مشال خان کیس ، مزیددو گواہوں کے بیانات ریکارڈ

مشال خان کیس ، مزیددو گواہوں کے بیانات ریکارڈ

  



ہری پور(آئی این پی) مشال خان قتل کیس سماعت 11نومبر تک ملتوی مزیددو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گے گواہوں کے تعداد47 ہو گئی بیان قلمبند کیے جانے والوں میں ڈی ایس پی ایک فوٹو گرافر بھی شامل مشال خان قتل کیس آخری مراحل میں داخل ایک ماہ کے دروان فیصلہ متوقع سنٹرل جیل میں قید ملزمان کی جانب سے مشال خان کے اہل خانہ کو مبینہ دھمکیاں ملنے پر سنٹرل جیل میں قید گرفتار ملزمان کو بارکوں تک محدوکرکے سنٹرل جیل میں قائم پی سی او کو بھی بند کر دیا گیا مشال خان قتل کیس میں نامزد ساٹھ ملزمان میں سے چار ملزمان تاحال مفرور ہیں پولیس گرفتاری کرنے میں تاحال ناکام ہے انسداد دہشت گردی کی عدالت تمام ملزمان کی دائر ضمانتوں کی درخواستیں پہلے ہی مسترد کر چکی ہے بدھ کے روز سنٹرل جیل ہری پور میں قائم ٹرائل کورٹ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے کیس کی سماعت شروع کی سماعت کے دوران مشال خان کے والد اقبال خان لالہ پشاور کے وکلاء شہاب خٹک ایاز خان بیرسٹر عامر ایڈوکیٹ اور سرکاری پرسیکیوٹر ٹیم کے فضل نورانی عارف بلال عبدالحمید ایڈوکیٹ سنٹرل جیل میں موجود تھے جبکہ ملز ما ن کے وکیل مسعود اظہر جاوید تنولی فضل الحق عباسی ریاض یوسف زئی ایڈوکیٹ سمیت ملزمان کی اوکلاء کی ایک بڑی تعداد مقدمہ کی پیروی کے لیے کورٹ روم میں موجود تھی سماعت کے دوران ڈی ایس پی مردان حیدر اور فوٹو گرافر کامران کے بیان قلمبند کیے گے ہیں جبکہ تین دوسرے گواہوں کو اگلی سماعت پر طلب کیا گیا ہے ۔

مشال خان قتل کیس

مزید : علاقائی


loading...