علامہ اقبالؒ کے مثالی معاشرے کی نوعیت اور اقدار

علامہ اقبالؒ کے مثالی معاشرے کی نوعیت اور اقدار

  



(ولید اقبال شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پوتے اور لاہور میں وکالت کرتے ہیں)

اپنی شاعری اور فلسفیانہ تحریروں کے ذریعے علامہ اقبالؒ ، ذات، خودی اور خودشناسی کے ذریعے، انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر، انسان کی رفعت پر۔۔۔ آدمی کے تغیر و تقلب اور فلاح پر۔۔۔ مستحکم یقین رکھنے والے کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اپنے تصورِ خودی میں بیان کیا۔ اُن کی تعلیمات یہ ضابطہ پیش کرنے میں مدد دیتی ہیں کہ اپنی خودی کو کیسے مستحکم، مضبوط اور بلند کیا جائے اور وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس خودی کو کیا شے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر منتشر، تباہ اور تقسیم کرتی ہے۔

اس تناظر میں، علامہ اقبالؒ فرد کی اہمیت پر جوزور دیتے ہیں، اُس کے ساتھ ساتھ وہ اتنی ہی اہمیت معاشرے کی افضلیت کو بھی دیتے ہیں، اپنے اراکین کے مجموعے سے بڑے ایک وجود کے طور پر ۔۔۔انسانی Synergy کے پاور ہاؤس کے طور پر ایک معاشرہ۔۔۔ جیسا کہ انہوں نے 1910ء میں علی گڑھ میں دیئے گئے ایک لیکچر میں فرمایا، ’’معاشرہ، اس میں موجود افراد سے کہیں بڑھ کرہے، یہ اپنی نوعیت میں لامحدود ہے، اس میں اَن گنت نازائیدہ نسلیں بھی شامل ہیں، جو اگرچہ فوری سماجی وژن یا بصیرت کی حدود سے باہر ہیں مگر انہیں زندہ کمیونٹی کا انتہائی اہم حصہ سمجھا جانا چاہیے۔۔۔ ایک کامیاب گروہی یا اجتماعی زندگی میں یہ وہ مستقبل ہے جسے ہمیشہ حال کو کنٹرول کرنا ہوگا‘‘۔

اس نکتے پر علامہ اقبالؒ کے ان کی شائع شدہ تحریروں کی گہرائی اور وسعت میں بیان کئے گئے تصورات پوری صراحت اور ایقان کے ساتھ آگاہ کرتے ہیں اور اسی لئے اس مقالے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ایک مضبوط اور قومی معاشرہ، ایک حقیقتاً بلند مرتبہ سماجی یا ایک مثالی معاشرہ وہ ہے جو جدید اور تجدید شدہ اسلامی تصورات پر مبنی ہو اور یوں ایک متحد، مستحکم، مساواتِ انسانی، مناسب تعلیم یافتہ، اخلاقی طور پر آزاد، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ، سائنسی طور پر مستحکم، پر امن اور سماجی طور پر جمہوری ہو۔

سب سے پہلے تو علامہ اقبالؒ یہ رائے دیتے ہیں کہ توحید کا جو ہر ایک کار آمد تصور کے طور پر انسانی وحدت، انسانی مساوات اور انسانی آزادی ہے اور یہ کہ یہ مثالی اصول ایک واضح انسانی تنظیم کی تکمیل یا عمل پذیری میں تبدیل کرتا ہوں گے۔ یہ رائے کہ انسانیت، ربوبیت یا الہٰیت میں باہم ملتی ہے کہ انسانیت کو الہٰیت میں مساوات حاصل ہوتی ہے، یہ کہ انسانیت الہٰیت میں آزادی پاتی ہے، یہ کہ اگر الہٰیت سے انکار اور اس کا عدم احترام کیا جائے تو نسل انسانی تقسیم اور منتشر ہو جائے گی، یہ تحمل، قومی انضمام، بین العقائد ہم آہنگی اور تہذیبوں کے ڈائیلاگ کی راہ میں آج اور اس زمانے میں چراغِ راہ کا کام دیتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نکتہ نظر سے، ’’ اسلام کا سیاسی تصور تمام نسلوں اور قومیتوں کے آزادانہ فیوژن یا ملاپ سے لوگوں کی تخلیق پر مشتمل ہے‘‘۔۔۔ اور ’’۔۔۔جس لمحے اسلامی اصولوں پر ہماری گرفت کمزور پڑتی ہے، ہماری کمیونٹی کی یک جہتی ختم ہوجاتی ہے‘‘۔

دوم، علامہ اقبالؒ کی نظر میں معاشرے کا عروج و زوال زیادہ تر اُن افراد کے طرزِ عمل پر انحصار کرتا ہے، جو اس کی قیادت کرتے ہیں اور اس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اپنے پہلے شعری مجموعے بانگِ درا کی ایک مختصر نظم میں علامہ اقبالؒ معاشرے کو ایک جسم اور افراد کو اس جسم کے اعضاء سے تعبیر کرتے ہیں: اس کی صنعتوں میں کام کرنے والوں کو اس کے ہاتھ پیر کہا گیا، حکومت کے انتظام میں مدد کرنے والوں کو اس کے حسین چہرے سے تشبیہہ دی گئی اور وہ جو فنون کی تخلیق سے وابستہ ہوتے ہیں۔۔۔ علامہ اقبالؒ شعرا کو اسی ضمن میں رکھتے ہیں۔۔۔ اس جسم کی آنکھیں ہیں۔ نتیجے کے طور پر معاشرے کی رہنمائی یا اس کی ترجمانی کرنے والوں کی ناکامی اس معاشرے کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔یوں علامہ اقبالؒ تین وجوہات کی نشاندہی کرتے ہیں جو پچھلی چند صدیوں میں مسلم دنیا کے زوال پر منتج ہوئیں۔ یعنی ملاازم، صوفی ازم اور خاندانی بادشاہت کے میدانوں میں زوال۔ لیکن اس توضیح میں علامہ اقبالؒ مسلمان علمائے دین، صوفیا اور حکمرانوں کو یکسر مسترد نہیں کرتے، بلکہ نشاندہی کرتے ہیں کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں قانون، صوفی ازم اور سیاست کے یہی تین ایریاز وقتاً فوقتاً اسلام کی متحرک روح کی ترجمانی کرتے رہے۔ ان کا خیال ہے کہ محض بعد کے مراحل پر علما جو ہر اور اصل کی بجائے صورت پر غور و فکر کرنے لگے، صوفیاء روح کی بجائے مادے میں گم ہوئے اور حکمران ذاتی مفاد کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے لگے۔

اس قرآنی طاقت سے مہمیز پا کر کہ خدا نے بندے میں خود اپنی روح پھونکی ہے۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمات آدمی کی اس شہادت پر زور دیتی ہیں کہ خدا بلاشبہ انسان کے اندر موجود ہے کہ اسی میں اخلاقی اور روحانی زندگی جو ہر مخفی ہے۔علامہ اقبالؒ یوں ہر ایسے معاشی، اخلاقی یا سماجی سیاسی سٹرکچر کی مذمت کرتے ہیں، چاہے وہ داخلی ہو یا بین الاقوامی، جو آدمی کے وقار اور تقدس کو دبا دیتا ہو اور اس کی اس طور پر تشکیلِ نو میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ جو انسان کی اس دنیا میں نیابت کو بحال کر سکے۔ اس لئے علامہ اقبالؒ کے نزدیک ایک اہم بات یہ ہے کہ انہی تین اداروں، قانون، صوفی ازم اور سیاست کو مسترد کرنے کی بجائے ان کی اصلاح کی جائے، ایک وقت میں جنہوں نے ترقی کی قوتوں کے طور پر اسلام کی خدمت کی اور دوسرے وقت میں زوال کی قوتوں کے طور پر کام کیا۔

