تدریس پیشہ نہیں جنون ہے

تدریس پیشہ نہیں جنون ہے

  



ڈاکٹر محمود احمد کاوش 4؍اپریل 1964ء کو ضلع سیال کوٹ (موجودہ ضلع نارووال) کے ایک گاؤں موہلن میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول جبال سے حاصل کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ ڈگری کالج شکرگڑھ، گورنمنٹ ایف۔سی کالج لاہور اور گورنمنٹ جناح اسلامیہ کالج سیال کوٹ کے طالب علم رہے۔ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور سے بی۔ایڈ کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ، اسلام آباد سے ایم۔فل اور جامعہ پنجاب سے پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریسی سفر کا آغاز ایچی سن کالج لاہور سے اُستادِ اُردُو کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں اِس ملازمت سے استعفا دے کر محکمہ تعلیم حکومتِ پنجاب میں ماہرِ مضمون کی حیثیت سے شمولیت اختیار کر لی۔ آج کل قائدِ اعظم اکادمی براے فروغِ تعلیم نارووال کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر محمود احمد کاوش سے بات چیت کی۔ ذیل میں ان سے کیا گیا مکالمہ پیش کیا جاتا ہے:

س:ڈاکٹر صاحب! گزشتہ دنوں آپ کی تعلیمی خدمات کے اعتراف کے طور پر ایک اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے۔

ج:ندیم صاحب! میں تدریس کو پیشہ (Profession)نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک جنون (Passion)تصور کرتا ہوں۔ مجھے اس پیشے سے جو عزت و تکریم ملی، اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ امسال پانچ اکتوبر کو اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر حکومتِ پنجاب نے اساتذۂ کرام کو سٹار ٹیچر کے ایوارڈ سے نوازا۔ اسی طرح بہترین کارگزاری دکھانے والے ہیڈماسٹرز اور پرنسپلز کو سٹار ہیڈ ٹیچر قرار دیا گیا۔ صوبۂ پنجاب کے دس چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو سٹار آفیسر کا اعزاز دیا گیا ۔ اس کے علاوہ بیس ماہرینِ تعلیم کو سٹار ایجوکیشن لیڈر کے اعزاز کے قابل سمجھا گیا۔ ان بیس ماہرین میں اس خاکسار کا نام بھی شامل ہے۔

س : تعلیم کے شعبے میں آپ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ان خدمات کا اجمالی تعارف کرادیں تو قارئین کے لیے آپ کے کام کو سمجھنا آسان ہو گا۔

ج: دیکھئے، میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، لاہور کی طرف سے مختلف جماعتوں کی پانچ کتابوں کا مصنف و مؤلف ہوں۔ میں نے معاشرتی علوم جماعت چہارم اور مطالعۂ پاکستان جماعت نہم کی کتابوں کو اُردُو سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ ، مظفر آباد کی سائنس کی تین کتابوں کو اُردُو سے انگریزی کے قالب میں ڈھالنے کا بھی موقع ملا۔ اساتذہ کی تربیت کے لیے مواد کی تیاری بھی میرے ذمے رہی اور میں نے مختلف اوقات میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ (موجودہ قائدِاعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ، لاہور) کے لیے ماڈیول تیار کیے۔ بیسک فاؤنڈیشن ماڈیول کا اُردُو کا حصہ بھی میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔

مجھے سپر ماسٹر ٹرینر (Super Master Trainer)کی حیثیت سے پنجاب کی سطح پر لیڈ ٹرینرز(Lead Trainers) کی تربیت کے بھی مواقع ملتے رہے۔

س: یہ تو آپ کی تدریسی اور تربیتی خدمات ہیں۔ انتظامی عہدے پر کام کرتے ہوئے آپ کی کوئی قابلِ ذکر کارگزاری؟

