بلاک شناختی کارڈ کی ویری فیکشن کیلئے دو ماہ کی مدت مقرر

بلاک شناختی کارڈ کی ویری فیکشن کیلئے دو ماہ کی مدت مقرر

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اورجسٹس محمد غضنفرخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے بلاک شناختی کارڈ کے ویری فکیشن کیلئے دو ماہ کی مدت مقرر کردی جبکہ نادراحکام کو ہدایت کی ہے کہ ایجنسی رپورٹ موصول ہونے پرپندرہ روز کے اندربلاک شناختی کارڈ کے حوالے سے فیصلہ کرناہے جبکہ شناختی کارڈ بلاک ہونے کے بعد سات یوم کے اندراس کے ویری فکیشن کاعمل شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز خیبرپختونخوا اورفاٹا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کی جانب سے دائررٹ درخواستوں کی سماعت کے دوران دئیے اس موقع پر اعجازصابی ٗ شاہ فیصل اتمانخیل سمیت متعدد وکلاء نے رٹ درخواستوں پردلائل دئیے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار جدی پشتی مقامی رہائشی ہیں اورپاکستانی شہری ہونے کے باوجود ان کے شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں جبکہ عدالت عالیہ قبل ازیں ان کے کارڈز کے ویری فکیشن کے لئے احکامات جاری کرچکی ہے تاہم ان واضح احکامات پرعملدرآمد نہیں ہورہا ہے اوردرخواست گذار نادرا کے دفاتر جاتے ہیں تاہم انہیں ٹرخادیاجاتاہے اورویری فکیشن کے حوالے سے کوئی معاونت نہیں کی جاتی اس موقع پرعدالتی استفسارپرنادرا کے نمائندے نے بتایا کہ ویری فکیشن قبل ا زیں آئی ایس آئی ٗ سپیشل برانچ اورآئی بی کی مشترکہ ٹیم کرتی تھی جس پرزیادہ وقت ضائع ہوتاتھاتاہم اب ویری فکیشن کے لئے صرف سپیشل برانچ کو مختص کیاگیاہے اوراب یہ عمل آسان ہوگیاہے جس پرفاضل چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ قومی شناختی کارڈ کاحصول ہرپاکستانی کابنیادی قانونی حق ہے اورشناختی کارڈ جاری نہ کرکے یابلاک کرنے سے انہیں مختلف مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے لہذاویری فکیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر نادرا کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کے دس ہزار شہریوں نے افغان مہاجرین کے کارڈ حاصل کررکھے ہیں اوران کارڈز کے حصول کامقصد افغان مہاجرین کیلئے آنے والے راشن اوردیگرمراعات سے مستفید ہوناہے ۔

مزید : پشاورصفحہ اول