اور موٹر سائیکلوں وغیرہ کو افغانستان سمگل کروانے کادہندہ شروع کر دیا تھا جس کا نوٹس لیتے ہو ئے اعلیٰ حکام نے افغان مہاجرین کے ٹرکوں میں اسمگلنگ کی سختی سے روک تھام کر دی ہے تاہم طورخم میں مہاجرین کی واپسی کے پوائنٹ پر متعین پوسٹ کمانڈروں کی بھی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ مہاجرین لے جانے والے ٹرکوں کے ڈرائیوروں سے رشوت نہ لے سکے ۔

مزید : ایڈیشن 2