سموگ ‘ لاہور سمیت وسطی و جنوبی اضلاع میں فضائی آلودگی‘ ملتان میں بھی سلسلہ برقرار

سموگ ‘ لاہور سمیت وسطی و جنوبی اضلاع میں فضائی آلودگی‘ ملتان میں بھی سلسلہ ...

ملتان، قطب پور(خبر نگار، نامہ نگار) گذشتہ دنوں پنجاب میں لاہور سمیت وسطی اور جنوبی اضلاع میں سموگ کی وجہ سے فضائی آلودگی نوٹ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین نے بتایا ہے کہ صنعتی آلودگی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ کھیتوں میں موجود فصلوں(بقیہ نمبر39صفحہ7پر )

کی باقیات کو آگ لگانے کا عمل سموگ پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔حالیہ خشک اور سرد موسم میں سموگ کی موجودگی کی وجہ سے انسانی بیماریوں کے علاوہ ٹریفک حادثات دیکھنے میں آئے ہیں۔ دھان کی کمبائن ہارویسٹر سے برداشت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم وقت اور کم خرچ سے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 2000 روپے کی بچت ہوجاتی ہے لیکن کمبائن چلانے کے بعد کاشتکار پرالی اور مڈھوں کو آگ لگادیتے ہیں جس کی وجہ سے ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی کے علاوہ زمین میں نامیاتی مادہ میں کمی ہوجاتی ہے اور خوردبینی جرثومے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے دھان کے کاشتکاروں کوسفارش کی ہے کہ وہ دھان کی کٹائی اور گہائی کے بعد پرالی اور مڈھوں کو ڈسک ہیرو کے ذریعے زمین میں ملائیں۔ ڈسک ہیرو کے استعمال سے دھان کی باقیات کے علاوہ جڑی بوٹیاں اور غیر ضروری سبز مادہ نامیاتی کھاد وں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے ۔ ڈسک ہیرو کے استعمال سے زمین کے اندر روشنی اورہوا کا گزر باآسانی ہوجاتا ہے اور خوردبینی جرثومے تیزی سے افزائش کرتے ہیں۔ زیادہ نامیاتی مادہ کی حامل زمینوں میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے جو پانی میں فراہمی کی کمی کے باوجود بھی پودوں کو نمی پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔مستقبل میں سموگ جیسی صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ درخت لگائے جائیں۔درختوں کی کانٹ چھانٹ سے ہر ممکن حد تک پرہیز کیا جائے۔ فضائی آلودگی پر کمی پائی جائے۔ کھیتوں میں مشینری کا غیر ضروری استعمال ختم کیا جائے۔ فصلوں کی برداشت کے بعد پودوں کی باقیات کو ہرگز نہ جلایا جائے اور دھواں پیدا کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ دریں اثناء ملتان اور گرد و نواح میں دن کے اوقات سموگ کی شدت میں کمی واقع ہونا شروع ہوگئی ہے تاہم منگل کی علی الصبح سموگ کی شدت برقرار رہی اور حد نگاہ بھی شدید متاثر ہوئی صبح 6 تا 8 بجے حد نگاہ 500 میٹر تک محدود ہو کر رہ گئی جبکہ صبح 10 بجے کے بعد سموگ کی شدت میں کمی ہونے سے حد نگاہ 1 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی مقامی محکمہ موسمیات کیمطابق ملتان اور نواحی علاقوں کی سموگ کا سلسلہ رواں ہفتے بھی جاری رہے گا اور مڈ نائٹ سے علی الصبح سموگ کی شدت میں اضافہ رہے گا دوسری طرف ملتان میں سردی میں بھی اضافہ شروع ہوگیا منگل کے روز کم سے کم درجہ حرارت 14.2ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا قطب پور سے نامہ نگار کیمطابق سموگ نے دیگر شہروں کی طرح دیہاتوں کو بھی گھیرے میں لے لیا ۔سانس ،دمہ ،ڈسٹ الرجی جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کو دشواری کا سامنا ،نظام زندگی متاثر ہونے لگا ۔سموگ کے باعث لودہراں خانیوال قومی شاہراہ پر جہاں حادثات ہو رہے ہیں وہاں سلو مونگ کے باعث ڈکیتی کی وارداتیں بھی بڑھ رہی ہیں ۔تاہم مکینوں نے پولیس گشت مؤثر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

سموگ

مزید : ملتان صفحہ آخر