امریکا کی ایران کے خلاف ایمرجنسی کے قانون میں مزید ایک سال کی توسیع

امریکا کی ایران کے خلاف ایمرجنسی کے قانون میں مزید ایک سال کی توسیع

  



واشنگٹن(اے پی پی) امریکہ نے ایران کے خلاف ایمرجنسی کے قانون میں مزید ایک سال کی توسیع کردی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے نام خط میں کہا ہے کہ تہران واشنگٹن تعلقات اب تک معمول پر نہیں آئے ہیں اور ضروری ہے کہ ایران کے خلاف ایمرجنسی کے قانون میں توسیع کردی جائے۔ایران کے خلاف ایمرجنسی کا قانون سب سے پہلے 14 نومبر1989 ء کو اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے، تہران میں امریکی سفارت خانے پر جو جاسوسی کے اڈے میں تبدیل ہوگیا تھا ایرانی طلبہ کے قبضے کے بعد جاری کیا تھا۔اس کے بعد سے اب تک امریکا کے تمام صدور ایران کے خلاف ایمرجنسی کے قانوں میں ہرسال توسیع کرتے چلے آرہے ہیں۔1979 ء میں تہران میں امریکی جاسوسی کے اڈے پر ایرانی طلبہ کا قبضہ دراصل، ملت ایران کے خلاف امریکا کی دیرینہ دشمنی اور سی آئی اے کی سازشوں کی یاد دہانی کرتا ہے۔امریکی سفارت خانے سے برآمد ہونے والی دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ تہران میں امریکی سفارت خانہ اسلامی انقلاب کے خلاف سازشوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...