بارہمولہ جیل میں سیاسی نظربندوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک اور ظلم و تشدد کی شدید مذمت

بارہمولہ جیل میں سیاسی نظربندوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک اور ظلم و تشدد کی شدید ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں تحریک حریت جموں وکشمیر نے بارہمولہ سب جیل میں نظربند سیاسی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ جیل انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے روا رکھے جانیوالے بہیمانہ سلوک اورظلم تشدد کی شدید مذمت کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جیل کی سپر نٹنڈنٹ مخصوص فرقہ پرست ذہنیت کی مالک ہے اور جہاں بھی وہ ڈیوٹی پر مامور رہی اس نے نظربندوں سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب وہ بارہمولہ سب جیل میں کشمیری نظربندوں کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔

بیان میں کہاگیا کہ جیل انتظامیہ نے تحریک حریت کے بزرگ لیڈر 80سالہ غلام مصطفیٰ وانی ریٹائیرڈ ٹیچر پر تشدد کروانے میں بھی کوئی عار اور شرم محسوس نہیں کی۔ پولیس تشدد سے غلام مصطفیٰ وانی کا بازو ٹوٹ گیاہے جبکہ معراج الدین نندہ، جاوید احمد ڈار، عاشق حسین میر، فیصل احمد میر، نثار احمد بھی شدیدزخمی ہوگئے ہیں اور اب ان نظربندوں کوپیشہ ور مجرموں کی طرح لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔ تحریک حریت نے بارہمولہ سب جیل میں نظربندوں کی حالت زار پرشدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں بند افراد تحریک اور قوم کا سرمایہ ہیں ان کی عزت ووقار اور حقوق کو مجروح کرنے کی بھارتی استعمار کو اجازت نہیں دی سکتی ۔ ادھرحریت رہنماء شبیر احمد ڈار نے بھی ایک بیان میں کہاہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین او رجینوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگین جرائم کا ارتکاب کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے قیدیوں سے متعلق ادارے کو فی الفورکشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد بند کرانے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بارہمولہ جیل میں نظربند حریت پسندوں کو علاج معالجے کی سہولیات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے خبردار کیاکہ اگر کیس نظربند کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔

مزید : عالمی منظر