اراضی ریکارڈ کیلئے ورلڈ بینک کے جاری کردہ فنڈز میں کروڑوں کا غبن

اراضی ریکارڈ کیلئے ورلڈ بینک کے جاری کردہ فنڈز میں کروڑوں کا غبن

لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو کے شعبہ لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی انتظامیہ کی جانب سے ورلڈ بینک کے فنڈز سے صوبے بھر میں تعمیر کئے جانے والے 143اراضی ریکارڈ سنٹرز کی تعمیرات میں بلین روپے کے غبن کا انکشاف ،لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے شعبہ (پرکیورمنٹ)اور انجینئرنگ کے سٹاف کی مبینہ غفلت ،لاپرواہی اور بدنیتی کے سبب کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی اے جی آفس کی جانب سے نکالے جانے والے آڈٹ پیرا کو کلیئر نہ کیا جاسکا بلکہ آڈٹ پیرا کی فائل کاغذی کارروائی کرتے ہوئے الماریوں کی زینت بنا دی گئی تو دوسری جانب آڈٹ پیروں کی کلیئرنس میں ناکامی کی صورت میں اربوں روپے کی ریکوری کی تلوار بھی انتظامیہ کی گردن پر لٹکنے لگی۔ذرائع سے مزید معلوم ہوا ہے کہ بورڈ آف ریونیو کے شعبہ ایل آر ایم آئی ایس کی جانب سے صوبے بھر میں 143اراضی ریکارڈ سنٹرز کی تعمیرات کی گئیں جو کہ 2007سے لے کر 2015تک وقفے وقفے سے جاری رہی ،مبینہ طور پر ملنے والی معلومات کے مطابق اے جی آفس کی جانب سے کئے جانے والے آڈٹس میں سے 60سے زائد آڈٹ پیرے نکالے گئے ہیں جن میں سنگین قسم کی غلطی ،بے ضابطگیوں ،فنڈز کے ناجائز استعمال اور ناقص غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی ناصرف نشاندہی کی گئی ہے بلکہ اس حوالے سے تحریری جواب بھی آڈٹ پیرے کی صورت میں مانگ لیا ہے تاہم لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے شعبہ (پراکیورمنٹ )پرچیزنگ اور انجینئرنگ کے سٹاف و افسران کی مبینہ غفلت ،لاپرواہی ،بدنیتی اور عدم دلچسپی کے باعث آڈٹ پیرے ردی کی ٹوکری کی نذر ہو چکے ہیں۔ اے جی آفس کی جانب سے اس حوالے سے متعدد بار تحریری طور پر آڈٹ پیروں کی کلیئرنس کا کہا گیا ،تمام انتظامی افسران کو بھی اس حوالے باخبر کیا مگر شعبہ پراکیورمنٹ اور انجینئرنگ ونگ ٹس سے مس نہ ہوا ،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اگر بروقت ان آڈٹ پیروں کا سدباب نہ کیاگیا تو ورلڈ بینک اربوں روپے کی ریکوری کا مطالبہ کرے گا اور پنجاب حکومت سمیت بورڈ آف ریونیو ادارے کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو گی ،نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض افسران کا کہنا تھا کہ اراضی سروس سنٹرز کی تعمیرات کے دوران دیئے جانے والے ٹھیکوں،تعمیراتی میٹریل کی خریدو فروخت میں کروڑوں روپے کے غبن اور خورد برد کی گئی ہے اور قومی احتساب بیورو یا محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب اینٹی کرپشن کے شعبہ ٹیکنکل اس کی انکوائری شروع کر دے تو بڑے پیمانے پر ہونے والی جعلسازی بے نقاب ہو جائے گی اس حوالے سے انجینئرنگ ونگ کے سول انجینئر حسین عباس کا کہنا تھا کہ آڈٹ پیروں کی کلیئرنس کی ذمہ داری آڈٹس اینڈ اکاؤنٹس کی ہے اور اس حوالے سے جو فیصلے کئے جاتے ہیں وہ مینجمنٹ کے ہوتے ہیں یہ بڑی سطح کے کام ہیں اس میں ہمارا کوئی عمل دخل اور ذمہ داری نہ ہوتی ہے اسی طرح شعبہ پرکیورمنٹ کے انچارج عاصم شفیق نے بھی الزامات کی تردید کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر