منگلا جھیل کی عمر 115سے بڑھ کر 269سال ہوگئی ، چیئرمین واپڈا کو بریفنگ

منگلا جھیل کی عمر 115سے بڑھ کر 269سال ہوگئی ، چیئرمین واپڈا کو بریفنگ

  



لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین( ریٹائرڈ) نے منگلا واٹر شیڈ مینجمنٹ پراجیکٹ کا دورہ کیا اور پراجیکٹ کے تحت عمل میں لائے جارہے مختلف اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر منگلا ڈیم ریزنگ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر منگلا واٹر شیڈ مینجمنٹ بھی اِس دوران موجود تھے ۔اِس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ واٹر شیڈ مینجمنٹ کا آبی ذخائر کی عمر بڑھانے میں اہم کردار ہے کیونکہ واٹر شیڈ مینجمنٹ کے باعث زمین کے کٹاؤ کو روکنے اور آبی ذخائر میں پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کی مقدار کم کرنے میں مدد ملتی ہے ، لہٰذا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم تعمیر کرنے کی طرح واٹر شیڈ مینجمنٹ بھی نہایت اہم ہے ۔ اُنہوں نے متعلقہ آفیسرز کو ہدایت کی کہ وہ منگلا واٹر شیڈ مینجمنٹ پراجیکٹ کے مقررہ ہدف حاصل کرنے پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھیں۔بریفنگ کے دوران چیئرمین واپڈا کو بتایا گیا کہ واپڈا 1960 ء سے منگلا واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرام پر تسلسل کے ساتھ عمل کر رہا ہے تاکہ منگلا جھیل میں پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کو کم کیا جاسکے ۔ اِس پروگرام کا دائرہ کار آزاد کشمیر اور پاکستان میں 5ہزار 710مربع میل پر مشتمل جھیل کے کیچ منٹ ایریا تک پھیلا ہوا ہے ۔1966 ء سے 2017 ء تک گزشتہ 51 برسوں میں مذکورہ پروگرام کے تحت کئے گئے قابلِ ذکر اقدامات میں واٹر شیڈ مینجمنٹ کی نرسریوں میں 13 کروڑ پودوں کی افزائش کی گئی ، منگلا کے کیچ منٹ ایریا میں ایک لاکھ 66ہزار 653 ایکڑ رقبے پر جنگلات لگائے گئے، 3 ہزار 746 انجینئرنگ سٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ زمین کو کٹاؤ سے بچانے کے لئے بے شمارسٹرکچرز تعمیر کئے گئے ۔یہ امرقابلِ ذکر ہے کہ 1960ء میں منگلا ڈیم کے ڈیزائن کے وقت پراجیکٹ کنسلٹنٹس نے منگلا جھیل کی عمر کا اندازہ 100سے 115 سال لگایا تھا ۔ کنسلٹنٹس کے اندازے کے مطابق جھیل میں ہر سال 42 ہزار ایکڑ فٹ مٹی جمع ہونا تھی ۔ تاہم واٹر شیڈ مینجمنٹ پراجیکٹ کی وجہ سے جھیل میں مٹی جمع ہونے کی شرح کم ہوکر 27 ہزار 747 ایکڑ فٹ سالانہ رہ گئی ہے

،ایک اندازے کے مطابق مؤثر واٹر شیڈ مینجمنٹ اور منگلا ریزنگ پراجیکٹ کی تکمیل کی وجہ سے منگلا جھیل کی عمر 115 سال سے بڑھ کر 269 سال ہوگئی ہے ۔ منگلا جھیل کی عمربڑھنے سے کس قدر فائدہ ہوگا، اِس بات کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ منگلا سے صرف ایک سال کے دوران پانی اور پن بجلی کی مد میں اربوں روپے کے فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔

مزید : کامرس


loading...