آرڈننس فیکٹری ضرورت پوری کرنے کے بعد فاضل پیداوار برآمد کررہی ہے ، ڈائریکٹر

آرڈننس فیکٹری ضرورت پوری کرنے کے بعد فاضل پیداوار برآمد کررہی ہے ، ڈائریکٹر

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان آرڈننس فیکٹری مسلح افواج کی دفاعی ضروریات کو مقامی طور پر پورا کرنے کے علاوہ فاضل پیداوار برآمد بھی کر رہی ہے جبکہ فاضل استعداد کار کی کمرشلائزیشن کیلئے 13 ذیلی ادارے خاموش مجاہد کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ بات واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر خالد لطیف نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں اسلحہ سازی کی 16 فیکٹریاں تھیں لیکن پاکستان کے حصے میں ایک بھی نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ 7 نومبر 1951 کو پاکستان آرڈننس فیکٹری کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے کیا تھا جس نے پاکستان کی مسلح افواج کی ضروریات کو مقامی طور پر پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیکٹری آج ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ فاضل پیداوار کو برآمد بھی کر رہی ہے۔ مزید برآں اس کے 13 ذیلی ادارے اپنی فاضل پیداوار اور سروسز کی کمرشلائزیشن بھی کر رہے ہیں جن سے مقامی صنعتوں کو فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ذیلی اداروں کی مصنوعات اور سروسز کی کمرشلائزیشن کیلئے واہ انڈسٹریز لمیٹڈ قائم کی گئی ہے جس کے پاس صنعت سے متعلق ایک وسیع پیداواری رینج ہے جبکہ اس کے ذیلی ادارے بین الاقوامی طور پر سرٹیفائیڈ ہیں اور اس کی سرٹیفیکیشن کو بین الاقوامی طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واہ انڈسٹریز نے ایک کولنٹ بھی تیار کیا ہے جو عالمی معیار کا ہے اور توقع ہے کہ اسے بہت جلد مارکیٹ میں متعارف کرا دیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں دستیاب کولنٹ صرف پانی اور رنگ پر مشتمل ہیں جبکہ پی او ایف کا کولنٹ صحیح معنوں میں کولنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کو واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کی ان خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اپنی مصنوعات کو متعارف کرانے کیلئے وہ اس سے قبل لاہور اور سیالکوٹ چیمبر میں بھی پریذنٹیشن دے چکے ہیں۔ واہ براس ملز کے جنرل منیجر سیلز اینڈ مارکیٹنگ واصف افضال تاثیر نے واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کے بارے میں ایک دستاویزی فلم دکھائی اور بتایا کہ دنیا میں ہتھیاروں کی بہت بڑی صنعت معرض وجود میں آچکی ہے۔ اب یہ صرف مسلح افواج تک محدود نہیں رہی اس میں نجی شعبہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ واہ انڈسٹریز جو سہولتیں دے رہی ہے ان سے کوئی بھی انڈسٹری فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ٹیسٹنگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ان کے کلکشن سنٹر واہ کے علاوہ لاہور اور کراچی میں بھی قائم ہیں۔ فیصل آباد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ فوجیوں کیلئے نیا لباس تیار کر رہا ہے جس کے کمرشل استعمال کیلئے فیصل آباد کے صنعتکاروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے فیصل آباد کے ممبران سے کہا کہ وہ ان سہولتوں کو دیکھنے کیلئے ذاتی طور پر واہ کا دورہ کریں تا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یا مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کے مختلف ذیلی اداروں کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ وہ مزید معلومات کیلئے ان کے پورٹل کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سابق صدر انجینئر رضوان اشرف نے واہ آرڈننس فیکٹری کی 59 ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس فیکٹری نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہاں چھوٹے ہتھیارتیار ہوتے تھے جبکہ آج یہاں جدید قسم کے ہتھیار بھی تیار ہو رہے ہیں جن کو عالمی منڈیوں میں بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ سوال و جواب کی نشت میں سیکرٹری جنرل عابد مسعود اور ثناء اللہ خاں نیازی نے حصہ لیا جبکہ سابق صدر مزمل سلطان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ آخر میں نامزد نائب صدر عثمان رؤف نے واہ انڈسٹریز لمیٹڈ کے ڈائریکٹر خالد لطیف کو جبکہ ایگزیکٹو ممبر امجد علی امجد نے واصف افضال تاثیر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی شیلڈیں پیش

مزید : کامرس