ڈونلڈٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم میں وائٹ ورکنگ کلاس کو توجہ کا مرکز بنایا،گزشتہ پچاس سالوں میں جو بھی امریکی صدر منتخب ہوا اس نے اوہائیوسٹیٹ ضرور جیتی :عمر مجیب شامی

ڈونلڈٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم میں وائٹ ورکنگ کلاس کو توجہ کا مرکز ...
ڈونلڈٹرمپ نے اپنی صدارتی انتخابی مہم میں وائٹ ورکنگ کلاس کو توجہ کا مرکز بنایا،گزشتہ پچاس سالوں میں جو بھی امریکی صدر منتخب ہوا اس نے اوہائیوسٹیٹ ضرور جیتی :عمر مجیب شامی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ورکنگ کلاس کو اپنی صدارتی الیکشن مہم کا محور بنایا،اس ووٹ کی 1980میں  88فیصد تھی جبکہ اب اس کی تعداد 68فیصد پر آ گئی ہے ،وہ وائٹ ورکنگ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے،یہ گفتگو سینئر تجزیہ کار عمر مجیب شامی نے دنیانیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ کے دوران کی۔

تفصیلات کے مطابق عمر مجیب شامی کا کہناتھا کہ امریکہ میں ایک ایسا طبقہ ہے جو کہ ڈیموگرافک اور اکنامک تبدیلیوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہو رہاہے ،وائٹ ورکنگ کلاس ووٹر کی تعداد 1980میں 88فیصد تھی لیکن آج وہ 68فیصد پر آ گئی ہے ،یہی وہ طبقہ ہے جسے ڈیمو گرافک اور اکنامک تبدیلی سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے ،ٹرمپ نے پہلے دن سے اپنی الیکشن مہم کا محور اسی کلاس کو بنایاہے ،اور تمام توجہ اسی پر مرکوز کی ۔ان کا کہناتھا کہ امریکہ میں امیگریشن بے تحاشہ ہونے کی وجہ سے نوکریوں میں بھی کمی ہوئی ہے ،امریکہ میں امیر طبقے کی آمدنی میں پچھلے پندرہ بیس سال میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے جبکہ مڈل کلاس کی آمدنی تقریبا ایک ہی جیسی رہی ہے ،یہ بھی کہہ سکتے ہیں معمولی کمی آئی ہے ۔

عمر مجیب شامی کا کہناتھا کہ رسٹک بیلٹ جس میں مشی گن،وسکانسن اور پنسیلوینا آ تے ہیں ،کہا جارہا تھا کہ پنسلوینیا سے ہیلری ہی جیتیں گی اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ یہ تو ان کی جیب میں ہے اور انہوں نے اس کا دورہ بھی نہیں کیا لیکن وہاں سے ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسے رسٹک بیلٹ اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں پر گاڑیوں اور سٹیل کی انڈسٹری تھی لیکن جب یہاں جدید ٹیکنالوجی اور مشینری آئی تو ورکنگ کلاس کے ورکر کی نوکریاں متاثر ہوئیں ،اس کیساتھ معیار زندگی میں بھی کمی آئی ،جس کے باعث تینوں ریاستوں کے اندر ری ایکشن آیا اور ٹرمپ وہاں سے الیکشن جیت گئے ،،فلوریڈا سوینگ سٹیٹ تھی ،جبکہ پچھلے پچاس سالوں میں جو بھی امریکہ کا صدر بناہے اس نے اوہائیوسٹیٹ ضرورجیتی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ ایگزیکٹ پول میں عوام نے تین مسائل کی نشاہدہی کی جس میں دہشتگردی،امیگریشن ،اور اقتصادی مسائل شامل ہیں،اس میں 64فیصد ووٹروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا لیکن بعد میں ووٹ بھی انہیں ہی دیا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا تبدیلی کا نعرہ لگایا،ٹرمپ نےیہ بھی نعرہ لگایا تھا کہ وہ واشنگٹن کے گندے پانی کا تالاب خشک کر دیں گے۔ان کاکہناتھا کہ بے شمار ایسا سفیدفام ووٹر ہے جس نے گزشہ برس اوباما کو ووٹ دیا تھا لیکن اس بار اب ٹرمپ کو دیا کیونکہ اوباما بھی تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی ۔انہوں نے کہا کہ انڈر کالج وائٹ ویمن نے ٹرمپ کو بے تحاشا ووٹ دیاہے ،یہاں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے72فیصد ووٹ حاصل کیے اور ہیلری کو بڑی لیڈ سے ہرایاہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں