ٹرمپ اور دانیال عزیز میں وہ’ مشترک بات ‘ جس پر نواز شریف بھی حیران ہوں گے

ٹرمپ اور دانیال عزیز میں وہ’ مشترک بات ‘ جس پر نواز شریف بھی حیران ہوں گے
ٹرمپ اور دانیال عزیز میں وہ’ مشترک بات ‘ جس پر نواز شریف بھی حیران ہوں گے

  

تحریر: نعمان تسلیم۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ میں 45ویں صدر منتخب ہوکر وائٹ ہاﺅس پہنچ چکے ہیں اور اس وقت پوری دنیا حیرانگی کے ساتھ ٹرمپ کی فتح اور ہیلری کی شکست کو دیکھ رہی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی لیکن قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ انہوں نے دانیال عزیز کی طرح اپنی پارٹی وفاداریاں تین بار تبدیل کیں۔ کامیاب کاروباری کے طور پر مشہور ٹرمپ نے 1987ءمیں ریپبلکن پارٹی جوائن کی لیکن کچھ مخالفتوں کی وجہ سے 2001ءمیں یہ پارٹی چھوڑ دی اور2008 ءتک ڈیموکریٹک پارٹی سے منسلک رہے ۔تاہم 2012ءمیں انہوں نے ری پبلکن صدارتی امیدوار مِٹ رومنی کی حمایت کی پھر ری پبلکن پارٹی کے ہوگئے اور اب اسی پارٹی کی جانب سے امریکی صدر منتخب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب دونوں شخصیات کا نام Dسے شروع ہوتا ہے اور ساتھ ہی ان میں دیگر باتیں بھی مشترک ہیں۔پاکستانی سیاست میں دانیال عزیز کو دیکھا جائے تو ان کی سیاسی وفاداریاں بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہیں۔دانیال عزیز جو آج کل نواز شریف کی بلائیں لے رہے ہیں کچھ سال پہلے مشرف پر قربان ہوا کرتے تھے اور اس سے پہلے نواز شریف کی محبت میں مبتلاتھے ۔وہ 1997ءمیں نواز لیگ کی سیٹ پر نارووال سے منتخب ہوئے لیکن 1999ءمیں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انہوں نے قلابازی کھائی اور مشرف کی پالیسیوں پر مکمل ’ایمان‘ لائے، جس طرح آج کل وہ نواز شریف کی وکالت کرتے ہیں بالکل ایسی ہی وکالت وہ مشرف کی کرتے ہوئے مخالفین کو بھی اس بات پر مجبور کرتے تھے۔ معروف سیاستدان انور عزیز چوہدری کے صاحبزادے مشرف دور میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو (این آر بی)کے چیف رہے اور 2002ءکے الیکشن میں ق لیگ کی نشست پر جیتے۔2008ءمیں وہ ق لیگ کے امیدوار تھے لیکن ایک آزاد امیدوار سے ہارنے کے بعد انہوں نے پارٹی بدلی اور نواز لیگ کی چھتری تلے پناہ لے لی۔

مزید : بلاگ