ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ روکنے کی ضرورت

ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ روکنے کی ضرورت

  



ملک میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کے فعال ہونے کے باوجود ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تین لاکھ 66 ہزار مریض رجسٹر ہوتے ہیں جبکہ ایک لاکھ 54 ہزار رجسٹریشن کے بغیر ہی روایتی طریقوں سے اپنا علاج کرتے ہیں۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ٹی بی کے ایک مریض تک پہنچنے اور اسے علاج معالجے کی سہولتیں مہیا کرنے پر سالانہ تین ملین کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے دو سو ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کی بجائے انہیں بدستور کام کرنے دیا جائیگا۔ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے حکام کی بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال ٹی بی کے پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کا اضافہ بے حد تشویشناک ہے۔ اگر ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ذریعے مریضوں کی دیکھ بھال نہ ہو رہی ہو تو ٹی بی کے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتاہے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آبادی کا بیشتر حصہ پسماندگی، غربت اور جہالت کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے۔ لوگوں کو انتہائی گندے ماحول میں شب و روز گزارنا پڑتے ہیں۔ غذائیت کی کمی، ماحول کی آلودگی کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو مکمل حفاظتی انتظامات کی سہولت میسر نہیں ہوتی ۔ حد یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی ورکشاپس میں تو معمولی اجرت دے کر بارہ سے چودہ گھنٹے تک محض کسی کپڑے کا نقاب پہنا کر کام کروایا جاتا ہے۔ محنت کشوں کے کانوں اور آنکھوں کو ڈھانپنے کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ بہت جلد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود وہ گھر کا نظام چلانے کے لئے نقصان دہ ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جہاں تک ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونے والوں کی بحالی صحت کی بات ہے، حکومتی سطح پر عالمی اداروں کے تعاون سے علاج کی سہولتیں بہتر طور پر مہیا کی جاتی ہیں۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بھی چلایا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام او ر ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل علاج سے مریض عموماً زیادہ سے زیادہ دس ماہ کے اندر صحت یاب ہو جاتا ہے اور یہ مرض اب خطرناک نہیں رہا ۔سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے کہ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے دو سو ملازمین کو سبکدوش کرنے کی تجویز کو نامنظور کر دیا تاکہ یہ ملازمین ٹی بی کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے اور رفتہ رفتہ اس میں کمی کے لئے معاون ثابت ہو سکیں۔ اگرچہ ٹی بی سے بچاؤ کے حوالے سے محکمہ صحت اور ذیلی ادارے روایتی انداز میں اشتہاری مہم ہر سال ایک سے زائد مرتبہ کرتے ہیں، لیکن عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے،جن ورکشاپس، فیکٹریوں اور کارخانوں میں انتظامیہ کی طرف سے مکمل حفاظتی اقدامات نہیں کئے جاتے، انہیں جرمانوں اور سیل کر کے اس سہولت کو یقینی بنانے پر مجبور کرنے سے ٹی بی کے مریضوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے اس کے لئے متعلقہ سرکاری ملازمین پر بھی سختی ہونی چاہئے، اگر کسی فیکٹری یا کارخانے میں حفاظتی انتظامات نہ ہوں تو فیکٹری اور کارخانے کے مالکان کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام اور محکمہ صحت کو رجسٹریشن نہ کرانے والوں کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے۔اس مرض میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے حکومت پسماندگی اور جہالت کی شرح کم کرنے پر توجہ دے۔غذائیت کی کمی کے سلسلے میں سپیشل پروگرام کے تحت سہولتیں دی جائیں۔

مزید : اداریہ


loading...