اقبال کا تصورِ اخلاق ( 1)

اقبال کا تصورِ اخلاق ( 1)
اقبال کا تصورِ اخلاق ( 1)

  



اخلاقیات کا تعلق انسانی اعمال سے ہے اور اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔نیتوں سے مراد انسان کے ارادے کی پختگی ہے۔نیتوں اور ارادوں کو زیادہ طاقتور بنانے کے لئے انسان کو اخلاقی قوانین اپنانے کا پابند ہونا چاہئے۔

اخلاق کی قانونی حیثیت ہوتی ہے، جس کی بنیادیں انسانی نفسیات، آزادئ ارادہ، آرزو، اخلاق بطور قانون، استعمال نفس اور اخلاقیات کی مابعد الطبعیاتی حیثیت پر مبنی ہوتی ہیں۔

علامہ اقبالؒ سے تصورِ اخلاق کا مرکزی نکتہ تصورِ خودی ہے۔انہوں نے چار بنیادی اخلاقی اقدار عشق، فقر، جرأت اور حریت بتائی ہیں جو انسانِ کامل بننے کے لئے اہم اخلاقی پروگرام ہے۔

علامہ اقبالؒ نے تربیتِ خودی پر بے حد زور دیا ہے،جس سے انسانی خودی مستحکم ہوتی ہے، تو انسان عام حیثیت سے نکل کر انسان کامل بننے کا سفر طے کرتا ہے۔استحکامِ خودی، اثباتِ خودی اور نفئ خودی کو علامہ اقبالؒ نے قرآنی، اسلامی اور مغربی اخلاقی روایات کے حوالے سے جدید انداز میں پیش کیا ہے۔

اقبال کے تصورِ اخلاق کی تمام تر اٹھان اور تاریخی مآخذ دراصل انسان کا خدا اور کائنات سے تعلق تصورِ وجودِ باری تعالیٰ، بقائے دوام اور آزادئ ارادہ کے فکری تناظر میں سامنے آتے ہیں۔اقبال کو انہی فکری اخلاقی بنیادوں کی بنا پر ممدوحِ عالم کہا جاتا ہے۔علامہ اقبالؒ کے فلسفۂ اخلاق کا حقیقی اور بنیادی منبع قرآنِ مجید ہے۔ارشادِ خداوندی ہے:

ترجمہ: ’’جسے حکمت عطا کی گئی اُسے بہت بڑی بھلائی سے نوازا گیا‘‘۔ (القرآن62-2)

علامہ اقبالؒ تلاوتِ قرآن مجید کے بارے میں لکھتے ہیں:’’صوفیائے اسلام میں سے ایک بزرگ کا قول ہے کہ جب تک مومن کے دِل پر بھی کتاب(قرآن مجید) کا نزول ویسے نہ ہو جیسے آنحضرتؐ پر ہوا تھا اُس کا سمجھنا محال ہے‘‘(تشکیل)

تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشاہ ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف

گفت حکم را خدا خیر کثیر

ہر کجا ایں خیر راہ بینی بگیر

انسان پیدائشی طور پر تو صحیح الفطرت ہوتا ہے۔ حالات و واقعات اُسے اچھا یا بُرا بنا دیتے ہیں،لیکن حقیقتاً یہ اس کی مرضی یا ارادہ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے۔انسانی زندگی میں ادا کی جانے والی رسوم و رواج کی انتہائی حالت کو اخلاق کہا جاتا ہے۔

علم الاخلاق میں انسانی کردار کے اچھے اور بُرے دونوں پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔عمر کے ساتھ ساتھ انسان بھلائی اور خیر کے کام کرنے اور شر سے بچنے کے انداز اپناتا چلا جاتا ہے۔

انسان رفتہ رفتہ اپنی تگ و دو سے مذہب ،تاریخ، روایت، معاشرہ، تجربہ و مشاہدہ کی وجہ سے صبر، سچائی، عدل و انصاف، امانت، عفو و درگزر، رواداری، احسان، مساوت، اخوت، بھائی چارہ اور تقویٰ جیسی مثبت صفات اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ خدا وندی ہے۔

ترجمہ: ’’اور ہم نے انسان کو بہترین فطرت پر پیدا کیا‘‘۔ (القرآن95-4)

’’کائنات میں ہمیں ایک طرف کونی اور دوسری جانب اخلاقی شر سے سابقہ پڑتا ہے۔دونوں اپنی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہیں اور دونوں سے انکار کرنا ممکن نہیں‘‘۔(تشکیل)

علامہ اقبالؒ کے اس اقتباس میں کوئی شر سے مراد قدرتی حادثات ہیں جو انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جیسے سیلاب، طوفان، زلزلہ یا کوئی دوسری آفت وغیرہ اور اخلاقی شر سے مراد ہے وہ شر جو انسان کے خود اپنے پیدا کردہ ہوں۔خیرو شر اگرچہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں، لیکن یہ دونوں ہی انسان میں موجود ہیں، کیونکہ شر کی موجودگی بھی ضروری ہے

۔شر ہی کی وجہ سے خیر کی پہچان ہوتی ہے۔اگر شر نہ ہو تو خیر کی مشیت کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔خیر و شر میں سے کسی ایک راہ کو اپنانا ہوتا ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کس طرح اِن دونوں راستوں میں سے کسی ایک کو اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔

دراصل انسان میں آزادئ ارادہ کا وصف پایا جاتا ہے، جو اس کی قوتِ فیصلہ میں اضافہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ کون سا طریق اپنائے۔ اِسی فیصلے کے باوصف وہ مثبت اور منفی دونوں میں سے ایک راہ اپناتا ہے اور پھر اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔

اِس لئے انسان کو تربیت خودی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ابتدا ہی سے مثبت راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرے۔علامہ اقبالؒ نے تربیتِ خودی سے انسان کو ابتدا سے انتہا تک پہنچنے کا طریق بتایا ہے، جس سے اس میں ایک خاص قسم کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ اس میں خوابیدہ عقابی روح بیدار ہوتی ہے اور وہ اپنی حقیقی منزل کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف

کہ مشتِ خاک میں پیدا ہو آتشِ ہمہ سوز

انسانی خودی کو مستحکم اور طاقتور بنانے کے لئے علامہ اقبالؒ نے بے حد زور دیا ہے، کیونکہ خودی کی تازگی سے ہی اس کا استحکام ہوتا ہے اور وہ زندہ و پائندہ ہو جاتی ہے۔ زندہ خودی آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد قوی ہوتی ہے اور عظیم جذبہ، ہمت، جرأت اور بہادری کا ثبوت مہیا کرتی ہے۔

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشاہی

نہیں ہے سبخر و طغرل سے کم شکوہِ فقیر

خود ہو زندہ تو دریائے بے کراں پایاب

خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر

تربیت خودی میں پہلا مرحلہ اطاعت، دوسرا ضبطِ نفس اور تیسرا نیابتِ الٰہی کا ہے۔ یہ تینوں مراحل طے کرنے پر انسان تکمیل خودی کر کے انسانِ کامل بن جاتا ہے۔ احکامِ الٰہی کی اطاعت کرنا اپنے نفس کو قابو کرنا ہے۔ خود سر جبلتوں کو سنبھالنا اور پھر خدا کا نائب بننے کی خوبیاں پیدا کرنا یقیناًعملِ صالح ہے۔اس سے انسان امن و آشتی کے عملی مراحل طے کرتا ہے۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...