بجلی اور گیس کے بلوں میں ادا کردہ سیلز ٹیکس کی ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں دوبارہ وصولی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو نوٹس

بجلی اور گیس کے بلوں میں ادا کردہ سیلز ٹیکس کی ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے بجلی اور گیس کے بلوں میں ادا کردہ سیلز ٹیکس کی ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں دوبارہ وصولی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو 28نومبر کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔جس میں یوٹیلٹی بلوں میں ادا کردہ کردہ سیلز ٹیکس کی ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں وصول کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزار لاہور ٹیکس بار کے وکیل اور صدر فرحان شہزاد نے دلائل میں کہا کہ قوانین کے تحت ادا شدہ سیلز ٹیکس کو دوبارہ وصول نہیں کیا جا سکتا۔وکیل کے مطابق ایف بی آ ر نے جانب سے کمپیوٹرائزڈ سیلز ٹیکس کی اینٹری کو لاک کر دیا گیا ہے جس سے بجلی اور گیس کے بلوں سے کاٹے جانے والے سیلز ٹیکس کو ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں شامل کرلیا گیا۔ وکیل نے بتایا کہ ایف بی آ ر کے اس اقدام سے شہری دوہرا سیلز ٹیکس دینے پر مجبور ہوگئے ہیں اور حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی ہے کیونکہ شہریوں سے دوہرا ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا۔ ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے استدعا کی کہ یوٹیلٹی بلوں میں ادا کردہ کردہ سیلز ٹیکس کی ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں وصولی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر