تفہیمِ اقبال: ایک مختصر نظم کا تحسینی جائزہ

تفہیمِ اقبال: ایک مختصر نظم کا تحسینی جائزہ
 تفہیمِ اقبال: ایک مختصر نظم کا تحسینی جائزہ

  



آج پاکستان میں اقبال کے یوم پیدائش پر عام تعطیل ہوتی ہے یا نہیں، قوم کو حکیم الامت کی یاد سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ مجھے بھی آج اقبال کی ایک ایسی نظم یاد آ رہی ہے جو حجم میں مختصر لیکن معانی میں لامحدود ہے۔

بانگِ درا کے حصہ ء سوم میں درج اس سات اشعار پر مشتمل نظم کا عنوان ہے ’’ارتقاء‘‘ اور اس کا پہلا شعر تو ایسا ہے جس کے حوالے ہم اپنے اکثر مضامین و تحاریر میں دیتے رہتے ہیں۔ شعر یہ ہے:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی

اس نظم میں فنِ شاعری، پیامِ اقبال، مفہوم و مطالبِ کلامِ اقبال اور اشعارِ اقبال میں موسیقی کے علاوہ عالمگیر صداقت (Universal Truth) کا بھی ایک بے مثال نمونہ ملتا ہے۔

لیکن اس نظم کی لفظی اور معنوی مشکلاتِ کے سبب اس کو وہ عمومی پذیرائی نہیں مل سکی جو کلامِ اقبال کے کئی دوسرے حصوں کو ملی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک اوسط فہم نوجوان پاکستانی کے لئے اس نظم کے لفظی معانی کی تشریح کرنے کی ضرورت ہے۔

درج بالا شعر میں پہلا لفظ ’’ستیزہ کار‘‘ ہی اتنا اجنبی سا لگتا ہے کہ قاری کو لغات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس فارسی الاحاصل لفظ کا مطلب ہے: مصروفِ پیکار، مصروفِ جنگ یا لڑائی میں ہمیشہ مصروف رہنے والا کوئی جاندار یا بے جان عنصر۔ اس شعر کا سلیس ترجمہ یہ ہوگا : ’’ازل سے لے کر آج تک چراغِ مصطفی سے شرارِ ابو لہب مصروفِ جنگ و جدال رہا ہے‘‘۔۔۔ شاعر نے بولہب کی تحقیر دکھانے کے لئے اس کو ایک معمولی سا شرارہ قرار دیا ہے جبکہ حضرت محمد مصطفیﷺ کی عظمت کے اظہار کے لئے اس شرارے کے مقابلے میں لفظ ’’چراغ‘‘ استعمال کیا ہے۔چراغ ویسے بھی دیرپا روشنی اور اجالے کا ایک استعارہ ہے جبکہ شرارہ ایک لمحاتی اور عارضی چمک دکھا کر بجھ جاتا ہے۔

علاوہ ازیں چراغ، نورِ خدا کا استعارہ بھی ہے اور شرارہ آتشِ ابلیس کی طرف قاری کے ذہن کو لے جاتا ہے۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب (آج) تک نیکی اور بدی، خیر اور شر، اور اچھائی اور برائی کی قوتیں اگرچہ دست و گریبان رہی ہیں لیکن چراغِ حق کو شرارِ باطل پر ہمیشہ سبقت اور فتح حاصل رہی ہے۔۔۔ دوسرا شعر ہے:

حیات شعلہ مزاج و غیور و شور انگیز

سرشت اس کی ہے مشکل کشی، جفاطلبی

یہ شعر اور اس کے بعد کے تین اشعار اقبال کے فلسفہء کوشش و کاوش اور پیامِ جدوجہد کی ایسی لازوال وضاحت ہے کہ عقل انسانی اقبال کے شعری محاسن دیکھ اور سن کر حیرت میں ڈوب ڈوب جاتی ہے۔زندگی طبعاً شعلہ مزاج، غیرت مند اور شور انگیز ہے اور اسی ایک موضوع کی تفسیر پر اقبال کا نصف کلام مشتمل ہے۔

کہتا ہے کہ اگر ہم سب کی آخری منزل موت ہی ہے تو پھر کیوں نہ ابھی اٹھیں اور حشر بپا کر دیں اور افلاک میں غلغلے بلند کر دیں: ’’آخرش منزلِ ما وادیء خاموشان است، حالیہ غلغلہ درگنبدِ افلاک انداز‘‘۔۔۔ کبھی کہتا ہے کہ آؤ مل کر آسمان کی چھت پھاڑ ڈالیں اور ایک جہانِ نو ایجاد کر لیں: ’’بیاتاگل بیافشانیم ومے درساغر اندازیم، فلک راسقف بشگافیم و طرحِ نو دراندازیم۔‘‘۔۔۔ کبھی خدا کو چیلنج کرتا نظرآتا ہے : ’’اسی انجم کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن، زوالِ آدمِ خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟‘‘

اور پھر زندگی کی ایک ایسی عالمگیر خصوصیتبیان کرتا ہے جو زندگی سے چھین لی جائے تو وہ محض مٹی کا ایک ڈھیر رہ جاتی ہے اقبال کے نزدیک مشکل کشی اور جفاطلبی ہی زندگی کی اصل حقیقت اور اس کی اساس ہے۔

اس نکتے کی تشریح کے لئے شاعر براہینِ قاطع اور انوکھے دلائل پیش کرتا ہے۔۔۔ تیسرا شعر دیکھئے:

سکوتِ شام سے تا نغمہ ء سحر گاہی

ہزار مرحلہ ہائے فغانِ نیم شبی

ویسے تو بالعموم شام سے صبح تک سونے اور نیند کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ آہ و فغاں بلند کرنے اور نالہ و فریاد کا نہیں ۔ لیکن شاعر نے اس سکوت اور خاموشی کی تفریحی مدت میں بھی زندگی کو خفتہ نہیں، بیدار دکھایا ہے جو نجانے کتنے ہزار مرحلہ ہائے آہ و فغاں سے گزرتی ہے۔فرماتے ہیں ۔۔۔ کہ خونِِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔۔۔ مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا۔۔۔اور۔۔۔ نوائے صبحگاہی نے جگرخوں کر دیا میرا، خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے ۔

اس طرح کے بے شمار مصرعے اور اشعار اسی موضوع پر ملتے ہیں۔ اب اگلے دو اشعار بظاہر فارسی زبان کے نظر آتے ہیں لیکن ان کو اردو اشعار بھی کہا جا سکتا ہے۔اردو زبان کی جامعیت، ویسے بھی عربی اور فارسی زبانوں کی جامعیت سے مستعار ہے۔ چوتھا شعر یہ ہے:

کشا کشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش

زخاکِ تیرہ دروں، تابہ بہ شیشہء حلبی

اس بظاہر فارسی شعر کا اردو ترجمہ یہ ہے : ’’کالی مٹی سے حلب کا روشن شیشہ بنانے تک کا عمل سردی، گرمی، بھٹی میں پکنے، تراشنے اور خراشنے سے عبارت ہے۔۔۔ لیکن اس شعر کا اصل مطلب اس وقت تک واضح نہیں ہوگا جب تک فنِ شیشہ سازی کا ایک مختصر تعارف قارئین کے سامنے نہ رکھ دیا جائے۔

دنیا میں بلجیم اور حلب کا شیشہ بہت مشہور ہے۔ بلجیم میں تو صرف شیشہ صاف کرنے اور بلور بنانے کے جدید کارخانے ہیں مگر حلب (ملک شام کا ایک صوبہ) میں وہاں کی مٹی ایسی ہے کہ بالعموم سیاہی مائل ہوتی ہے اور اس میں سلیکاریت کے وہ ذرات پائے جاتے ہیں جو شیشہ بنانے کے کام آتے ہیں۔

اس مٹی (خاک) کو پہلے شدید درجہ ء حرارت والی بھٹی میں گرم کیا جاتا ہے، پھر برف بنانے والے کارخانے میں ڈالا جاتا ہے تو وہ برف کی طرح جم کر ایک ٹھوس بلاک سا بن جاتی ہے۔ اس بلاک کو دوبارہ بھٹی میں ڈالا اور پھر وہاں سے نکال کر دوبارہ برف میں تبدیل کیا جاتاہے۔ کئی بار کے اس عمل کے بعد وہ بلاک شیشہ بن جاتا ہے۔

پھر اسے تیز دھار آلے سے کاٹا (تراشا) جاتا ہے اور بعدازاں اس کو مزید چمکدار بنانے کے لئے مزیدکاٹا (خراشا) جاتا ہے۔۔۔ اقبال فرماتے ہیں کہ حلب کی سیاہی مائل مٹی کو اس کے شیشہ بننے تک سردی، گرمی اور تراش خراش کے کئی مرحلوں سے گزارا جاتا ہے۔

شاعر نے کمال یہ بھی کیا ہے کہ یہ پراسس جن مراحل سے گزرتی ہے اس کی ترتیب و تدریج بھی اس مصرعے میں بیان کر دی ہے ۔ایک بار اور اس مصرعے کو دیکھئے: ’’کشاکشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش‘‘۔۔۔

اور اب پانچواں شعر بھی ملاحظہ کیجئے جو عین مین اسی کشاکشِ پیہم کی تفسیر ہے:

مقامِ بست و شکست و فشارو سوز و کشید

میانِ قطرۂ نیساں و آتشِ عنبی

نیساں اس بارش کو کہا جاتا ہے جو بعض علاقوں میں گرمی کے چند خاص ایام میں برستی ہے اور جس سے انگور کی سوکھی سڑی کالی کلوٹی شاخوں میں نمی پیدا ہو کر چار پانچ ماہ کے بعد میٹھے انگور بنتے ہیں جن سے شراب کشید کی جاتی ہے۔

عربی زبان میں عنب انگور کو کہتے ہیں اور آتشِ عنبی کا مطلب ’’شراب‘‘ یا ’’شرابِ انگور‘‘ ہے۔۔۔ میں نے خود اس شراب کو بنتے دیکھا ہے۔ سکردو میں غضب کی سردی پڑتی ہے لیکن وہاں انگور بھی بہت ہوتا ہے۔

انگور سے شراب بنانے کا عمل پانچ مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی پہلے انگور کی بیل کاشت کرنا (جسے اقبال نے ’’بست‘‘ باندھا ہے) پھر انگور پک جائیں تو ان کو توڑنا (جسے ’’شکست‘‘ کہا گیا ہے) پھر ان کو نچوڑنا (جسے ’’فشار‘‘ باندھا گیا ہے)، پھر ان کو بھٹی میں آگ پر پکانا (جسے ’’سوز‘‘ کہاگیا ہے) اور پھر آخر میں اس کو چھاننا (جسے ’’کشید‘‘ کا نام دیا گیا ہے)۔۔۔ یہ سب شراب سازی کے تدریجی مراحل ہیں۔

قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ انگور کوشراب بنانے میں جن پانچ مرحلوں سے گزارا جاتا ہے وہ عین مین اسی ترتیب سے اقبال نے بیان کر دیئے ہیں:

مقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشید

یعنی ابر نیساں کی بارش سے لے کر آتشِ عنبی تک انگور کو جن آزمائشوں اور مشکلوں سے گزارا جاتا ہے، وہ اقبال نے علی الترتیب بیان کر دی ہیں۔ غور کیجئے تو زندگی کا فلسفہ بھی یہی ہے۔اور لیس لاانسان الا ماسعٰی کا مفہوم بھی یہی ہے۔ پیامِ مشرق میں بھی حکیم الامت نے اسی فلسفہء حیات کا ذکر ایک شعر میں کیا ہے۔۔۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دانا سے یہ سوال کیا کہ : ’’زندگی کیا ہے؟‘‘ وہ بولا کہ : ’’زندگی ایک ایسی شراب ہے جو جتنی کڑوی ہوگی، اتنی ہی زود اثر اور قیمتی ہوگی‘‘:

پرسیدم از بلند نگا ہے حیات چیست؟

گفتا مئے کہ تلخ ترِاو، نکوتر است

انفرادی جدوجہد پر یہ سیر حاصل تبصرہ کرنے کے بعد اقبال اسی کلیئے کو اقوامِ عالم پرلاگو کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:

اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام

یہی ہے رازِ تب و تابِ ملتِ عربی

فرماتے ہیں کہ نہ صرف ملتِ اسلامیہ کی تب و تاب کا راز یہی جدوجہد اور کشاکش ہے بلکہ دنیا کی تمام قوموں کی شہرت اور عظمت کا دار و مدار بھی اسی کشاکش پر ہے۔ جس قوم نے اس کشاکش سے منہ موڑا ،سمجھ لیجئے کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔

اقوامِ عالم کی زندگی محض لگاتار کوشش اور مسلسل کاوش پر انحصار رکھتی ہے۔

اس نظم کا ساتواں اور آخری شعر کسی فارسی شاعر کا ہے جو اقبال کے اسی فلسفہء کشاکش کی مزید وضاحت ہے۔اور اقبال نے اسے اپنے موضوع کی صراحت کے لئے یہاں کوٹ کیا ہے۔ شعر یہ ہے:

مغاں کہ دانہ ء انگور آب می سازند

ستارہ می شکنند، آفتاب می سازند

اس شعر کا اردو ترجمہ یہ ہے: (وہ شراب بنانے والے یا شراب فروش جو انگور کے دانے سے آب (شراب) بناتے ہیں وہ گویا ستارہ (انگور) توڑتے اور آفتاب (شراب) بناتے ہیں)

دانہ ء انگور کو ستارہ اور آبِ انگور کو آفتاب قرار دینا بہت بلیغ اور وسیع المعانی استعارے ہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقبال کے اردو کلام کا مفہوم جاننے کے لئے نہ صرف معلوماتِ عامہ پر دسترس ضروری ہے بلکہ فارسی شعر و ادب کا مطالعہ بھی پیشگی شرط ہے۔

اور پھر ان استعاروں کو شعروں میں ڈھال کر ان میں دوسرے فنی محاسن کے گہر ٹانکنا جتنا شاعر کے لئے مشکل کام ہے اتنا ہی مشکل ان گہر ہائے آبدار کی خصوصیتوں اور خوبیوں کو سمجھنا اور سمجھانا بھی ہے۔

مزید : کالم


loading...