پیشہ وارانہ اور تکنیکی تعلیم کو صنعتوں اور کارخانوں سے منسلک کیا جا نا چاہئے

پیشہ وارانہ اور تکنیکی تعلیم کو صنعتوں اور کارخانوں سے منسلک کیا جا نا چاہئے

  



پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری پاکستان کو معاشی، سماجی اور دوسرے مسائل سے نکال کر ترقی کی سنہری شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے

زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری پاکستان کو معاشی، سماجی اور دوسرے مسائل سے نکال کر ترقی کی سنہری شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا موضوع سب سے اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے بانوے فیصد طلباء و طالبات کا مؤقف یہ ہے کہ ہمارا مروجہ تعلیمی نظام فائدہ مند نہیں ہے۔ اگر اگلے چار پانچ برس میں بھی ہم اپنے تعلیمی نظام کو مفید اور پائیدار بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو ہم بہت زیادہ مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔

ہمارا تعلیمی نظام صرف اسی صورت میں اعلیٰ تعلیمی نظام بن سکتا ہے جب ہم پیشہ ورانہ اور مہارت یافتگی کی حامل تعلیم و تربیت پر توجہ دیں گے۔ بصورت دیگر ہمارے ہر قسم کے تعلیمی پروگرام تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔پاکستان میں تعلیم کو فوری طور پر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد پیدا کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا شمار زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے انسانی وسائل کو بہتر طریقہ سے بروئے کار لائیں۔ دنیا میں کئی ممالک نے اپنی آبادی کے بیشتر حصہ کو اعلیٰ تکنیکی صلاحیتوں سے آراستہ کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ ہماری تعلیم کو انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی تعلیم کے ذریعے پیشہ وارانہ مہارت یافتہ افرادی قوت کو پروان چڑھانا چاہیے جو ہماری صنعتوں اور کارخانوں کو بہتر طریقہ سے چلا سکے۔ ہمارے اہل دانش صحافیوں کا اولین فرض ہے کہ وہ ہمارے تعلیمی نظام میں بہتر اور تبدیلی لانے کے لیے اہم تعلیمی مسائل کے متعلق اپنی مثبت تجاویز پیش کریں۔

ہمارے ہاں تعلیم کے سنگین مسائل پر احساس ذمہ داری کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دورِ حاضر میں دنیا کی بیشتر قوموں نے پیشہ وارانہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنا کر ترقی کی ہے۔ مگر افسوس پاکستان کے منصوبہ سازوں کی اولین ترجیح کبھی بھی تعلیم نہیں رہی۔ اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنے پالیسی میکرز میں احساس منصوبہ بندی پیدا کرنا ہو گا۔

اعلیٰ اور پیشہ وارانہ تعلیم کسی بھی ملک و قوم کی خشتِ اولین کی حیثیت رکھتی ہے مگر پاکستان میں تعلیم کی بنیادیں مضبوطی سے استوار نہ ہو سکیں اور یوں ہم معاشی اور سماجی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہمارے ہاں بیشتر مسائل کی جڑ تعلیم کا اصل بنیادوں پر استوار نہ ہونا ہے۔ تعلیم کے حوالہ سے ہم ابھی تک پالیسی سازی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہے۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ علم کو بطور علم فروغ دیتے ہوئے تعلیمی نظام کو تحقیق کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ہم تعلیمی نظام کے حوالہ سے بھی مقلد بن چکے ہیں اور جدت کو فروغ نہیں دے رہے۔ ہم ایک علم کْش معاشرہ کی حیثیت اختیار چکے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم کو عملی نہیں بناتے تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم کو عملی نہیں بناتے تعلیمی نظام میں کسی اصلاح کی دور دور تک توقع نہیں۔ چھ دہائیاں گذرنے کے باوجود پاکستان میں ہم ایک علمی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرہ کو علمی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ریاست کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے مگر ہمارے سرکاری محکموں نے تعلیمی نظام کو پائیدار اور فائدہ مند بنانے کے لیے کوئی اہم اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان میں تعلیم کا معیار وقت کے ساتھ زوال پذیر ہوا ہے۔ ہمارے طالب علم انسان بننے کی بجائے روبوٹ بنتے جارہے ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی طرف توجہ دی مگر عمرانیاتی علوم کی طرف بہت کم توجہ دی۔ ہمیں اپنے اداروں کے مابین اشتراک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عمرانیاتی علوم کی جانب عدم توجہ سے تطہیرکا عمل ختم ہو چکا ہے اور تعلیم کی مقصدیت ختم ہو چکی ہے۔ پیشہ وارانہ تعلیم کسی بھی معاشرے کے تعلیمی اور معاشی استحکام کی ضامن ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں فنی تعلیم پر توجہ عمومی تعلیم سے کہیں کم ہے، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں فنی تعلیم کی شرح صرف چارسے چھ فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ہم شاید نہیں جانتے کہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بناکر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی ارباب اقتدار و اختیار اس امر کا اعتراف تو کرتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل پیشہ وارانہ تعلیم سے جڑا ہے اور نوجوان نسل کو فنی علوم سے آراستہ کرکے نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامزن کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فروغ کیلئے قابل ذکر پیش رفت نہیں کر پائے۔ دنیا میں انہی قوموں نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو عہدِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ کیا۔پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مختلف فنون و شعبہ جات میں تربیت دے کر تیز رفتار ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہ حقیقت محتاج بیاں نہیں ہے کہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی ادب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے جسے حاصل کرنے سے انسان ایک قابل قدر شہری بن جاتا ہے جبکہ فنی تربیت انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اسے باعزت روزگار کمانے کے قابل بناتی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خوشحال زندگی بسر کر سکے۔اس شعبہ پر توجہ دینے سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ سے ہم بیش قیمت زرِمبادلہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس میں 63فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے جو کسی بھی ملک کے لیے خو ش آئند امر ہے لیکن تعلیم اور ہنر مندی سے محروم یہ نوجوان ملکی معیشت کا سہارا بننے کے بجائے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے بوجھ ثابت ہورہے ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبا بھی ڈگری ہونے کے باوجود عملی تربیت اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر ان کے نصاب میں کوئی ایک بھی فنی کورس شامل ہوتا تو انہیں مایوسی کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑتا۔ روزگار کے اعداد وشمار سے متعلق ادارے کے مطابق تیس پیشے کامیاب تصور کیے جاتے ہیں جن میں سے نصف کے لیے یونیورسٹی ڈگری کی بجائے عملی تربیت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی بنیادی تعلیم کا حصہ بنایا وہاں معاشی ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ جرمنی78فیصد ، کوریا ، ہنگری اور فن لینڈ سو فیصد فنی تعلیم کو لازمی قرار دے چکے ہیں۔ چین اور جاپان بھی فنی تعلیم کو لازم قرار دے کر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں۔اس کے برعکس تیس فیصد شرح خواندگی کے ملک میں صرف چھ فیصد نوجوان فنی تعلیم پر دسترس رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں پیشہ وارانہ تعلیم کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تربیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فرمایا ہمارے لوگوں کو فورا سائنسی اور تکنیکی میدان میں مہارت حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کی معاشی حالت کے مستقبل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ اس دنیا سے ہے جو اس سمت میں بہت تیزی سے رواں دواں ہے۔ضرورت اس امر کی ہے عمومی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم کو بھی لازمی طور پر رائج کیا جائے۔پیشہ وارانہ تعلیم کے شعبے کے فروغ اور آگہی کیلئے ایک طویل المدت اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جدید دور کے تقاضوں اورمارکیٹ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تیزی سے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کیلئے ٹھوس و جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے جو نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے فنی تعلیم و تربیت کے فروغ کیلئے عملی قدم اٹھائے۔

