بلدیہ عظمٰی کا اجلاس ، چیئر مینوں کے اختیارات میں کمی کیخلاف قرار داد منظور

بلدیہ عظمٰی کا اجلاس ، چیئر مینوں کے اختیارات میں کمی کیخلاف قرار داد منظور

  



لاہور(جنرل رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ لاہور کے اجلاس میں چیئرمینوں کے اختیارات میں کمی کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔اپوزیشن کے علاوہ خصوصی نشستوں پر منتخب ممبران نے بھی قرارداد کی مخالفت نہ کی۔اس دوران چیئرمین یونین کونسلوں کی جانب سے ساڈا ہتھ ایتھے رکھ کے نعرے بھی لگائے گئے قرار داد منظور ہونے کے فوری بعد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ممبران نے نشستیں نہ ملنے کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور ایوان کے اندر ہی سپیکر کے ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا اور چلتا ہوا اجلاس رکوا دیا اپوزیشن کے ارکان نے بد ترین نعرے بازی کی اور کہا کہ جان بوجھ کر بیٹھنے کے لئے ایوان میں نشستیں فراہم نہیں کی جا رہیں اپوزیشن لیڈر عفیف صدیقی نے کہا کہ نشستیں نہ دی گئیں تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے جس پر سپیکر میاں طارق نے تنگ آ کر اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گزشتہ روز اجلاس میں ۔پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے مطابق چیئرمین یونین کونسلوں کو اختیارات دینے اور اس میں کمی نہ کرنے کے حوالے سے قرارداد خواجہ سہیل محمود بٹ کی جانب سے پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ یونین کونسلوں کے چیئرمینوں کے اختیارات میں کمی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے ۔قرارداد میں کسی قسم کی دھڑا بندی نہ ہونے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مسلم لیگ ن کی قیادت میاں محمد نواز شریف،میاں محمد شہباز شریف اور میاں حمزہ شہباز شریف کی قیادت پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ڈپٹی میئر وکنونیئر میاں محمد طارق کی صدارت میں جناح ہال اجلاس میں مفاد عامہ کی قراردادیں بھی منظور کر لی گئیں جو مختلف ممبران نے پیش کیں تاہم آخری قرارداد کے دوران اپوزیشن ممبران نے ترقیاتی سکیموں اور سٹریٹ لائٹس میں حصہ نہ ملنے پر اپنا احتجاج نوٹ کروایا ،نعرے بازی کی اور کنونیئر کے آگے دھرنا دیا ۔جس میں اپوزیشن لیڈر عفیف صدیقی بھی شامل تھے۔احتجاج ختم نہ ہونے کی صورت میں کنونیئر میاں محمد طارق نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا ۔چیئرمینوں کی جانب سے اختیارات کے حوالے سے اپنے حق میں پیش کی گئی قرارداد کے وقت میئر لاہور اجلاس میں شریک نہ تھے۔مفاد عامہ کی منظور کی گئی قراردادوں میں تجاوزات کے خاتمہ، پارکس،ٹیوب ویلوں،سڑکوں اور گلیوں وغیرہ کی خستہ خالی کی قراردادیں شامل ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...