مشتاق سکھیرا کیخلاف توہین عدالت درخواستیں ،سپریم کورٹ کا فریقین سے جواب طلب

مشتاق سکھیرا کیخلاف توہین عدالت درخواستیں ،سپریم کورٹ کا فریقین سے جواب طلب

  



لاہور ( کرائم رپورٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بنچ نے پولیس افسران کی آوٹ آف ٹرن ترقیوں کے معاملہ کے حوالے سے سابق آئی جی مشتاق احمد سکھیرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے فریقین سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی جانب سے ڈی آئی جی اختر عمر حیات لالیکا، ایس پی اویس ملک ، منصور ناجی ، ڈی ایس پی ملک محمد سرور اعوان سمیت دیگر پولیس افسروں کی درخواستوں پر جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس دوست محمد کھوسہ ، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بینچ کے سامنے پولیس افسران کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ 30دسمبر 2016ء کو سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم ہونیوالے لارجر بنچ نے فیصلہ دیا تھا عدالتی حکم پر ترقیاں حاصل کرنیوالے پولیس ا فسران کو ان کی سیٹوں پر واپس بحال کیا جائے عدالتوں سے ترقیاں حاصل کرنیوالے پولیس افسران آؤٹ آف ٹرن پرموشن کی زد میں نہیں آتے، چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالتوں سے ترقیاں حاصل کرنیوالے افسران کی بحالی کا نوٹیفکیشن کر دیا تھا مگر سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے اس نوٹیفکیشن کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے پولیس افسران کو ان کے عہدوں پر بحال نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے حکم دیا کہ سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا اور آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اس کے حوالے سے دو ہفتوں میں خود پیش ہو کر جواب دیں کہ اب تک اس پر عملدآمد کیوں نہیں کیا گیا ۔

جواب طلب

مزید : علاقائی