جہاں معاشرے کی ترقی و استحکام کے لئے قابل اور اہل رہنماؤں کا ہونا بلاشبہ اہم ہے، وہیں جہاں تک علامہ اقبالؒ کی بات ہے، عوام کی سماجی و اقتصادی فلاح جس کا انہوں نے اظہار کیا، اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’’کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی اس کے عوام ہوتے ہیں، انہیں بہتر خوراک، بہتر رہائش اور مناسب تعلیم ملنی چاہیے۔ اپنے وقت کی مسلمان کمیونٹی کے نچلے طبقے کی غربت زدہ حالت اور ان کے گردوپیش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وہ سوال اٹھاتے ہیں:

’’کیا ہم نے کبھی ادراک کیا کہ ہماری انجمنوں اور لیگز کا فرض ہے افراد کو نہیں بلکہ عوام کو سرفراز کرنا؟ مسلمان سیاسی کارکن کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ہے کہ اپنی کمیونٹی کے معاشی حالات کو کیسے بہتر کیا جائے۔ یہ اسی کا فرض ہے کہ ہندوستان کے عمومی معاشی حالات کا احتیاط سے جائزہ لے اور ان وجوہات کی تحقیق کرے جو انہیں یہاں تک لائیں۔ یہ صورتِ حال کتنی ان بڑی معاشی طاقتوں کے باعث ہے۔ جو جدید دنیا میں کام کر رہی ہیں، کتنا تاریخی واقعات،روایات، تعصبات اور اس سرزمین کے لوگوں کی اخلاقی کجیوں کے باعث، کس قدر حکومت کی پالیسی کے سبب، اگر ہے یہ سوالات ہیں جو دوسرے سوالات سے بڑھ کر اس کے دماغوں پر طاری ہونا چاہئیں۔ یقیناًمسئلے سے ایک وسیع تر، غیر جانب دارانہ، غیر فرقہ ورانہ جذبے کے ساتھ نمٹنا ہوگا،کیونکہ معاشی قوتیں تمام کمیونٹیوں پر ایک سا اثر انداز ہوتی ہیں‘‘۔

سوم، علامہ اقبالؒ کا مزید یہ ماننا ہے کہ تعلیم کا مناسب اور مستحکم نظام ہی مسلم دنیا میں فکر اور عمل کی نشاۃِ ثانیہ کر سکے گا اور یہ وہ میدان ہے جس میں ان کے خیالات کسی طور ان کے مصلح پیش رو سرسید احمد خان کی تعلیمات میں پیش رفت اور ایک طرح سے تضاد کی بھی ترجمانی کرتے ہیں۔ سرسید احمد خان جن کی علامہ اقبالؒ تعریف کرتے تھے، انہوں نے جہاں سماجی ترقی کی خاطر مسلمانوں کو جدید تعلیم کے حصول کی ضرورت کی ترغیب دی۔۔۔ جس نے انہیں سرکاری اور دیگر ایسی نوکریوں کے حصول کے قابل بنایا اور ہندوستانی معاشرے میں انہیں اپنے ماضی کے سے باعزت مقام کو دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دی۔۔۔ علامہ اقبالؒ کا ماننا ہے کہ تعلیم کی قدر و اہمیت محض روزگار کے حصول سے بڑھ کر ہے، یہ کردار سازی کے کئی طرفہ ذرائع ہیں، جس کے ذریعے معاشرہ بقا پاتا اور جاری رہتا ہے۔علامہ اقبالؒ کے ذہن میں یہ اسلام کے سماجی، اخلاقی اور سیاسی تصورات کی تلقین کو ضروری بناتا ہے ،کیونکہ ’’زندگی کا شعلہ دوسروں سے مستعار نہیں لیا جا سکتا، اسے کسی کی اپنی روح کے معبد میں ہی روشن کیا جا سکتا ہے اس کے لئے پُرخلوص تیاری اور نسبتاً مستقل پروگرام کی ضرورت ہے۔‘‘

’’صرف اقتصادی غورو فکر کو ہی عوام کے طور پر ہماری سرگرمی کو متعین نہیں کرنا چاہیے، کمیونٹی کے اتحاد کا تحفظ، مسلسل قومی زندگی ، محض فوری ضروریات کی خدمت سے کہیں بلند تر تصور ہے۔ کوئی بھی کمیونٹی اپنے ماضی سے مکمل طور پر قطع تعلق کی متحمل نہیں ہو سکتی اور ہماری کمیونٹی کے معاملے میں یہ تاکیدی طور پر درست ہے جس کی اجتماعی روایت ہی اس کی قوتِ حیات کے اصول پر مشتمل ہے۔ اس لئے ایک تازہ تعلیمی تصور کی تشکیل قطعی طور پر ضروری ہے جس میں مسلم ثقافت کے عناصر ایک نمایاں جگہ پائیں اور ماضی اور حال باہم ہم آہنگی سے ملیں۔ایسے کسی تصور کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں، اس کے لئے اعلیٰ تخیل، جدید زمانے کے رجحانات گہری سمجھ اور مسلم تاریخ اور مذہب کے مطالب پر مکمل گرفت کی ضرورت ہے۔‘‘

اس تاکید و تلقین میں سماجی سیاسی مضمرات بھی شامل ہیں1903:ء میں علامہ اقبال ؒ نے سر سید احمد خان کو ایک شاعرانہ خراجِ تحسین پیش کیا جو ’’سر سید کی لوحِ تربت‘‘ کے نام سے بانگِ درا میں شامل ہے۔اس میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ اسلام ترکِ دُنیا کا درس نہیں دیتا اور ’’ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کی عصا‘‘ کہ جس میں علامہ اقبال ؒ نے اپنی اکثر استعمال کی کئی تمثیل میں ضربِ کلیم کو زیادہ تر سیاسی معانی میں طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ علامہ اقبال ؒ کے سماجی سیاسی بیانیے میں یوں خوف پر غالب آ نا اور جرأت و حوصلہ کرنے کو بار بار موضوع بنایا گیا ہے جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں:

’’انسان اخلاقی ترقی کے اعلیٰ ترین مقام کو تب پہنچتا ہے جب وہ خوف پر غالب آ جاتا ہے۔ اسلام کے سٹرکچر کو منظم کرنے والا مرکزی ربط یہ ہے کہ خوف انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اسلام کا مقصد آدمی کو خوف سے آزاد کرنا ہے اور یوں اسے اس کی شخصیت کا احساس و ادراک دینا اور طاقت کے ذریعے کے طور پر خود اپنی ذات کا شعور دینا ہے۔‘‘

اس سے بڑھ کر، علامہ اقبال ؒ زندگی کے تمام دائروں یا حلقہ اثر میں رہنمائی کے طور پر، اسلام کے دیئے گئے ایک جامع، مختلف النوع اور یکجا تصور اور ایک بلند تر اخلاقی یا وحی و الہام پر مبنی قانون کو تسلی کرنے پر پختہ یقین رکھنے والے ہیں۔

’’ آپ جس عقیدے کی ترجمانی کرتے ہیں وہ فرد کی اہمیت کو پہچانتا ہے اور اسے خدا اور انسان کی خدمت میں سب کچھ دے دینے کی تربیت کرتا ہے۔اس کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے۔یہ اب بھی ایک نیا جہاں تخلیق کر سکتا ہے، جہاں انسان کا سماجی رتبہ اس کی ذات یا رنگ سے یا اس کی کمائی رقم سے طے نہ ہو،بلکہ اس کی زندگی سے جو وہ گزارتا ہو، جہاں غریب امیروں سے ٹیکس لیتے ہوں، جہاں انسانی معاشرے کی بنیاد پیٹ کی مساوات نہیں، بلکہ روحوں کی مساوات ہو، جہاں اچھوت بادشاہ کی بیٹی سے بیاہ کر سکیں،جہاں ذاتی ملکیت ٹرسٹ یا وقف ہو اور سرمائے کو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ دولت کے حقیقی پیدا کار پر غالب آ جائے۔ تاہم آپ کے عقیدے کے اس اعلیٰ آئیڈیل ازم کو علمائے دین اور ماہرینِ قانون کے قرونِ وسطیٰ کے تخیلات کی محکومیت سے آزادی کی ضرورت ہے۔‘‘

علامہ اقبال ؒ کے مسلمان خواتین کی تعلیم پر بھی اپنے خیالات ہیں، جنہیں اُن کے مطابق قدرت نے مردوں کی نسبت مختلف فرائض سونپے ہیں،جن کی درست ادائیگی ضروری ہے، کیونکہ وہ بھی انسانی خاندان کے صحت مند اور خوشحال ہونے کے لئے اتنے ہی ضروری ہیں۔وہ آزادئ نسواں کے مغربی نظریے کو ضرر رساں اور پیچیدہ سماجی مسائل پر منتج ہونے والے قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور اپنا کلیہ پیش کرتے ہیں:

’’مسلمان عورت مذہبی تصور کی کلیدی مخزن ہے۔ اس لئے مسلسل قومی زندگی کی خاطر یہ انتہائی ضروری ہے کہ خواتین کو پہلے مذہبی تعلیم دی جائے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مسلم تاریخ، مقامی معیشت اور حفظانِ صحت کی عمومی تعلیم بھی دینا ہو گی۔ یہ خواتین کو ان کے شوہروں کی ذہنی رفاقت اور ماں کی حیثیت سے فرائض کی کامیابی سے ادائیگی کے قابل بنائے گی۔ایسے تمام موضوعات جن میں اس کی نسائیت اور مسلمانیت کے خلاف رجحان ہو، انہیں اس کی تعلیم سے احتیاط سے خارج کرنا ہو گا۔‘‘

تاہم علامہ اقبال ؒ کے تعلیم و تربیت پر زور دینے کا ایک اور پہلہ عوام کی معاشی فلاح پر اُن کی فکر سے متعلق ہے،جو اٹھارویں صدی کے ہندوستانی مصلح شاہ ولی اللہ کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے جن کا ماننا تھا کہ ایک منصفانہ معاشی نظام ایک مثالی معاشرے کا اہم حصہ ہے، شاہ ولی اللہؒ سے کم و بیش150سال بعد کے زمانے میں اور اسی ڈیڑھ صدی کے عرصے میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد صنعتی انقلاب سے آگاہ علامہ اقبال ؒ معاشی خوشحالی کی جانب راستے کے طور پر ٹیکنیکل تعلیم پر زور دیتے ہیں۔

’’مسلمان عوامی کارکن،نے اب تک اپنی تمام توانائیاں سرکاری ملازمتوں میں اپنا جائز حصہ حاصل کرنے پر صرف کر رکھی ہیں۔ یہ کوشش یقیناً لائق ستائش ہے لیکن اسے یاد رکھنا ہوگا کہ سرکاری ملازمت دولت کی پیداوار کے میدان کے طور پر انتہائی محدود ہے۔ یہ معاشی بہتری کے امکانات محض چند افراد کو ہی پیش کرتی ہے، کمیونٹی کی عمومی صحت کا زیادہ تر انحصار اس کی معاشی آزادی پر ہے۔ ہمارے پاس ٹیکنیکل تعلیم کا نظام ہونا ضروری ہے جو کہ میری رائے میں اعلیٰ تعلیم سے بھی کہیں اہم ہے۔ اول الذکر عوام کی عمومی معاشی حالت سے متعلق ہے جو کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے جبکہ ثانی الذکر محض ان چند افراد سے متعلق ہے جو اوسط درجے سے زیادہ عقلی یا ذہنی توانائی رکھتے ہیں۔ ہمارے درمیان موجود امیر طبقات کی سخاوت و خیرات کو اس قدر منظم ہونا چاہئے کہ ہماری کمیونٹی کے بچوں کے لئے سستی ٹیکنیکل تعلیم کا متحمل ہوا جا سکے۔ لیکن محض صنعتی اور تجارتی تربیت ہی کافی نہیں۔ معاشی مسابقت میں اخلاقی عنصر اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کفایت شعاری، باہمی اعتبار، ایمان داری، وقت کی پابندی اور تعاون کی خوبیاں پیشہ ورانہ مہارت جتنے ہی قابل قدر اثاثے ہیں۔ اگر ہم اچھے کارکن، اچھے دکان دار، اچھے کاریگر و ہنر مند، اور سب سے بڑھ کر اچھے شہری بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے انہیں اچھے مسلمان بنانا ہوگا۔

چہارم، علامہ اقبالؒ یہ پختہ تصور رکھتے ہیں کہ ایک مثالی معاشرہ کو پر امن بھی ہونا چاہئے کیوں کہ ان کا یقین ہے کہ ’’اسلام بنیادی طور پر امن کا مذہب ہے‘‘ اور ’’قرآن نے بے لچک انداز میں ہر قسم کی سیاسی اور سماجی افراتفری یا اضطراب کی مذمت کی ہے۔‘‘ وہ واضح کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ کی زندگی میں لڑی گئی تمام جنگیں دفاعی تھیں، اور یہ کہ حتیٰ کہ دفاعی جنگوں میں بھی نبی کریمؐ نے شکست خوردہ سے کسی بھی قسم کے غیر ضروری بے رحمانہ برتاؤ سے منع فرمایا، اور ساتھ ہی کہا، ’’ میں یہاں انؐ کے متاثر کن الفاظ نقل کرتا ہوں جو انہوں نے اپنے پیرو کاروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے جو جنگ کا آغاز کرنے والے تھے:

’’ہمیں پہنچائی گئی تکالیف کا بدلہ لیتے ہوئے مقامی آبادی کے بے ضرر حامیوں کو پریشان نہ کرنا، خواتین کو کچھ نہ کہنا، دودھ پینے والے بچوں کو تنگ نہ کرنا، یا وہ جو بیمار ہیں مزاحمت نہ کرنے والوں کی رہائش گاہوں کو گرانے سے اجتناب کرنا، ان کی روزی کے ذرائع برباد نہ کرنا، نہ ہی پھل دار درختوں کو، اور نہ کھجور کے درختوں کو چھونا۔ ‘‘

علامہ اقبالؒ مزید واضح کرتے ہیں کہ ’’ اسلام کا تصور ہر قیمت پر سماجی امن کا حصول ہے۔ معاشرے میں متشدد تبدیلی کے تمام طریقوں کی انتہائی صریح زبان میں مذمت کی گئی ہے۔ سپین کے ایک مسلم قانون دان الطرطوشی اسلام کی روح کے متعلق بالکل سچے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ طوائف الملوکی کے ایک گھنٹے سے جابرانہ حکومت کے چایس سال بہتر ہیں۔‘‘

آخرمیں، علامہ اقبالؒ کے مثالی معاشرے کی نوعیت اور اقدار پر بحث نا مکمل ہو گی جب تک کہ ایسے معاشرے کو اپنی نوعیت میں جمہوری بھی اعلان کیا جائے کیوں کہ علامہ اقبالؒ کے ذہن میں جمہوریت ’’ سیاسی تصور کے طور پر جمہوریت اسلام کا سب سے اہم پہلو ہے۔‘‘

