پاکستانی وزیر اعظم سمیت عالمی رہنماؤں کا ڈونلڈ ٹرمپ کوتاریخ ساز کامیابی پر مبارکباد کا سلسلہ جاری ،دنیا کے امن کے لئے مشترکہ کوششوں اور کاوشوں کا اظہار

پاکستانی وزیر اعظم سمیت عالمی رہنماؤں کا ڈونلڈ ٹرمپ کوتاریخ ساز کامیابی پر ...
پاکستانی وزیر اعظم سمیت عالمی رہنماؤں کا ڈونلڈ ٹرمپ کوتاریخ ساز کامیابی پر مبارکباد کا سلسلہ جاری ،دنیا کے امن کے لئے مشترکہ کوششوں اور کاوشوں کا اظہار

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہونے پر دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے، انتخابات کے نتائج کی تصدیق ہوتے ہی مختلف ممالک کے رہنماؤں نے مبارکباد کے پیغامات جاری کرنا شروع کر دیے جن میں کچھ پیغامات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلے دل سے مبارکباد دی گئی جبکہ بعض عالمی رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں قدرے محتاط رویہ اپنایا ہے ۔

مزید پڑھیں:امریکی الیکشن،تمام اندازے اور سروے غلط ثابت، امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر چن لیا

’’برطانوی خبر رساں ادارے ‘‘ کے مطابق  پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے ڈونلنڈ ٹرمپ کا شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کا انتخاب یقیناً امریکی عوام اور جمہوری اقدار، آزادی، انسانی حقوق اور آزادانہ کاروبار میں عوام کے دیرینہ یقین کی فتح ہے، سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ کی یادگار فتح اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امریکی عوام کو آپ کی قیادت، بصیرت اور اپنے عظیم ملک کی خدمت کے جذبے پر کتنا اعتماد ہے۔روسی ایوانِ صدر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک پیغام ارسال کیا ہے جس میں انھوں نے روس اور امریکہ کے تعلقات کو بحران کی کیفیت سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی امید ظاہر کی ہے۔صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اور عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجوں کے موثر جواب کے لیے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیراتی بات چیت کی ضرورت ہے جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔چین کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق چین کو امید ہے کہ وہ نئی امریکی حکومت کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔وزارت خارجہ کے ترجمان’’ لو کانگ ‘‘کا کہنا تھا کہ چین اور روس کے تجارتی تعلقات میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، امریکہ اور چین دنیا کی دو بڑی اور سنجیدہ طاقتیں ہیں اور وہ دونوں معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کریں گے، ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور دونوں ممالک کے مستقل اور مستحکم تعلقات کو مزید آگے بڑھائیں گے جو دونوں ممالک کے عوام اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

مزید پڑھیں:امید کرتی ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کیلئے کامیاب صدر ہوں گے اور ملک کی بھلائی کیلئے کام کریں گے:ہیلری کلنٹن

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات خصوصی ہیں۔ ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں کہ مسٹر ٹرمپ کی کامیابی کا مطلب ’آزادی، جمہوریت، اور کاروبار‘ جیسی مشترکہ اقدار کا تسلسل ثابت ہو گی۔برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہم تجارت، سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں قریبی ساتھی ہیں اور رہیں گے۔ میں آئندہ برسوں میں دونوں اقوام کی سکیورٹی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کروں گی۔انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹس میں ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ٹرمپ کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران انڈیا کے بارے میں خیالات کو سراہتے ہیں اور امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے خواہاں ہیں۔مودی کا کہنا تھا کہ ہم بھارت اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو نئی بلندی تک لیجانے کے لیے آپ کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کی جیت پر ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے،9/11کے بعد امریکا تبدیل ہو گیا ہے:شیریں رحمان

جاپانی وزیر اعظم نے اپنے مبارکبادی پیغام میں امریکہ اور جاپان کے قریبی تعلقات جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دیتا ہوں، جاپان اور امریکہ کے تعلقات غیر متزلزل ہیں جو کہ آزادی، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالا دستی جیسی مشرکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ٹویٹ میں ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ وہ ترکی میں بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کریں گے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ٹرمپ کی فتح مشرق وسطیٰ میں مثبت اقدامات اور دنیا میں آزادی کے فروغ کی جانب پیشرفت ثابت ہو گی۔استنبول میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ امریکی عوام کا یہ انتخاب ایسے مفید اقدامات کی جانب ایک قدم ثابت ہوگا جن سے دنیا میں بنیادی حقوق، آزادی، جمہوریت اور ہمارے خطے کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

فلسطینی صدر محمد عباس نے ایک بیان میں مسٹر ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے دور صدارت میں امن کا حصول ممکن ہوگا۔اپنی سخت باتوں کے لیے مشہور فلپائنی صدر روڈریگو دوتریت نے بھی اپنی جانب سے نو منتخب امریکی صدر کوپرخلوص مبارکباد دی ہے ،فلپائنی صدر کے سکریٹری اطلاعات کے مطابق صدر فلپائن اور امریکہ کے تعلقات میں فروغ کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، ایسے تعلقات جن کی بنیاد باہمی احترام، مشترکہ مفاد اور جمہوریت اور قانون کی بالادستی ہو۔ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر کو ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے،ایران میں سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے کوئی سیاسی تعلقات نہیں ہیں مگر یہ اہم ہے کہ مستقبل کے امریکی صدر اپنے ملک کے عالمی وعدوں کا پاس رکھیں اور ہم توقع کرتے ہیں عالمی برادری امریکہ کو اس پر مجبور کرے گی۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کے ایٹمی بموں کا کنٹرول کب دیا جائے گا اور کتنی آسانی سے وہ دنیا میں کہیں بھی ایٹم بم برسا سکتے ہیں؟ وہ معلومات جو کسی کو بھی پریشان کردیں

سنگاپور کے وزیر اعظم نے ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'بریگزٹ ریفرنڈم کی طرح ٹرمپ کی جیت ترقی یافتہ ممالک میں پیٹرن کا حصہ ہے جو معاشرے میں مایوسی اور موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کی خواہش ہے۔یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور، چین اور انڈیا پر امریکہ میں 'نوکریاں چوری' کرنے کا الزام لگایا تھا۔دریں اثنا امریکہ میں فرانس کے سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر ٹویٹ کیا اور بعد میں اس کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اس ٹویٹ میں لکھا تھا 'بریکسٹ اور اس انتخاب کے بعد کچھ بھی ممکن ہے،ہمارے سامنے دنیا تباہ ہو رہی ہے، سر چکرا رہا ہے۔سربراہان مملکت اور دیگر عالمی رہنماؤں کے علاوہ یورپ کی دائیں بازوں کی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے بھی مسٹر ٹرمپ کے صدر منتخب پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی