ٹرمپ کارڈ ....”سب سے پہلے امریکہ“

ٹرمپ کارڈ ....”سب سے پہلے امریکہ“
ٹرمپ کارڈ ....”سب سے پہلے امریکہ“

  

شاہدنذیرچودھری

ڈونلڈ ٹرمپ کاامریکی صدر منتخب ہوجا نا امریکی تاریخ کا ایک بہت بڑا اپ سیٹ ہے ۔وہ امریکہ کو سپر پاور کی بجائے گریٹ امریکہ بنانے کا نعرہ لیکر میدان میں اترے تو انکی شدید مخالفت کی گئی لیکن ان کی جیت نے جہاںموجودہ امریکی صدر اوبامہ اور ہلیری کلنٹن کوہیرو سے زیرو بنادیاہے وہاں دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کو بھی منہ کی کھانی پڑی ہے۔سب کی قیاس آرائیاں ، دعوے ،سروے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔انہوں نے تاش کا ایسا پتا مارا ہے کہ سب جغادریوں کی بازیاں الٹ دی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور اسکے نظریات کے خلاف امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹ نے کوئی ایسا پہلو نہیں چھوڑا جس سے دنیا کو ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہوکہ اگر ڈونلڈ جیسا انسان امریکہ کا صدر بن گیا تو امریکہ کی ترجیحات میں نرمی اور رواداری ختم ہوجائے گی۔ڈونلڈکا میڈیا ٹرائل دنیا کی تاریخ میں ایک نئی سوچ لیکر آیا ہے ۔ ڈیموکریٹس اور صدر اوبامہ نے بذات خودانکی کردار کشی کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔میڈیا ٹرائل کرتے ہوئے انہیں پلے بوائے اور نسل پرست قرار دیا گیااور انہیں مسلمانوں،تارکین وطن امریکیوں کے خلاف متعصبانہ نظریات کا پرچارک کہا گیا ،خواتین نے ان پر جنسی حملے کرنے کے دعوے کئے لیکن اسکے باوجود امریکی عوام نے مقبول عام اور فیورٹ ہلیری کی بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر منتخب کرلیا ہے ۔گویا دنیا میں یہ نظریہ اب مضبوط ہوگیا ہے کہ عوام کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور وہ یہ بہتر جانتے ہیں کہ انکے ملک کا صدر کس قسم کا ہونا چاہئے۔اجتماعی سوچ کو جس ملک میں بھی اہمیت حاصل ہوتی ہے وہ اپنی سیاسی تاریخ بدل دیتی ہے اور میڈیا لاکھ برا چاہے ،کسی امیدوار کی ہوا نہیں اکھاڑ سکتا۔ڈونلڈ پرمٹ کے معاملے میں یہی کچھ تو ثابت ہوا ہے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی ساڑھے تین سو سالہ تاریخ میںانقلاب لے آئے ہیں۔وہ ری پبلکن پارٹی کے اٹھارویں اورامریکہ کے پنتالیسویں صدر منتخب ہوئے ہیں لیکن سب سے حیران کن اور دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں پہلے صدر ہیں جو صرف بزنس میں ہیں،ان کی سیاست میں مقبولیت سے زیادہ بطور ریالٹی شو ایکٹر اور پروڈیوسر رہی ہے۔نہ تو وہ پہلے کسی ریاست کے گورنر رہے،نہ فوج کے ریٹائرڈ جنرل،نہ امریکہ کے وائس پریذیڈنٹ ،یعنی انکے پاس کوئی ایسا حکومتی عہدہ نہیں تھا جو سیڑھی بن کر انہیں صدر کے مقام تک پہنچانے میں معاون ہوتا۔اوبامہ ریاست اورسٹیٹ کے سینٹر بھی رہے ،اسکے بعد وہ صدرکا الیکشن جیتے،اس سے پہلے بھی امریکہ کے صدور ایسے افراد منتخب ہوتے رہے ہیں جو سیاسی طور پر منجھے ہوئے اور فوج یا سیاسی و انتظامی عہدوں پر متکمن رہ چکے تھے ۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تنظیم ٹرمپ فاونڈیشن کے چئیرمین ہیں۔وہ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لئے 1988 سے زور لگا رہے تھے اورجب انہوں نے ری پبلکن کو جوائن کیا تو انکی پہلی ترجیح یہی تھی کہ وہ امریکہ کا صدر بننا چاہتے تھے ،یہی ان کا خواب تھا۔لہذا اپنے ریالٹی شوز،کاروبار اورمسلم کش انتہاپسندانہ خیالات کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔اسی وجہ سے صدر اوبامہ نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ ایٹمی چابی انکے حوالے نہیں کریں گے۔اس سے گویا انہوں نے امریکی عوام کو یہ کہہ کر متنبہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر ڈونلڈ منتخب ہوگئے تو وہ دنیا کا امن غارت کرکے امریکہ مخالف قوتوں کو جنم دیں گے جس سے مستقبل میں امریکیوں کے لئے دنیا ایک دلدل بن جائے گی۔لیکن میرے خیال میں اوبامہ کی تقریر کا ایک دوسرا مقصد بھی ہوسکتا ہے ۔انہوں نے ڈونلڈ کی آڑ لیکر دنیا کوآگاہ کردیا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کیا کرنے جارہا ہے ۔اس بات میں کوئی شائبہ نہیں ہے کہ امریکی صدر ڈیموکریٹس سے ہو یا ری پبلکن سے ،وہ ہر حال میں امریکی مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔صدراوبامہ کے دور میں بھی توامریکہ نے افغانستان،عراق،لیبیا،شام اردن، سمیت جنگ کو ہوا دی اور دہشت گردی کی جنگ کے نام پر مسلم ممالک پر دباو¿ ڈالا ہے ،یہی پالیسی ان سے پہلے ری پبلکن صدور بش باپ بیٹے کی تھی۔قوی امکان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی انہی پالیسوں کو جاری رکھیں گے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران ہر ایسی پالیسی کی مخالفت کی ہے جو دنیا میں امریکہ کو تھانیدار بنانے کا موجب بنتی ہے۔انکے جیتنے کی بنیادی وجہ بھی انکے نظریات ہیں ۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے وہ اپنی پارٹی کے منشور کے خلاف تو نہیں چل سکتے نہ کانگریس انکے ذاتی نظریات کو امریکہ کی پالیسی بننے دے گی ۔امریکی کانگریس کے ہاتھ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی صدر کے فیصلوں کو ویٹو کرسکتی ہے اور صدر کانگریس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔البتہ یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی معرکہ میں گونجنے والے نعروں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔وہ عملی طور پر امریکہ کے عالمی مفادات سے یکایک تائب نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے یہ الیکشن انہیں نظریات کی بنیاد پرجیتا ہے اور یہ نظریات سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر محض ”ٹرمپ کارڈ“ گیم کا درجہ نہیں رکھتے۔یہ ان کے لئے ہی نہیں امریکہ کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ صدیوں سے پھیلائی ہوئی دنیا بھر میں اپنی جڑوں کو کیسے سمیٹ سکیں گے،امریکہ کی لگائی ہوئی آگ کو کیسے بجھایا جاسکے گا؟لیکن ڈونلڈ یہی کچھ کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں۔انکے لئے اپنے وعدوں سے انحراف کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سالہا سال امریکی صدر منتخب ہونے کے لئے یہ گیان پایا ہے کہ امریکی قوم کو کیسے رام اور پٹایا جاسکتا ہے ۔ریالٹی شو کی مقبولیت سے انہیں یہ علم ہوچکا ہے کہ قوم کے دلوں میں کیسے بسا جاسکتا ہے لہذا انہوں نے امریکہ کو گریٹ امریکہ بنانے کا اعلان کیا ہے اور کہاہے کہ وہ امریکہ کو عظیم ملک بنانے کے لئے اٹھارہ ماہ کے اندر اندر ایسے اقدامات اٹھائیں گے کہ امریکہ گریٹ کنٹری بن جائے گا،اسے سپر پاور بنانے کی ضرورت نہیں۔مثلاً ان کا منشور کچھ ایسا ہے۔

