صوابی میں صحت کی ناکافی سہولیات ۔۔۔امداد کون کرے گا؟

صوابی میں صحت کی ناکافی سہولیات ۔۔۔امداد کون کرے گا؟

  



شعبہ صحت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر اس کے باوجود ہمارے اس شعبے کو ہر دور میں جس بری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے اس کی بدولت ہی آج حالت یہ ہے کہ لوگوں کیلئے علاج معالجہ کرانا جوئے شیر لانے کے برابر ہیں۔ خیبرپختونخوااور خاص کر صوابی میں زچہ وبچہ کی صحت اور شرح اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے مختلف درجوں کے سرکاری ہسپتالوں میں 6ہزار تین سوانیس بچے جاں بحق ہوئے اس تناسب سے ہر مہینے ایک ہزار ستانوے بچے اور ہر پانچ گھنٹے میں سات بچوں کی موت ہوتی ہیں اور310مائیں بھی زچگی سے جانوں سے گئیں ۔زچگی کے دوران اموات میں صوابی کا حصہ زیادہ ہے ضلع کے اندر 36بنیادی ہیلتھ یونٹ ،8رولر ہیلتھ سنٹر دو سول ہسپتال اوردس سول ڈسپنسریز کے باوجود بھی ان مراکز صحت میں لیڈی ڈاکٹر کی اشد کمی ہے بلکہ بعض میں تو ہے ہی نہیں اور ایل ایچ ویز بھی اعلیٰ تربیت بافتہ نہیں اگر کوئی ہے بھی تو ان کی قیمت زیادہ ہے جبکہ ضلع کے اندر غربت انتہا پر ہے۔ اس لیے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی دیسی ٹوٹکوں سے کام لیا جاتاہے جوکہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے ا ن اموات کی کسی قسم کا ریکارڈ مراکز صحت میں نہیں کیونکہ یہ بدنصیب مراکز تک پہنچتے ہی نہیں اگر ان اموات کو بھی سرکاری اعداد وشمار میں شمار کیا جائے تو سینکڑوں بن جاتے ہیں باچا خان میڈیکل کمپلیکس، صوابی ڈسٹرکٹ ہسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر لاہور سے جن میں سہولیات بھی موجود ہے ضلع کے صرف چالیس فیصد لوگ استفادہ کرتے ہیں جبکہ باقی ماندہ 60فیصد غربت اور دوری کی وجہ سے فائدہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں ۔اسی چیک اپ کیلئے ہسپتالوں میں آنے والی 49ہزار سے زائد حاملہ خواتین میں ہیمو گلوبن کا لیول خطرناک سطح پر یعنی 10جی ڈیل سے کم ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے ان خواتین کو دوران زچگی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ تین ہزار سے زائد بچے اڑھائی کلو گرام سے کم وزن کے پیدا ہوئے ہیں جن کا زندہ رہنا بھی طبی اعتبار سے والدین کیلئے ایک آزمائش ہیں ذرائع نے بتایا کہ پہلے چھ ماہ کے دوران سرکاری ہسپتالوں میں تین لاکھ 75ہزار 842حاملہ خواتین نے اپنا پہلا طبی معائنہ کرایا جن میں سے 24.46فیصد کے تناسب سے 49ہزار 5سو اکتالیس خواتین میں خون کا لیول انتہائی کم ہے جس کیلئے خاتون کو اپنی روزمرہ کے خوراک میں طاقت اور خون پیدا کرنے والے عناصر شامل کرنا ضروری ہیں جبکہ ڈاکٹر کی تجویز پر دوا کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ذرائع نے بتایا کہ نوشہرہ، بٹ گرام، ہر ی پور، ٹانک، صوابی اور ملاکنڈ میں خواتین کا ہیمو گلوبن لیول دوسرے اضلاع کی خواتین کی نسبت کم ریکارڈ کیا گیا ہے اس طرح شش ماہی کے دوران سرکاری ہسپتالوں میں91ہزار918بچوں کی پیدائش ہوئی ہیں جن میں پیدائش سے لے کر ایک ماہ کی عمر کے2ہزار تین سو اناسی بچے جاں بحق ہوئے ہیں ان بچوں کی اموات کی وجہ زچکی اور اس کے بعد کی پیدا ہونے والی پیچیدگیاں بتائی گئی ہیں اس میں وہ تعداد شامل ہی نہیں جن کی رسائی سرکاری مرکزصحت تک بالکل نہیں ، اگر حکومت ہر بی ایچ یو اور ایم سی ایچ میں قابل لیڈی ڈاکٹر کے علاوہ اعلیٰ تربیت یافتہ ایل ایچ ویز تعینات کریں اور ساتھ یہ حکم نامہ بھی جاری کریں کہ معائنہ اور زچگی کا کوئی فیس نہیں لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی تو یقیناًان اموات میں کمی آسکتے ہے۔ صوبے میں کوہاٹ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، ایبٹ آباد اور بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اس قسم کی اموات کی شرح صوبے کے دوسرے اضلاع سے زیادہ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں پیدائش سے لے کر ایک سال سے کم عمر کے دو ہزار تین سو نوے بچوں کی موت نمونیا، اسہال، خسرہ اور غذائی قلت کی وجہ سے ہوئی ہے اس حوالے سے ہری پور، کوہاٹ، ٹانگ اور صوابی میں دیگر اضلاع سے شرح اموات زیادہ رہی ہیں اس کے علاوہ ضلع کے اندر تحصیل ٹوپی اور تحصیل رزڑ میں ٹی بی سے اموات روز کا معمول بن چکا ہے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں ، ذرائع نے بتایا کہ صوبے میں خواتین کی غذائی صورتحال اور خون کی کمی کے باعث 1543بچے مردہ بھی پیدا ہوئے ہیں مجموعی طور پر مرنے والے بچوں کی تعداد چھ ہزار تین سوا انیس رہی ہے جبکہ پیداہونے والے بچوں میں سے تین ہزار چھیاسی بچے اڑھائی کلو سے کم وزن کے پیدا ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کم عمر کے بچوں کو زندہ رکھنے کیلئے پاکستان میں کوئی سپیشلائزڈ یونٹ نہیں ہے اس لئے اس طرح کے بچوں میں سے 90فیصد بچے مشکل ہی سے پانچ سال تک زندہ رہنے کا امکان رہتا ہے ذرائع نے بتاا کہ چھ ماہ کے دوران ہسپتالوں میں تین سو دس ماؤں نے بھی زچگی کے دوران مختلف قسم کی پیچیدگیوں کے باعث دم توڑا ہے

***

مزید : ایڈیشن 2


loading...