میری تجویز یہ ہے کہ جس طرح میڈیکل تعلیم ہسپتالوں کے ساتھ منسلک ہے اور کارآمد ہے اسی طرح پیشہ وارانہ اور تکنیکی تعلیم کو بھی صنعتوں اور کارخانوں کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تاکہ ہمارا نظام تعلیم زیادہ سے زیادہ جدید اور کارآمد بن جائے۔ ہمارے ہاں نہ ہی نظام تعلیم او رنہ ہی نصاب تعلیم کی اصلاح کی گئی ہے۔ مختلف طبقات کے لیے مختلف نظام تعلیم نے سرے سے تعلیم ہی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ تعلیم پر ماہرین تعلیم نہیں بلکہ افسر شاہی کی اجارہ داری کی وجہ سے ہم تعلیمی میدان میں کبھی بھی ترقی نہیں کرسکے۔ ہمارے ہاں طبقاتی تقسیم بھی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔کہ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں پالیسیوں کااطلاق صحیح طرح سے کرنا ہو گا۔ جب تک ہم ہنر مند افراد کو عزت نفس نہیں دیں گے ہماری صنعتیں اور کارخانے ترقی نہیں کر سکتے۔ ہماری مروجہ تعلیم ابھی تک پرانی ڈگر پر چل رہی ہے۔ تعلیمی نظام کو نئے زمانہ کی اقدار کے مطابق بدل کر ہی ہم اعلیٰ مقاصد کے حصول کی تمنا کر سکتے ہیں۔ ہمیں تبدیلی کے بارے میں اپنا رویہ بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں تعلیم اور تعلیمی نظام خطرناک اور تک عدم توجہ کا شکار ہیں۔ ہمارے تعلیمی مسائل ارباب اقتدار کی سنجیدہ توجہ کے طلبگار ہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کی افادیت مجروح ہو چکی ہے۔ تعلیمی نظام کا ایک خاص طریق کار ہوتا ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام بیورو کریسی کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ ہمارے ہاں اہل علم اور ذہین لوگوں کی کمی نہیں مگر ہم ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ جب تک ہمارے سیاسی نظام میں تعلیم کو اولین ترجیح کی حیثیت نہیں دی جاتی اس وقت تک تعلیم ہمارے لیے معاشی اور معاشرتی طور پر فائدہ مند نہیں بن سکتی۔ جب تک میڈیا میں خالصتاً تعلیم کے لیے کوئی مہم نہیں شروع کی جاتی تب تک تعلیم اور نظام تعلیم ترقی نہیں کر سکتا۔ ہماری یونیورسٹیوں میں مروجہ طریق تدریس عملی زندگی کی ضرورتوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ ہمیں تعلیمی نظام کی کوتاہیوں کا جائزہ لیکر ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن کی بناء پر ہمارا تعلیمی نظام تھیوری سے نکل کر عملی میدان میں قدم رکھ سکے۔ اعلیٰ تعلیمی نظام میں جدید اصلاحات کو متعارف کروانا اور انہیں صحیح معنوں میں لاگو کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ حساس ہی نہیں بلکہ سب سے زیادہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔ تعلیم میں بطریق احسن سرمایہ کاری سے پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم ہی ہے اور اسے حل کرنے اور جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ہم سب کی متحدہ کوششیں درکار ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...