سپیشل کمیٹی کا فیڈرل پبلک سروسز کمیشن میں ماہرین کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی

سپیشل کمیٹی کا فیڈرل پبلک سروسز کمیشن میں ماہرین کی عدم موجودگی پر اظہار ...

  



اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ کی سپیشل کمیٹی کا فیڈرل پبلک سروسز کمیشن میں غیر متعلقہ حکام اور ماہرین کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو ہر شعبے میں متعلقہ ماہرین کو ہی بھرتی کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی نے فیڈرل پبلک سروسز کمیشن حکام سے بھارت‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور امریکہ میں بھرتی کا طریقہ کار آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروسز کمیشن میں تین سال سے پرائیویٹ سیکٹر سے ممبر ہی نہیں‘ آئندہ کمیشن بھرتی کرتے وقت مخصوص وزارتوں میں اس کے ماہرین کو بھرتی کرے‘ بھرتی جس شعبے کی ضرورت ہے اس سے متعلقہ ماہر لئے جائیں جنرل گروپ سینہیں۔بدھ کو سینٹ کی سپیشل کمیٹی کا اجلاس سید مظفر حسین شاہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر محسن خان لغاری ‘ سینیٹر سعود مجید‘ سینیٹر پیر کبیر احمد شاہی‘ سینیٹر داؤد خان اچکزئی‘ سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کے علاوہ فیڈرل سروسز کمیشن کے حکام کے علاوہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے شرکت کی۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ہمارا مقابلہ سنگا پور حکومت کیساتھ ہے،وہ پرکشش جاب کی آفر کرتے ہیں فارن آفس ملک کا چہرہ ہوتا ہے جس کے بعد پولیس فیڈرل سروسز کمیشن کے ابھی تک چھ اجلاس ہوئے اس میں بھی وزیر نے پرانی رپورٹ سے کام چلایا۔ متعلقہ تعلیم کے امیدوار اپنی اس فیلڈ میں جاب نہیں کرنا چاہتے۔ بزرگ افسران کو اب گھر میں آرام کرنا چاہئے۔ سینیٹر سعود مجید نے کہا کہ پسندیدہ افراد کو اہم عہدے پر تعینات اور ناپسندیدہ کو عمر بھر کے لئے کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ ہیومن ریسورسز میں بھرتی کرتے ہوئے اپنے کیریئر میں جاب کریں اس کے لئے گائیڈ لائن ضروری ہے۔ انگریز دور حکومت میں دیکھا جاتا تھا کہ اس کا خاندان کیسا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروسز کمیشن کی کمپوزیشن میں چیئرمین سمیت گیارہ افراد شامل ہیں جو سب ریٹائرڈ ہیں۔ بورڈ میں ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔ یونیورسٹی میں جو پڑھایا جاتا ہے اس میں وقت کے ساتھ تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر سے بورڈ ممبر کا قانون ہی پاس نہیں کیا کیسے چلے گا یہ سب۔ اس وقت میجر جنرل ریٹائرڈ‘ ریٹائرڈ افسران شامل ہوتے ہیں جو اپنے شعبے میں ماہر ہوسکتے ہیں لیکن جدید مشکلات سے انہیں آگاہی نہیں۔ انہوں نے کمیشن حکام سے کہا کہ وہ نئی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اگلے اجلاس میں سفارشات دیں کہ 21ویں صدی کے چیلنجز کیلئے اسٹیبلشمنٹ کیا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص فارن آفس میں بھرتی ہونا چاہتا ہے اس کے لئے دو غیر ملکی زبانوں پر مہارت ہونی چاہئے۔ انفارمیشن گروپ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اور حالیہ شعبوں میں ماہر ہو۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ رپورٹ دے کون سے علوم متعلقہ ہیں اور کون سے علوم غیر متعلقہ سینیٹر داؤد اچکزئی نے کہا کہ اگلے اجلاس میں چیئرمین کمیشن اور ممبرانکو بلایا جائے اور پوچھا جائے کس شعبے میں افسران ریٹائرڈ ہورہے ہیں اور کس میں وہ بھرتی کررہے ہیں۔ سینیٹر کبیر احمد شاہی نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے صوبوں اور وفاق میں ایسے افسران بھرتی کرنے میں ناکام رہا جو ایماندار‘ عوام اور ملک درد رکھنے والے ہوں۔ ماضی میں پوسٹوں کی بولی لگی۔ بلوچستان میں احمد بخش لہڑی جیسے افسران کی ضرورت ہے۔ کرنل (ر) طاہر مشہدی نے کہا کہ 1890 میں لکھی گئی رپورٹ ابھی تک نام اور سال کی تبدیلی کے ساتھ چل رہی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...