وہ مزید توثیق کرتے ہیں کہ یورپ کی جمہوریت کے برعکس، اسلام کی جمہوریت ’’ معاشی مواقع کی توسیع کے طور پر سامنے نہیں آئی، یہ اس مفروضے پر مبنی ایک روحانی اصول ہے کہ انسان مخفی طاقت کا مرکز ہے‘‘ اور ’’ یہ واضح ہے کہ قرآن میں تحریر بنیادی اصول، انتخاب کا اصول ہے، اس اصول کی تفصیلات یا حکومت کے قابل عمل طریقے کی صورت اس کی تعبیر کو دیگر غور و فکر یا قوانین کے ذریعے متعین کرنے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تاہم بدقسمتی سے انتخابات کا تصور جمہوری خطوط پر واضح نہیں ہوا، اور مسلمان فاتحین نتیجے کے طور پر ایشیا کی سیاسی بہتری کے لئے کچھ بھی کرنے میں ناکام رہے۔‘‘ یہ علامہ اقبالؒ کی اس سوچ کو آشکار کرتا ہے کہ اسلامی سیاسی نظریہ، کسی طور موجودہ مغربی نظریئے کے مطابق ہے، اور یہ کہ انتخابات کے مغربی تصور کو اختیار کرنے کی تجویز دے کر، مسلمان کسی حد تک خود اپنی روایت کو اپنا رہے ہوں گے۔ وہ مگر ’’ اسلام کے بنیادی تحریری ماخذ قرآن پر اس تناظر میں اپنی دلیل کی بنیاد رکھنے میں محتاط ہیں، وہ صرف مسلمانوں کی صدیوں پرانی خاندانی بادشاہت کی مشق کو مسترد کرتے ہیں، بلکہ اسے شدید تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ وہ آج کے حالات کی روشنی میں مسلم سیاسی تھیوری کی تازہ تشکیل کے دروا کرتے ہیں۔‘‘ اپنی زندگی کے آخری برس میں بانئ پاکستان محمد علی جناح کو لکھے گئے اپنے خط میں (28 مئی 1937ء) علامہ اقبالؒ اپنے سماجی جمہوری جھکاؤ اور کچھ ممکنہ تبدیلیوں سے مشروط، ان کی اسلامی سیاسی نظریئے سے ہم آہنگی پر بھی روشنی ڈالتے ہیں:

’’ سوال یہ ہے: مسلمانوں کی غربت کے مسئلے کو حل کرنا کیسے ممکن ہے؟ اور (آل انڈیا مسلم) لیگ کا پورا مستقبل، لیگ کے اس مسئلے کو حل کرنے کی سرگرمی پر منحصر ہے۔ اگر لیگ ایسے کوئی وعدے نہیں کر سکتی تو مجھے یقین ہے کہ مسلمان پہلے کی طرح اس سے لاتعلق رہیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کا حل اسلامی قوانین کے نفاذ اور جدید خیالات کی روشنی میں ان کی مزید ڈویلپمنٹ میں ہے۔ اسلامی قوانین کے طویل اور گہرے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قانون کے اس نظام کو اگر مناسب طور پر سمجھا اور نافذ کیا جائے تو کم از کم سب کی معاش کا حق ضرور محفوظ ہو جائے گا۔ اسلام میں کسی موزوں صورت میں اور اسلام کے قانونی اصولوں سے مطابقت میں سماجی جمہوریت کی قبولیت انقلاب نہیں بلکہ اسلام کی حقیقی اصلیت کی طرف واپسی ہے۔ غالباً یہ وہ بہترین جواب ہے جو آپ جواہر لال نہرو کے ملحدانہ سوشلزم کو دے سکتے ہیں۔‘‘

اس لئے نتیجتاً علامہ اقبالؒ کے تصورات صراحت اور یقین کے ساتھ تعلیم دیتے ہیں کہ ایک مثالی معاشرہ وہ ہے جو انسانی اتحاد، انسانی مساوات اور انسانی آزادی کے جدید اور تشکیل نو شدہ اصولوں پر ایک پر امن سماجی جمہوری نظام کے تحت اور مناسب تربیت، تعلیم اور مشغولیت کے ساتھ عوام کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی بہتری و اصلاح کے ساتھ چلتا ہے۔ اس مقالے کو علامہ اقبالؒ کے 1930ء کے تاریخی الٰہ آباد خطاب سے اس اقتباس پر ختم کرنا مناسب ہوگا جس میں انہوں نے سب سے پہلے مسلمانانِ ہند کے لئے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا تھا، جو بعد میں پاکستان کی صورت ظہور پذیر ہوا:

