علامہ اقبالؒ کی زندگی کے روشن گوشے

علامہ اقبالؒ کی زندگی کے روشن گوشے
 علامہ اقبالؒ کی زندگی کے روشن گوشے

  



برصغیر پاک و ہند میں جنم لینے والی عظیم ہستیوں میں ایک نام ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا بھی ہے جنہیں اہلِ پاک و ہند مفکر پاکستان اور شاعرِ مشرق کے نام سے جانتے ہیں پکارتے ہیں اور جس جگہ بھی اسلام اور مذہب کا ذکر ہو ان کی شاعری کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

اشعار سے رہنمائی حاصل کی جا تی ہے بشرطیکہ شعر کے مطابق انسان کی منزل اور خیالات یکساں ہوں۔علامہ اقبالؒ کے والد محترم شیخ نور محمد نے خواب دیکھا تھا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو ایک بیٹا عطا کرے گا جو دین اسلام کی خدمت کے حوالے سے نام پیدا کرے گا اس میں کوئی شک کرے ،مانے نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اپنے بندوں کو خوابوں اچھی باتوں سے آگاہ کرتا رہتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے شیخ نور محمد کو 9 نومبر 1877ء بروز جمعہ فجر کی اذان کے وقت ایک بیٹا عطا کیا۔ شیخ نور محمد اطلاع ملنے پر گھر گئے تو پہلی ہی نظر میں اس فلک پرواز کو پہچان لیا اور اس کا نام محمد اقبالؒ رکھا۔ شیخ نور محمد دین دار شخص تھے اور بیٹے کے لئے دینی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے ان کے سیالکوٹ کے اکثر علماء کرام سے دوستانہ مراسم تھے ۔

چنانچہ اقبالؒ بسم اللہ کی عمر کو پہنچے تو وہ انہیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے مولانا ابو عبداللہ غلام حسن محلہ شوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے اور شیخ نور محمد کا وہاں آنا جانا رہتا تھا یہاں سے اقبالؒ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حسب دستور قرآن شریف سے ابتداء ہوئی تقریباً ایک سال یہ سلسلہ جاری رہا پھر ایک دن شہر کے نامور عالم دین مولوی میر حسن ادھر آئے،انہوں نے جب مدرسے میں ایک ایسے بچے کو بیٹھے دیکھا کہ جس کی صورت سے عظمت اور سعادت نظر آ رہی تھی تو فوراً پوچھا یہ کس کا بچہ ہے جواب ملنے پر وہاں سے چل پڑے وہ شیخ نور محمد کے پاس آئے، مولوی میر حسن نے زور دے کر سمجھایا کہ بیٹے اقبالؒ کو مدرسے تک محدود نہ رکھو بلکہ اس کے لئے جدید تعلیم ضروری ہے اسی دوران انہوں نے اقبالؒ کو اپنے زیر تربیت لینے کی خواہش ظاہر کی تو شیخ نور محمد نے اقبال ؒ کو میر حسن کے سپرد کر دیا

ان کا مکتب شیخ نور محمد گھر کے قریب ہی کوچہ میر حسام الدین میں قائم تھا یہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا تین برس گزر گئے اس دوران سید میر حسن نے اسکاچ مشن اسکول میں بھی پڑھانا شروع کر دیا اقبالؒ نے بھی اسی سکول میں داخلہ لے لیا۔

اقبالؒ کے پرانے معمولات بھی جاری رہے سکول سے آتے تو استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے۔

اقبالؒ کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کار فرما نظر آتے ہیں ان میں بیشتر مولوی میر حسن کی محبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں میر حسن سرسید کے قائل تھے علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لئے مفید خیال کرتے تھے، مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی۔

16 برس کی عمر میں اقبالؒ نے میٹرک پاس کیا 4 مئی 1893ء کو ان کی شادی کریم بی بی سے ہوئی۔6 مئی 1893ء کو جب اقبالؒ کو میٹرک کے رزلٹ کی خبر ملی تو اس وقت اقبالؒ نے سہرا باندھا ہوا تھا اور بارات سیالکوٹ سے گجرات روانہ ہوئی تھی ، کریم بی بی سے اقبالؒ کے دو بچے ہوئے۔ معراج بی بی اور آفتاب اقبال۔