ج: میں گورنمنٹ کالج براے ایلیمنٹری ٹیچرز نارووال( موجودہ قائدِ اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ، نارووال) کا پرنسپل ہونے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ ٹریننگ اینڈ سپورٹ سینٹر ضلع نارووال کا سربراہ بھی رہا ہوں۔ضلع نارووال کی پرائمری کی سطح کی تعلیم کی کوالٹی کا میں ذمے دار تھا۔ میں نے ضلعی محکمہ تعلیم کے ساتھ مربوط انداز میں کام کیا ۔الحمد للہ ہماری یہ کوششیں رنگ لائیں اور پنجاب ایگزامی نیشن کمیشن لاہور کے تحت منعقدہ امتحانات 2017ء میں نارووال کا نتیجہ پنجاب بھر میں سرِ فہرست رہا۔

اِمسال ہمیں سالِ اوّل کے داخلے کی ہدایت کی گئی۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے محدود وسائل کے باوجود پونے چار سو کے قریب طلبہ کو داخل کیا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس پری میڈیکل، پری انجنئیرنگ ، آئی۔سی۔ایس اور آرٹس کے گروپ چل رہے ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے ہم صوبہ بھر میں پہلے نمبر پر ہیں۔ مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس داخل ہونے والے طالبِ علم بہت زیادہ نمبروں والے نہیں ہیں لیکن میری ٹیم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم مثالی نتیجہ دکھائیں گے۔

س: آپ کو مشکلات بھی درپیش ہوں گی۔ اس سلسلے میں آپ کے مسائل حل کرنے کی طرف محکمہ توجہ دیتا ہے؟

ج: مشکلات اور چیلنجز تو زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ان مشکلات کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے راستہ نکالنے کی کوشش کرنا ہی لیڈرشپ کا کام ہے۔ اس وقت محکمۂ تعلیم کی باگ ڈور ایک ایسی علم دوست شخصیت کے ہاتھ میں ہے ، جو اقبال کے لفظوں میں ’’نگہ بلند، سخن دِل نواز، جاں پر سوز‘‘ کی عملی تفسیر ہیں۔ جناب ڈاکٹر اللہ بخش ملک سیکرٹری سکول ایجوکیشن کی حوصلہ افزائی ہمہ وقت ہمارے شاملِ حال رہی ہے۔ اساتذۂ کرام کی کمی کا مسئلہ درپیش تھا۔ وہ سیکرٹری صاحب کی خصوصی شفقت سے حل ہو گیا ہے۔ چوں کہ ماہِ مارچ ۲۰۱۸ء میں ہمیں جماعت نہم کا داخلہ بھی کرنا ہے اور اگلے سال گیارھویں جماعت کا بھی داخلہ ہونا ہے تو ہمارے پاس تدریسی کمروں کی شدید قلت ہے۔ سائنس کی لیبارٹریوں کی بھی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان شا ء اللہ ہماری ان ضروریات کو بھی جلد پورا کر دیا جائے گا۔

س:معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے آپ کیا تجاویز دینا پسند کریں گے؟

ج:معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے حکومتِ پنجاب نے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں کوالٹی ایجوکیشن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ اساتذہ کی کمی تھی۔ ایک سال پیشتر کئی ایسے پرائمری اسکول تھے، جہاں صرف ایک ہی اُستاد تعینات تھا۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ صوبۂ پنجاب کا کوئی اسکول ایسا نہیں جہاں کم سے کم چار اُستاد موجود نہ ہوں۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اساتذۂ کرام کی تعداد کو مزید بڑھا کر ہر پرائمری اسکول میں کم از کم چھہ اساتذہ کر دیے جائیں۔ یقیناًاس سے ہمارا معیارِ تعلیم بہتر ہو گا۔ کوالٹی ایجوکیشن کے لیے معیاری نصاب اور معیاری درسی کتب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا موجودہ نصاب 2006ء میں مرتب کیا گیا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نصاب پر نظرِثانی کی جائے اور پھر اس نئے نصاب کی روشنی میں درسی کتابیں ترتیب دی جائیں۔ حکومت تعلیمی اداروں میں سہولیات بہتر بنانے کی طرف بھرپور توجہ دے رہی ہے، بنیادی ڈھانچا ( انفراسٹرکچر) بہتر ہونے سے بھی تعلیم کی کوالٹی بہتر ہو گی۔ میرٹ پر صاف شفاف انداز میں بھرتی ہونے والے اساتذہ بھی کوالٹی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے صوبائی سطح پر، ضلعی سطح پر، تحصیل کی سطح پر اور کلسٹر کی سطح پر اکیڈمک ڈویلپمنٹ یونٹ قائم کر دیے ہیں۔ ان میں اساتذۂ کرام کی تربیت کا مربوط پروگرام چلے گا، اس سے بھی ہماری تعلیم کی کوالٹی بہتر ہو گی۔