٭ امریکہ کو دنیا کا تھانیدار نہیں بناوں گا۔کیونکہ اوبامہ نے عراق ،افغانستان، شام سمیت ایسے ملکوں میں مداخلت کرکے داعش جیسے دہشت گردوں کو جنم دیااور امریکیوں کو غیر محفوظ کردیا ہے۔

٭ مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کردوں گا تاکہ امریکہ کی تہذیب وتمدن کو دہشت گردی سے بچایا جاسکے۔

٭ گیارہ لاکھ سے زائد غیر قانونی امیگرنٹس کو امریکہ سے نکال دوں گا کیونکہ انکی وجہ سے ملک میں لاقانونیت اور منشیات عام ہے جس سے جرائم بڑھ رہے اور عام امریکیوں کی زندگیاں اور حقوق متاثر ہورہے ہیں۔

٭میکسیکو کی سرحد بند کرنے کے لئے دیوار تعمیر کروں گا تاکہ میکسیکو سے امریکہ آنے والی ڈرگ اور کرائم کاخاتمہ کیا جاسکے۔

٭ ہم جنس پرستوں کی شادیاں غیر فطری ہیں اور انہیں قانون کا حصہ نہیں بننے دوں گا کیونکہ فطری طور پر ایک عورت اور مرد کے درمیان ہی شادی ہوسکتی ہے اور قدرت کے اس نظام کو متاثر نہیں ہونے دوں گا۔

٭ امریکہ کے دشمن ملک اگر ہم سے دوستی کرنا چاہیں گے تو ہم ان کو ویلکم کہیں گے ۔

٭ جو ملک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہے گااسکے ساتھ ہی چلیں گے اور امریکی مفادات پر دوٹوک پالیسی اختیار کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مندرجہ بالا نظریات کو انکی پالیسی ہی کہنا چاہئے کیونکہ وہ ان خیالات کو عملی جامہ پہنا کر امریکہ کو سپر پاور کی بجائے گریٹ امریکہ بنانا چاہتے ہیں ۔اب دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ وہ دن کب آئے گاجب امریکہ دوسرے ملکوں میں مداخلت بند کرکے دنیا میں امن کا دروازہ کھولے گا۔

مزید : بلاگ