ریگولیٹری ڈیوٹیز کم نہیں کر سکتے ، ایف بی آر وزارت خزانہ اسے سکوک بانڈز کی تفصیلات طلب

ریگولیٹری ڈیوٹیز کم نہیں کر سکتے ، ایف بی آر وزارت خزانہ اسے سکوک بانڈز کی ...

  



اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ایف بی آ ر حکام نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ پیراڈائز میں جن لو گوں کے نام آئے ہیں ان کی تفصیلات جمع کررہے ہیں،ابھی اس کی تفصیلات آنا باقی ہیں،ان افراد کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ کمیٹی نے پانامہ لیکس پر ایف بی آرکی جانب سے اب تک کے گئے اقدامات پر آئندہ اجلاس میں رپورٹ طلب کر لی، چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ پانامہ لیکس کا نزلہ صرف نواز شریف پر گرایاگیا،پانامہ لیکس میں شامل کسی کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جبکہ کمیٹی نے وزارت خزانہ سے حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے سکوک بانڈز کی تفصیلات طلب کرلیں۔ بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔کمیٹی کے اجلاس میں ایک گھنٹہ تک صرف ایک رکن عائشہ رضا فاروق شریک رہیں۔کمیٹی کا اجلاس بغیر کورم کے چلایا گیا۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ پانامہ لیکس کا نزلہ صرف نواز شریف پر گرایاگیا۔پانامہ لیکس میں کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے بڑھائی جانے والی ریگولیٹری ڈیوٹیز کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گاڑیوں اور دیگر اشیا کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کیوں لگائی گئی۔ایف بی ار حکام کا ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ اگر خام مال پر ڈیوٹی نہ لگاتے تو انڈر ان وائسنگ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا۔ غیر ضروری اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کا مقصد درآمدی بل کو کنٹرول کرنا ہے۔ اگر اے سی اور مہنگی گاڑیوں کے آلات کی درامد پر ڈالر خرچ کرتے رہے تو خوردنی تیل کے لئے ڈالر کہاں سے لائیں گے۔ ایف بی آ ر حکام نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹیز کو کم نہیں کرسکتے۔کمیٹی نے وزارت خزانہ سے سکوک بانڈز کی تفصیلات طلب کرلیں۔سینیٹرسلیم مانڈوی والانے کہاکہ حکومت دو بار سکوک بانڈز جاری کر چکی ہے۔اب تیسری مرتبہ پھر سکوک بانڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔سکوک بانڈز قومی اثاثے گروی رکھ کر جاری کیے گئے۔جاننا چاہتے ہیں کون کون سے اثاثے گروی رکھے گئے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی

مزید : علاقائی