س:اساتذۂ کرام کی تربیت تو پہلے بھی کی جا رہی تھی۔ یہ اکیڈمک ڈویلپمنٹ یونٹ قائم کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟

ج:دیکئے، پہلے صرف پرائمری اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی تربیت کا پروگرام چل رہا تھا۔ سال میں پرائمری اسکول کے ایک اُستاد کو تین دن کی تربیت دی جاتی تھی۔ اساتذۂ کرام کی تربیت کا موجودہ پروگرام زیادہ جامع ہے۔ اب ہر سطح کے اُستاد کو سال میں چالیس دن کی ٹریننگ حاصل کرنی ہو گی۔ ہر مہینے ہر اُستاد ایک دن کی ٹریننگ حاصل کرے گا۔ ٹریننگ دینے والے اپنے اپنے مضمون کے ماہر ہیں۔ یوں نو ماہ میں نو دن کی ٹریننگ ہو گی۔ ضلعی سطح پر ایک دن سالانہ تعلیمی کانفرنس میں ضلع بھر کے تمام اساتذ�ۂ کرام شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ گرمیوں کی تعطیلات میں ہر اُستاد کے لیے تیس دن کی ٹریننگ حاصل کرنا لازمی ہے۔ اساتذۂ کرام کے علاوہ سکولوں کے سربراہان کو بھی سکول لیڈرشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ٹریننگ دی جائے گی۔ اگلے درجے پر ترقی پانے کے لیے بھی ٹریننگ کرنی ہو گی اور یہ ترقی ٹریننگ کی کامیاب تکمیل سے مشروط ہو گی۔ نئے بھرتی ہونے والے اساتذۂ کرام پہلے چار ہفتے پر مشتمل ٹریننگ کرتے تھے۔ اب اس کا دورانیہ نو ہفتوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یوں اساتذۂ کرام کی تربیت کا موجودہ پروگرام زیادہ جامع ہے اور اِن شا ء اللہ مستقبل قریب میں اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

س:ڈاکٹر صاحب! آپ اپنے تحقیقی کاموں کے بارے میں بھی کچھ بتائیے۔

ج:میں نے کوئی بیس سال پہلے ایم۔فل کیا۔ پھر باقاعدہ طالبِ علم کی حیثیت سے 2003ء میں اوری اینٹل کالج، جامعہ پنجاب لاہور میں پی ایچ۔ڈی اُردُو میں داخلہ لیا۔ میں نے ’’مشفق خواجہ۔۔۔ احوال و آثار‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

س: کیا وجہ ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے لکھی گئی کتابوں کے علاوہ آپ کا کوئی تخلیقی و تنقیدی یا تحقیقی کام منظرِ عام پر نہیںآیا۔

ج: کوئی پندرہ برس پہلے ’’اُردُو اور اس کی تدریس‘‘ کے نام سے میری ایک کتاب شائع ہوئی تھی۔ اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ شاعری کے دو مجموعے شائع ہو سکتے تھے لیکن میں نے ان کی اشاعت کو اہمیت نہیں دی۔ میرے ایم۔فل اُردُو اور پی ایچ۔ڈی اُردُو کے مقالے عنقریب شائع ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید چار کتابیں بھی تیار ہیں۔ امید ہے اگلے چھہ مہینوں میں یہ بھی منظرِ عام پر آ جائیں گی۔

شاعری سے یاد آیا۔ آپ اپنا کوئی شعر سنائیے۔

جس نے بیچی نہ انا، زہر کو امرت نہ کہا

اُس نے ہر لمحہ صلیبوں پہ گزارا ہو گا

س:ڈاکٹر صاحب۔ آپ کے قیمتی وقت کا بہت شکریہ۔

ج:آپ تشریف لائے ، آپ کی مہربانی۔ اللہ کریم آپ کو سلامت رکھے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...