میٹرک میں اقبال نے فرسٹ ڈویژن حاصل کی جس میں انہیں تمغہ اور وظیفہ ملا وہ مشن ہائی سکول سے میٹرک اور گورنمنٹ مرے کالج سے ایف اے کرنے کے بعد لاہور آ گئے اسی زمانے میں ان کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوا مولوی میر حسن نے علامہ محمد اقبالؒ میں اعلیٰ علمی و ادبی شوق پیدا کیا اور ان کی شاعرانہ صلاحیت کو نکھار بخشا 1895ء میں اقبالؒ نے ایف اے کیا پھر۔ بی اے اور 1899ء میں ایم اے فلسفے کی اسناد حاصل کیں ایم اے کے دوران انہیں سر تھامس آرنلڈ جیسے استاد سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا۔

13مئی 1899ء کو اورینٹل کالج لاہور میں عربی کے ریڈر اور بعد ازاں 14 جنوری 1901ء کو گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی و فلسفے کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور 1905ء تک وہ اس عہدے پر کام کرتے رہے اسی دور میں علامہ اقبالؒ کی پہلی کتاب، اردو کتاب علم الاقتصاد شائع ہوئی 1906ء برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بہت اہمیت اور قدر و منزلت کا سال ہے، کیونکہ اس سال ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اقبالؒ 1905ء سے 1908ء تک کیمبرج میں تعلیم حاصل کرتے رہے یہاں انہوں نے پروفیسر براؤن اور سارلی سے علم حاصل کیا۔

اقبالؒ کچھ عرصے کے بعد جرمنی چلے گئے ۔جرمنی میں اقبالؒ نے میونخ یونیورسٹی سے اپنے تحقیقی مقالے ’’ایران میں ما بعد طبیعات کا ارتقاء ‘‘کی بنیاد پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ 1908ء میں برطانیہ کے مشہور کالج لنکنز اِن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور عارضی طور پر لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر کی حیثیت سے ڈاکٹر آرنلڈ کے نائب کے فرائض انجام دیئے 9 ماہ تک برطانیہ میں خدمات انجام دینے کے بعد وطن واپس آ کر لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا 1910ء میں علامہ اقبالؒ حیدر آباد دکن تشریف لے گئے اور علی گڑھ کا دورہ کیا اسی سال ان کا سردار بیگم سے نکاح ہوا لیکن رخصتی کچھ عرصے بعد ہوئی ان کے بطن سے جاوید اقبال نے جنم لیا 1911ء میں علامہ اقبالؒ نے انجمنِ حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنی مشہور نظم ’’شکوہ‘‘ پڑھی تو ناقدین نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور پھر جب 1912ء میں موچی دروازے کے ایک بڑے اجتماع میں ’’جوابِ شکوہ ‘‘پڑھی تو سب ناقدین اور مخالفین خاموش ہو گئے۔

1922ء میں علامہ اقبالؒ کو ادبی خدمات کے طور پر برطانیہ نے ’’ سر‘‘ کا خطاب دیا۔ 5 اکتوبر 1924ء کو جاوید اقبال پیدا ہوئے علامہ اقبالؒ 1926ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، انہوں نے دسمبر 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الہ آباد میں منعقدہ 21 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنے تاریخ ساز خطبہ صدارت میں پاکستان کا دیرینہ اصول و نظریہ زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی یہ تقریر خطبہ الٰہ آباد کے نام سے مشہور ہے اس خطبے میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں ایک آزاد مسلم ریاست کا ٹھوس اور غیر مبہم خاکہ پیش کیا گیا۔ علامہ اقبالؒ کے شعری مجموعے اسرارِ خودی (فارسی) 1915ء رموز بے خودی، فارسی، 1918ء پیامِ مشرق 1923ء بانگ درا (اردو) 1924ء زبور عجم فارسی 1927ء اور جاوید نامہ 1932ء مشہور عالم ہیں جبکہ انگریزی میں اسلام اور جمہوریت اور تشکیل جدید الہبیاتِ اسلامیہ قابل ذکر ہیں۔

21 اپریل 1938ء کو مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ صبح چار بجے جاوید منزل لاہور میں جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ وہ آئے بھی دنیا میں صبح کے وقت اور واپسی بھی دنیا سے صبح کے وقت ہوئی۔ بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے پر ان کی آخری آرام گاہ بنائی گئی،ان کی نماز جنازہ مولانا غلام مرشد نے پڑھائی۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

کاش پاکستانی حکمران اب بھی قیامِ پاکستان کے فلسفے کو سمجھ لیں بے شک بہت دیر ہو چکی ہے پھر بھی بھولا ہوا مسافر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے!

مزید : کالم


loading...