پی سی بی پاکستان سپر لیگ کو پرائیویٹ کمپنی بنانے کی منظوری دیدی

پی سی بی پاکستان سپر لیگ کو پرائیویٹ کمپنی بنانے کی منظوری دیدی

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پی سی بی گورننگ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنائے جانے کی منظوری دیدی اور ایس ای سی پی کی منظور ی کے بعد اس کا باضابطہ قیام عمل میں آجائے گا ۔نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں پی سی بی گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد قذافی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہر یار خان اور پی سی بی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے میڈیا کو بتایا کہ کمپنی پی سی بی کی نگرانی میں کام کرے گی ۔کمپنی کے پانچ ڈائریکٹر ہوں گے جس میں تین کا تعلق پی سی بی سے اور دو کا تعلق پرائیوٹ سیکٹر سے ہوگا ۔پی سی بی کی طرف سے نجم سیٹھی ،منصور خان اور شکیل شیخ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے عارف حبیب اور ضیاء رضوی ہوں گے جبکہ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور سی ایف او نان ووٹنگ ممبر ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ کمپنی کا چیئرمین ممبران میں سے ہوگا ۔پی سی بی کے تین ڈائریکٹر ہونے کی وجہ سے پی سی بی کو فیصلوں کا اختیار ہوگا اور منافع بھی پی سی بی کو ہی ملے گا ۔پرائیویٹ کمپنی بننے کے بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز قوائد و ضوابط کو تشکیل دیں گے ۔کمپنی کے معاملات کو شفاف رکھنے کے لئے اس کا باقاعدہ آڈٹ ہوگا ۔چیئرمین پی سی بی شہر یار خان اور نجم سیٹھی نے کہاکہ انڈین پریمئر لیگ کے بارے میں جو خامیاں سامنے آئی تھیں ان خامیوں کو مد نظر رکھ کر پاکستان سپر لیگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی تشکیل ہوگی ۔نجم سیٹھی نے کہاکہ ہماری پوری کوشش ہے کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہو اور اس سلسلہ میں سیکورٹی کے معاملات کے لئے پنجاب حکومت سے رابطہ میں ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے بتایا کہ انہوں نے آئی سی سی کے گزشتہ اجلاس شرکت کی تھی اور اجلاس میں آئی سی سی کو بتایا تھاکہ بگ تھری کو جوائن کرنے میں بھارت کے ساتھ چھ سیریز کھیلنے کی کا ایم او یو بھی شامل تھا اور یہ بائی لیٹرل سیریز نہیں بلکہ آئی سی سی کی وجہ سے یہ ٹرائی لیٹرل سیریز تھی۔آئی سی سی اس معاہدے میں شامل ہے اور آئی سی سی کو اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت ہمارے ساتھ سیریز نہیں کھیل رہا اور اس نقصان کا آئی سی سی ازالہ کرے جس پر آئی سی سی نے نقصان کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور جائیز کلارک اس بارے میں معاملات طے کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اجلاس میں بھارت کی طرف سے آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کے بارے میں دیئے گئے بیانات کے بارے میں بات کی گئی تو آئی سی سی نے کہاکہ ہم کمیٹی بنادیتے ہیں تو ہم نے جواب دیا کہ کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے اگر بھارت آئی سی سی ایونٹ میں نہیں کھیلتا تو ہمیں پوائنٹس دیئے جائیں اور اس بارے میں مثالیں اور قوائد موجود ہیں نجم سیٹھی نے کہا کہ دنیا کے جتنے بھی بورڈز ہیں وہ سب پرائیوٹ ہیں اس لئے پی ایس ایل کمپنی کو بھی پرائیوٹ کرنے کی ضرورت پڑی، پی ایس ایل کمپنی میں ووٹنگ رائٹ پی سی بی ارکان کو حاصل ہوگا جب کہ پی ایس ایل سے حاصل ہونے والا منافع پی سی بی کی بھی ملکیت ہوگا۔چیئرمین پی ایس ایل کا کہنا تھا کہ بھارت سے سیریز نہ ہونے پر کرکٹ بورڈ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس پر آئی سی سی کو کہا کہ بھارت کے نہ کھیلنے سے ہمارا نقصان کون پورا کرے گا جس پر آئی سی سی کی جانب سے گرانٹ یا قرضے کی آفر کی گئی جسے قبول نہیں کیا جب کہ آئی سی سی نے اس موقف پر کمیٹی بنانے کی بات کی جسے ہم نے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کے سربراہ نوراگ ٹھاکر سے دو ٹوک الفاظ میں پوچھا کہ ہمارے ساتھ کھیلنا ہے یا نہیں، اگر نہیں کھیلنا تو آئی سی سی ایونٹ میں بھارت کے خلاف میچ کے پوائنٹس ہمیں ملیں گے جس کے بعد انوراگ ٹھاکر سے آفیشل بیان دینے کا کہا تو وہ خاموش رہے ۔اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری ،چیئرمینز ،ڈومیسٹک کرکٹ کمیٹی ،گیم ڈویلپمنٹ کمیٹی،ایچ آر کمیٹی،آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ اور پاکستا ن سپر لیگ کے معاملات کی تازہ ترین صورتحال ،سکول کرکٹ ،اور پی سی بی کے الیکشن قوائد میں تبدیلی اور دیگر معاملات پر بھی بحث کی گئی ۔چیئرمین نے بتایا کہ پی سی بی تین ریجنز فاٹا ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر خصوصی توجہ دے گی ۔حفیظ کاردار کپ کے بارے میں بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ۔پی سی بی کے چیئرمین نے بتایا کہ انگلینڈ میں ان کے دل کے آپریشن پر ہونے والے اخراجات کی منظوری پی سی بی گورننگ بورڈ نے دیدی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پی سی بی کے عہدیدران نائلہ بھٹی ،ایزد سید اور عثمان واہلہ میں سے نائلہ بھٹی اور ایزد سید نے اپنی ڈگریاں جمع کروادی ہیں جبکہ عثمان واہلہ نے کچھ وقت مانگا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر