اسرائیل کا مشرق وسطیٰ امن کانفرنس میں شرکت سے انکار

اسرائیل کا مشرق وسطیٰ امن کانفرنس میں شرکت سے انکار

مقبوضہ بیت المقدس(آن لائن)اسرائیلی حکومت نے باضابطہ طور پر رواں سال کے اختتام سے قبل مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ یہ کانفرنس فرانس کی کوششوں سے منعقد کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں مگر صہیونی ریاست کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ماضی کی دیگر امن مساعی کی طرح اس کانفرنس کے بے نتیجہ ختم ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر یعقوب نجال اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے وکیل اسحاق مولخو نے فرانسیسی امن مندوب کو مطلع کیا ہے کہ تل ابیب فلسطین۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے لیے پیرس کی کوششوں سے منعقد کی جانے والی امن کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔خیال رہے کہ فرانس نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار براہ راست مذاکرات بحال کرنے میں مدد دینے کو تیار ہے۔ اس سلسلے فرانس ایک امن کانفرنس پہلے بھی منعقد کرچکا ہے۔ جب کہ ایک امن کانفرنس آئندہ ہفتوں کے دوران متوقع ہے۔فرانس کے امن مندوب برائے مشرق وسطیٰ پییر فیمونٹ نے اتوار کو اسرائیل کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں کے بعد کل سوموار کو فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ان کے ہیڈ کواٹر رام اللہ میں ملاقات کی۔تل ابین میں قائم ایک غیر سرکاری ادارے انسٹیٹیوٹ آف نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی امن مندوب نے کہا کہ امریکا، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس پرمشتمل گروپ چار مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔بعد ازاں اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے فیمونٹ نے کہا کہ فرانسیسی اقدام کا مقصد مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوششوں کو مذاکرات کیایجنڈے میں شامل کرنا ہے۔خیال رہے کہ بین الاقوامی چار رکنی کمیٹی نے سنہ 2003ء4 میں اسرائیل کے پہلو میں ایک آزاد اور مکمل طور پر خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی اور اس مقصد کے لیے امن کوششوں کا بھی آغاز کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے ہیں مگر ان میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

فریقین میں راست مذاکرات کا سلسلہ اپریل 2014ء کے بعد سے تعطل کا شکار ہے۔ بات چیت اس وقت معطل ہوگئی تھی جب اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری جاری رکھنے اور جیلوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں کی رہائی سے انکار کردیا تھا۔

مزید : عالمی منظر