شدت پسندی‘ دہشتگردی کا بنیادی سبب صوفی ازم سے دوری ہے‘ غلام فرید کوریجہ

شدت پسندی‘ دہشتگردی کا بنیادی سبب صوفی ازم سے دوری ہے‘ غلام فرید کوریجہ

لاہور (خبر نگار خصوصی) ممتاز روحانی پیشوا تحریک فرید پاکستان اور سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ پیر آف کوٹ مٹھن خواجہ غلام (بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ کوٹ مٹھن میں حضرت غلام فریدؒ کے عرس کے انعقاد اور مزار پر عبادات کرنے پر پابندی تصوف کی فکر کو محدود کرنے کی سازش اور صریحاً زیادتی ہے۔ کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک بھر میں شدت پسندی کے واقعات کا اصل سبب یہی ہے کہ ہم صوفی ازم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد خانقاہی نظام اور فکر تصوف کو کمزور کیا گیا جس وجہ سے ہم ضرب عضب کے باوجود دہشت گردوں کی نرسریاں ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان فورم میں گفتگو کے دوران کیا۔ غلام فرید کوریجہ نے دورۂ پاکستان کے دوران چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی سے ملاقات بھی کی۔ دوران انٹرویو ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے کوٹ مٹھن میں حکومت نے پنجاب کے اس واحد مزار پر سختیاں شروع کر رکھی ہیں جہاں عبادات کا تسلسل دوسرے مزارات کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور رات کو دربار کو مقفل کردیا جاتا ہے جبکہ متصل رہائش گاہیں سربمہر کردی گئی ہیں۔ خواجہ غلام فرید کوریجہ کا کہنا تھا کہ یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ داتا گنج بخش علی ہجویریؒ سے خواجہ فریدؒ تک کے مزارات پر ادارے نہیں بنائے جاسکے جبکہ آمدنی سرکاری خزانے میں جا رہی ہے۔ حضرت غلام فریدؒ کے مزار سے متصل 33 ایکڑ رقبہ کی سالانہ کروڑوں روپے آمدن ہے جس میں سے مزار کی تزئین و آرائش پر ایک پائی بھی خرچ نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس قسم کے منفی اقدامات سے ان قوتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جو فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔ مسلکی بنیاد پر اقلیتوں کے قتل افواج پاکستان اور سکولوں پر حملے صرف اسی صورت روکے جاسکتے ہیں جب تصوف کی تعلیم کو عام کیا جائے۔ ہم سرائیکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے 70 ہفتوں سے مسلسل سراپا احتجاج اور دھرنا دیئے ہوئے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ آئین پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی کی جا رہی ہے بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، سکھوں کے میلے ٹھیلے سرکاری سرپرستی میں کروائے جا رہے ہیں اور جشن بہاراں بھی لاہور میں سرکاری طور پر منایا جاتا ہے لیکن وسیب کی بین الاقوامی درسگاہ کے مزار پر پابندیاں عائد ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے خطے کیلئے یہ منفی پیغام کیوں دیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں غلام فرید کوریجہ کا کہنا تھا کہ نشتر گھاٹ پانچ سال سے مکمل نہیں ہوا۔ ملتان سیکرٹریٹ کا قیام بھی سرخ فیتے کی نذرہے‘ سرائیکی صوبے کی قرارداد سینیٹ سے منظور ہونے کے باوجود تشنۂ عملدرآمد ہے۔ وزیراعظم، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بارہا وعدوں کے باوجود کینسر ہسپتال ملتان کا کام تاحال شروع نہیں ہوا۔ استحکام پاکستان کیلئے چھوٹے صوبوں کے عوام وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں میٹرو کے فنڈز بھی منجمد کردیئے گئے ہیں۔ سرائیکی خطے کے عوام این ایف سی ایوارڈ پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ ضلع کے حساب سے تقسیم کیا جانا چاہئے تب مسائل حل ہوں گے وگرنہ چھوٹے اضلاع کے رہائشی افراد میں مایوسیاں اور نفرتیں جنم لیتی رہیں گی۔ تحریک فرید پاکستان کے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ مزار حضرت غلام فریدؒ کو عبادات کیلئے فوری طور پر کھولا جائے اور عرس پر عائد پابندی بھی ختم کی جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر