ڈونلڈٹرمپ نے ناممکن کو ممکن کردکھایا، اپنی حکمت عملی پر شروع سے آخر تک ڈٹے رہے

ڈونلڈٹرمپ نے ناممکن کو ممکن کردکھایا، اپنی حکمت عملی پر شروع سے آخر تک ڈٹے ...
ڈونلڈٹرمپ نے ناممکن کو ممکن کردکھایا، اپنی حکمت عملی پر شروع سے آخر تک ڈٹے رہے

  

تجزیہ: عمر شامی۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ جب آج سے ایک سال قبل صدارتی امیدوار بن کر میدان میں کودے تو کسی نے بھی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ریپبلکن پارٹی کے بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑنے کے باوجود ان کی اپنی پارٹی کو بھی یقین نہیں تھا کہ وہ جنرل الیکشن جیت سکیں گے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں نہ کبھی کوئی سرکاری عہدہ حاصل کیا تھا نہ ہی کوئی الیکشن لڑا تھا۔انہوں نے کبھی فوج میں سروس بھی نہیں کی تھی۔ امریکہ کی تاریخ میں چار ہی ایسے صدر گزرے ہیں جنہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ حاصل کئے بغیر صدارت کا تاج سر پر سجایا لیکن ان چاروں نے بھی کسی نہ کسی وقت سرکاری ملازمت سے استفادہ کیا ہوا تھا یا ملٹری سروس سر انجام دی تھی۔

ٹرمپ نے جو حکمت عملی پہلے دن سے اپنائی تھی وہ آخر دن تک اس پر سختی سے کاربند رہے۔ امیگریشن، دہشت گردی اور معیشت کی تکون ان کی صدارتی مہم کا محور تھی۔ انہوں نے سفید فام ورکنگ کلاس کو پہلے دن سے توجہ کا مرکز بنایا اور ان کے دلوں میں چھپے خوف کو الفاظ کا روپ دے کر ان کی آواز بننے کی کوشش کی۔ سفید فام ووٹ اس وقت بھی امریکہ میں 65فیصد ہے اگرچہ صدر ریگن کے الیکشن کے وقت اس کی تعداد 88فیصد تھی۔ پچھلے تیس سالوں میں اس کی اہمیت میں کمی ہوئی ہے لیکن اب بھی اس میں کسی بھی امیدوار کو صدارت کے سنگھاسن پر بٹھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ ڈونلڈٹرمپ کے لئے امتحان یہ تھا کہ اس ووٹ کا کتنا فیصد وہ حاصل کریں کہ سیاہ فام، ہسپانوی اور دوسری اقلیتوں کے مرہون منت نہ رہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ہر وہ کام کیا جس نے اس ووٹر کے دل میں ان کے لئے نرم گوشہ پیدا کیا۔ان کو یہ یقین دلایا کہ وہ ایک ”باہر کے آدمی“ ہیں اور واشنگٹن کا نظامِ حکومت عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ اپنے آپ کو انہوں نے تبدیلی کا نمائندہ بنا کر پیش کیا اور خصوصاً سفید فام ورکنگ کلاس کے معاشی مسائل حل کرنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن کے جوہڑ کو خشک کر دیں گے۔

دوسری طرف ہلیری کلنٹن وہ سب کچھ تھیں جو ڈونلڈ ٹرمپ نہ تھے۔ پبلک سروس کا ایک طویل ریکارڈ، اعلیٰ تعلیم، سیکرٹری آف سٹیٹ کا تجربہ، سابق صدر کی زوجہ اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار ہونے کا اعزاز۔ لیکن وہ بھی بے شمار سیاسی پنڈتوں کی طرح نوشتہ ءدیوار پڑھنے میں ناکام رہیں۔ تمام الیکشن پولز ان کی جیت کا اعلان کر رہے تھے۔ امریکن صدارتی سسٹم میں کامیابی کا دارومدار الیکٹورل ووٹوں پر ہوتا ہے۔ ایک ریاست میں سبقت حاصل کرنے والا اس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیتا ہے۔ صدارت کے ہُما کو سر پر بٹھانے کے لئے 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہلیری کلنٹن کو اس سسٹم میں ایک خاص فائدہ تھا۔ بڑی بڑی ریاستیں بشمول کیلیفورنیا، نیویارک اور نیو جرسی عرصہ دراز سے خالصتاً ڈیمو کریٹ چلی آ رہی ہیں۔ ان تین ریاستوں کے ووٹ ملا کر 100 کے نزدیک پہنچ جاتے ہیں۔ عام خیال یہ تھا کہ ہلیری صرف اگر ان ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جہاں عموماً ڈیمو کریٹ اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ 270 کے طلسماتی ہندسے سے بہت قریب پہنچ جائیں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے 270 کے ہندسہ تک پہنچنے کا سفر نہایت کٹھن دکھائی دے رہا تھا۔ لیکن پھر وہ ہوا جس کا کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ وہ ریاستیں جن کے بارے میں کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وہاں مقابلہ بھی کر سکیں گےجیتنا تو دور کی بات، وہ ایک ایک کر کے ان کی جھولی میں گرنے لگیں۔ پنسلوانیا جہاں ڈیمو کریٹ پارٹی نے اپنا پارٹی کنونشن منعقد کیا، پچھلے 28 سال میں کبھی کسی ریپبلکن امیدوار کو اس نے اکثریت نہیں دی۔ وسکونسن جو 1984ءکے بعد کبھی کسی ڈیمو کریٹ نے نہیں ہاری، مشی گن جسے ہیلری اپنی جیب میں سمجھتی تھیں، تینوں ریاستوں نے 46 ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ کی جھولی میں ڈال دیئے۔ اسی طرح فلوریڈا، اوہائیو اور نارتھ کیرولینا کی (Swing) ریاستیں بھی بالآخر ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں آئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکٹورل ووٹ میں برتری حاصل کرنے کے بعد بھی غالب امکان ہے کہ مجموعی ووٹ کی تعداد میں ہیلری آگے نکل جائیں گی۔

پچھلے 50 سال میں کم و بیش تیرہ دفعہ ایسے مواقع آئے ہیں کہ ایک ہی پارٹی صدارت اور کانگرس کے دونوں ہاﺅس کنٹرول کر لے۔ اس دفعہ پھر ایسا ممکن ہو گیا ہے۔ اب آنے والے دنوں میں دیکھنا ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت امریکن سیاست میں در آئی تلخیوں اور مختلف قومیتوں کے درمیان پڑنے والی دراڑوں کو مزید بڑھائے گی یا وہ تمام امریکن قوم کے صدر بن کر لوگوں میں ایک ولولہ تازہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ الیکشن مہم میں کئے گئے بلند بانگ دعوﺅں کو عملی جامہ پہنانا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ خوف کی سیاست کو اب ترک کرنا ہوگا۔ تقسیم در تقسیم کا عمل امریکن ریاست کو کمزور تو کر سکتا ہے مزید طاقت نہیں دے سکتا۔

مزید : تجزیہ /اہم خبریں