پاک بھارت مصالحت کے لئے امریکی کوششیں؟

پاک بھارت مصالحت کے لئے امریکی کوششیں؟

  



پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کرانے کے لئے تیار ہے،جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں،امریکہ کو یہ حقیقت باور کرائی ہے کہ بھارت کا خفیہ ادارہ ’’را‘‘ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں بھارت کی بالادستی کسی صورت قبول نہیں،پاکستان دہشت گرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں، ہم نے اپنی سرزمین سے بلا امتیاز تمام دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے،ٹرمپ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان پر کسی دہشت گرد تنظیم کا حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔سیکرٹری خارجہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ اپنے دورۂ کابل کے بارے میں بریفنگ دے رہی تھیں۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ دورہ انتہائی اہم تھا، جس میں ہونے والی ملاقاتیں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل تھیں۔کابل حکومت نے اِس ملاقات کی افادیت کو تسلیم کیا ہے، بارڈر مینجمنٹ اور تجارت سمیت پانچ ورکنگ گروپوں کی تشکیل پر بھی اتفاق ہوا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں پاک افغان بارڈر پر متحرک ہیں، اِن کا ذکر امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کیا تھا۔

ابھی تک ایسی کوئی تفصیل تو سامنے نہیں کہ امریکہ کشمیر کے مسئلے پر پاک بھارت مصالحت کے لئے کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور مصالحت کی نوعیت کیا ہو گی تاہم پاک بھارت مذاکرات کی ناکام تاریخ ہمارے سامنے پوری تفصیل سے موجود ہے، جس کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اب تو عالم یہ ہے کہ کئی سال سے ہر قسم کے مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار چلا آ رہا ہے، مصالحت کی کوششوں کا تذکرہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سابقہ اور موجودہ سیکرٹری جنرل نے بھی ایسی پیشکش کی تھی، امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر نِکی ہیلی بھی مصالحت کی پیشکش کر چکی ہیں،چین سمیت دوسری کئی عالمی طاقتوں کی جانب سے بھی ایسی پیشکشیں ہو چکی ہیں،لیکن بھارت نے یہ سب مسترد کر دیں اب تک یہ تو معلوم نہیں کہ تازہ ترین پیشکش پر بھارت کا ردعمل کس قسم کا ہے تاہم اگر ناخوشگوار ماضی کو پیشِ نظر رکھا جائے تو تازہ پیشکش کا مستقبل بھی کوئی زیادہ روشن نظر نہیں آتا تاہم امید رکھنی چاہئے کہ بھارت اب کی بار معقولیت کا رویہ اختیار کرے گا اور کشمیر کے معاملے پر بات چیت کے لئے آمادہ ہو جائے گا۔

پاکستان کا تو ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت اپنے ہر قسم کے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے،ویسے بھی خطے کے امن کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتیں اپنے تنازعات طے کر کے پُرامن ہمسایوں کی طرح رہیں،کشمیر ایک قوم کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ یہ کوئی زمین کا تنازعہ نہیں ہے کہ بھارت اٹوٹ انگ کی رٹ لگا کر اس سے بری الذمہ ہو جائے،کشمیر کے عوام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آزادی کی یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے حالات سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ بھارت کی سات لاکھ سے زیادہ فوج اگر آزادی کے جذبے کو پابندِ سلاسل نہیں کر سکی تو دباؤ کے باقی ہر قسم کے وہ حربے بھی ناکام ہوں گے،جو بھارتی رہنما وقتاً فوقتاً آزماتے رہتے ہیں،لیکن بہترین حل مذاکرات ہی ہیں اور یہ مذاکرات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب بھارت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

امریکہ، افغانستان میں بھارت کو جو وسیع تر کردار دینا چاہتا ہے پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ اس کے لئے قابلِ قبول نہیں،کیونکہ پہلے ہی بھارت افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہا ہے،افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دہشت گردوں کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں اور طور خم و چمن کی سرحد سے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کیا جاتا ہے،گرفتار دہشت گردوں سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی کا باہمی تعاون بھی اس سلسلے میں موجود ہے۔ پاکستانی حکام یہ بات افغان انتظامیہ کے نوٹس میں لاتے رہتے ہیں۔

سیکرٹری خارجہ نے آرمی چیف کے ہمراہ حال ہی میں کابل کا جو دورہ کیا تھا اُسے انہوں نے بہت مفید قرار دیا ہے اگر اس کے نتیجے میں افغان انتظامیہ ان دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو سرحد پار کر کے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہو گی،لیکن یہ بات سالہا سال سے افغانستان کے نوٹس میں لائی جا رہی ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک اِن کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اب اگر نتیجہ خیز اقدام ہوں گے تو اس کا خیر مقدم ہی کیا جائے گا تاہم امریکہ اگر پاکستان اور بھارت کی مصالحت کرانے میں سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے تو اس پر یہ واضح کر دینا چاہئے کہ افغانستان میں وسیع تر بھارتی کردار کی پالیسی اور ایسی کوششوں کا آپس میں کوئی تال میل نہیں ہے، بلکہ یہ روّیہ متضاد ہے ۔ امریکی کوششیں اگر نتیجہ خیز ہوتی ہیں اور پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوتے ہیں تو یہ خطے کے امن کے لئے بہتر ہی ہو گا،لیکن دیکھنا ہو گا کہ بھارت کے رویئے میں کیا تبدیلی آتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے جو اقدامات کئے ہیں وہ دُنیا کے ہر صاحبِ نظر کے سامنے ہیں،امریکہ سمیت ہر جگہ اس کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے ،لیکن جب صدر ٹرمپ کے ذہن میں بھارت کی محبت جاگزین ہوتی ہے تو وہ بھارتی لائن پر چلتے ہوئے ڈومور کا مطالبہ کر دیتے ہیں اور دوسرے امریکی حکام بھی پاکستان کو ’’ ایک اور موقع‘‘ دینے کی بات کرنے لگتے ہیں،لیکن ایسا کہتے وقت یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کسی دوسرے مُلک کی مدد کے بغیر جو کامیاب کارروائیاں کی ہیں دُنیا کا کوئی دوسرا مُلک اِس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے،افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوج موجود ہے،لیکن وہاں دہشت گردی قابو میں نہیں آ رہی،یہاں تک کہ افغان نیشنل آرمی کے بارے میں ایسی شکایات بھی ہیں کہ اس کے بھگوڑے سپاہی فوج سے فرار ہوتے ہوئے اپنا جدید اسلحہ بھی افغان طالبان کو فروخت کر دیتے ہیں ایسے میں دہشت گردی پر کیا خاک قابو پایا جائے گا، کیا یہ سب باتیں امریکی انتظامیہ اور نیٹو کے فوجی حکام کے علم میں ہیں اور جب امریکی قیادت پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا افغانستان کے ایسے حالات اس کے پیشِ نظر ہوتے ہیں؟ غالباً ایسے ہی واقعات کے بعد امریکی حکومت کی یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ افغانستان میں بھارت کو کردار دیا جائے،لیکن بھارت افغانستان میں فوج بھیجنے کے لئے تو تیار نہیں ہوا، البتہ درپردہ سازشیں ضرور تیز کر دی ہیں۔ امریکہ اگر افغانستان اور خطے میں امن چاہتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ بھارت کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے، بھارت کی سرپرستی جاری رکھ کر امن کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

مزید : اداریہ