اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان پر میانمار کا احتجاج

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان پر میانمار کا احتجاج

  



ینگون(اے پی پی)میانمار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا روہنگیا لوگوں پر تشدد کے حوالے سے بیان بنگلہ دیش کے ساتھ ان کی اس مسئلہ پر بات چیت کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔بدھ کو میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سانگ سوچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک اور بنگلا دیش اس معاملے کو باہمی طور حل کر لیں گے کیونکہ یہ ان دونوں کا باہمی مسئلہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کا بیان ہم دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے جاری باہمی مذاکرات کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میانمار نے بنگلا دیش کے وزیر خارجہ کو اس سلسلے میں میانمار آنے کی دعوت دی ہے اور وہ 16-17 نومبر کو میانمار کا دورہ کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو حکومت میانمار سے صوبہ رخائن میں فوجی آّپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پچھلے دس ہفتے سے صوبہ رخائن میں جاری تشدد اور بدامنی کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا ہے۔سلامتی کونسل نے صوبہ رخائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت میانمار سے انسانی حقوق کے عالمی ضابطوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ۔خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اتوار کو دولت مشترکہ کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران اس معاملے پر میانمار پر عالمی دباؤ بڑھانے کی اپیل کی اور کہاکہ میانمار مہاجرین کو واپس لے اور ان کے خلاف کارروائیاں بند کرے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن بھی میانمار کو امریکا کی طرف سے اس معاملے پر ممکنہ پابندیوں لگانے کے لئے خبردار کرنے کے لئے رواں ماہ کہ پندرہ تاریخ کو ینگون پہنچ رہے ہیں۔صوبہ رخائن میں مسلمانوں کے خلاف میانمار کی فوج کے تازہ حملوں میں کم سے کم 6 ہزار مسلمان جاں بحق اور 8 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔6 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان میانمار سے فرار ہوکر بنگلہ دیش کی سرحدوں پر قائم عارضی کیمپوں میں پناہ لے چکے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...