’’ علاقائی مفادات اور ذاتی عزائم سے اوپر اٹھیئے، اور اپنے انفرادی اور اجتماعی عمل کی اہمیت کا تعین کرنا سیکھئے، اس تصور کی روشنی میں جس کی ترجمانی آپ کو کرنا ہے۔ مادے سے روح بن جایئے۔ مادہ متنوع ہے، روح روشنی زندگی اور وحدت ہے۔ اگر آج آپ نے اپنا وژن اسلام پر مرتکز کر لیا اور اس میں مجسم ہمیشہ حیات آفریں تصور سے تحریک حاصل کی، آپ اپنی منتشرقوتوں کو دوبارہ مجتمع کریں گے، اپنا کھویا وقار دوبارہ حاصل کریں گے، اور یوں خود کو مکمل تباہی سے بچا لیں گے۔ قرآن پاک کی انتہائی گہری آیات میں سے ایک ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ایک فرد کی حیات اور حیات نو پوری قوم کی حیات اور حیات نو کی طرح ہے۔ تو پھر کیوں نہیں آپ، جو عوام کے طور پر، انسانیت کے اس شان دار تصور کے پہلے عملی ترجمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں، ایک فرد واحد کی طرح زندہ رہتے، کام کرتے اور پاناما وجود رکھتے؟‘‘

حوالہ جات:

1- Muhammad Iqbal, "The Muslim Community- a Sociological Study ", in speeches, Writings and Statements of iqbal, ed. Latif Ahmed Sherwani (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 5th Edition 2009) p- 120.

2- Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, ed. Saeed Sheikh (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 1996) p. 122.

3- Muhammad Iqbal, " Political Thought in Islam", in speeches, Writings and Statements of Iqbal, op, cit. p. 141.

4- Muhammad Iqbal, "The Muslim Community - a Sociological Study", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal, op. ct. p. 125

5- Mustansir Mir, Iqbal (Lahore: Iqbal Academy Pakistan, 2006), p. 123.

6- Muhammad Iqbal, "Islam and Ahmadism", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal, op. Cit. pp. 231-232.

7- Mustansir Mir, Iqbal op. cit. p. 124

8- Muhammad Iqbal, "Islam as a Moral and Political Ideal", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal, op. cit. p. 109.

9- Muhammad Iqbal, "The Muslim Community - a Sociological Study", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal, op. cit. p. 136

10-Mustansir Mir, Iqbal op. cit.p.130

11-Muhammad Iqbal, "Presidential Adress Delivered at the Annual Session of the All- India Muslim Conference. Lahore 21st March 1932", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal. op. cit.p.45

12-Muhammad Iqbal` "The Muslim Community-a Sociological Study", in Speeches. writings and statements of Iqbal, op. cit.pp.132-133

13-Mustansir Mir, Iqbal op.cit.pp, 132-133.

14-Muhammad Iqbal, "Islam as a Moral and Political Ideal", in Speeches, Writings and statements of Iqba, op. cit.pp.102-103,

15-Mustansir Mir, op. cit.p.122.

16-Muhammad Iqbal, "Presidential Address Delivered at the Annual session of the All- India Muslim Conference, Lahore, 21st March 1932". in speeches, writings and statements of Iqbal, op.cit.p.44.

17-Muhammad Iqbal, "The Muslim Community - a Sociological Study", in speeches, Writings and statments of Iqbal,op.cit.pp 134-135.

18-Mustansir Mir, Iqbal op.cit.pp.126-127.

19-Muhammad Iqbal, "The muslim Community - a Sociological Study". in speeches. Writings and Statements of Iqbal op.cit.pp.134-135.

20-Muhammad Iqbal, "Islam as a Moral and Political Ideal", in speeches, Writings and Statements of Iqbal, op. cit.p.112

21-Ibid.p.111.

22-Ibid.p.113.

23-Ibid.p.115.

24-Muhammad Iqbal, "Muslim Democracy", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal,op.cit.p.157.

25-Muhammad Iqbal. "Policitcal Thought in Islam", in speeches, writings and statments of Iqbal, op,cit.p153.

26-Mustansir Mir, Iqbal op.cit.pp.136-137.

27-G.Allana (ed). Pakistan Movement Historical Documents (Karachi: Departments of International Relations, University of Karachi, 1969).p-129.

28-Muhammad Iqbal, "Presidential Address Delivered at the Annual Session of the All-India Muslim League, Allahabad,29th December 1930", in Speeches, Writings and Statements of Iqbal op,cit.p.29.

مزید : ایڈیشن 1