نیوز گیٹ سکینڈل کی تحقیقات ، تحریک انصاف ، پی پی پی اور عوامی تحریک نے قائم انکوائری کمیٹی مسترد کردی

نیوز گیٹ سکینڈل کی تحقیقات ، تحریک انصاف ، پی پی پی اور عوامی تحریک نے قائم ...

اسلام آباد ( خصو صی رپورٹ) تحریک انصاف نے قومی سلامتی کے حوالے سے خبر کی تحقیقات کے لئے قائم کمیٹی کو مسترد کر دیا۔ عمران خان کہتے ہیں عامر رضا کی بطور سربراہ تعیناتی آزادانہ اور شفاف تحقیقات پر سوالیہ نشان ہے۔ سپریم کورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے۔عمران خان نے کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) عامر رضا کے شریف خاندان کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔ ان کی بطور کمیٹی سربراہ تعیناتی آزادانہ اور شفاف تحقیقات پر سوالیہ نشان ہے۔ سپریم کورٹ کے سینیئر جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے اور انکوائری کے لئے مدت کا تعین کیا جائے۔ پی ٹی آئی کپتان نے سوال اٹھایا کہ چوہدری نثار نے دعوی کیا تھا کہ انہیں معلوم ہے خبر کہاں سے اور کیسے لیک ہوئی اگر وزیر داخلہ کے پاس ثبوت ہیں تو کمیٹی کے قیام کی کیا ضرورت ہے

تحریک انصاف

اسلام آباد (خصو صی رپورٹ) پیپلزپارٹی اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی نیوز لیکس پر حکومت کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وزیر اطلاعات کو فارغ کرکے ثابت کردیا کہ سیکیورٹی لیکس میں حکومت کی کوتاہی اور حکومتی افراد ہی ملوث ہیں، یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ انگریزی اخبارنے خبر لگانے سے پہلے ایک سینئر وزیر سے خبر کی تصدیق کی، اگر حکومت اس معاملے پرسنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن سے ججز کے نام مانگے جاتے لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت ایسے اقدامات کیوں اٹھاتی ہے جس پر سوال اٹھتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ کمیشن کے لیے جس جج جسٹس رضا کا نام دیا گیا اس کی بیٹی شریف کالج میں وائس پرنسپل ہے اس لیے اس کمیشن کو کوئی بھی جماعت ماننے کو تیار نہیں جب کہ حکومتی کمیشن آئی واش کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ جوڈیشل کمیشن اس بات کو جھٹلائے گا کہ وزیرفارغ ہوا اور رپورٹر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک نے بھی کمیٹی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں کمیٹی کے سربراہ کی اہلیت اور اِس کمیٹی کے دائرہ کار کے بارے میں اعتراض کیا گیا ہے۔ عوامی تحریک کے وکیل اشتیاق چوہدری کا کہنا ہیکہ 1962 کے تحفظ پاکستان ایکٹ کے مطابق اِس معاملے کی تحقیقات سول ادارے نہیں بلکہ افواج پاکستان کر سکتی ہے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اْٹھایا گیا کہ پنجاب حکومت کے ملازم اور تنخواہ یافتہ شخص سے کیسے یہ اْمید کی جا سکتی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف کوئی کام کرے گا۔

مزید : صفحہ اول