سینیٹ، حکومت مردم شماری پر تحفظات دور کرے: اپوزیشن

سینیٹ، حکومت مردم شماری پر تحفظات دور کرے: اپوزیشن

  



اسلام آباد (آئی این پی،صباح نیوز،این این آئی) ایوان بالا میں اپوزیشن ارکان نے حالیہ مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مردم شماری کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے، حکومت جان بوجھ کر معاملے کو لٹکا رہی ہے، جہاں پر شکایات سامنے آرہی ہیں وہاں دوبارہ سروے کرایا جائے، حکومت جان بوجھ کر مردم شماری کو متنازعہ بنارہی ہے،معاملے کو جلد حل کیا جائے تا کہ انتخابات مقررہ وقت پر یقینی بنائے جا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روزسینیٹر تاج حیدر، سینیٹر سحر کامران،سینیٹر سسی پلیجو، اعظم خان سواتی،عثمان کاکڑ، کرنل(ر)طاہر حسین مشہدی، شبلی فراز، کریم خواجہ، کامل علی آغا، محسن لغاری و دیگر نے مردم شماری کے انعقاد کے حوالے سے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث کیلئے پیش کی گئی تحریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اپوزیشن کے سینیٹرز نے کہا کہ مردم شماری میں گڑبڑ ہوئی ہے، نادرا اور شماریات ڈویژن کے ڈیٹا میں تضاد ہے، مردم شماری پر اعتماد ملک کی یکجہتی کیلئے ضروری ہے، کراچی کی آبادی ایک کروڑ کم دکھائی گئی، فاٹا اور بلوچستان میں بھی مردم شماری منصفانہ بنیادوں پر تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے مردم شماری کے حوالے سے خامیاں درست کی جائیں۔ایوان میں پٹرولیم اور گیس اتھارٹی صوبائی نگرانی سے علیحدہ کرنے سے متعلق تحریک التواء بحث کیلئے منظور کرلی گئی جبکہ دستور (ترمیمی) بل 2017ء اور پاکستان میں تیل کے شعبے کو درپیش مسائل سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کردی گئی۔ ایوان بالامیں آئینی اداروں میں اختیارات کی تقسیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن نے حکومت کو پارلیمینٹ کو فیصلوں کا محورہ و مرکز بنانے کی صورت میں تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا حکو مت اور پارلیمینٹ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلے توکوئی ادھر آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا کیونکہ ہمارے بدلنے سے جبر کا موسم بدلے گا ۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ آئین میں طاقت کے توازن کو کھل کر بیان کیا گیا ہے لہٰذافریقین کے مابین مذاکرات کی ضرورت وقت کا تقاضا ہے۔ احترام الحق تھانوی نے کہا کہ اداروں کے ذریعے ریاست کا وجود ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی ہے کہ اگر کوئی غلطی کرے تو اس کو روکنے کا اختیار ہے۔دریں اثنائطاہر حسین مشہدی سینیٹ میں وزارت داخلہ کی طرف سے 9سوالوں کے جواب نہ آنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے دیں ۔ سینیٹر سحرکامران کے سوال کے دوسری مرتبہ بھی جواب نہ آنے پر پیپلزپارٹی کے ارکان سینیٹ سے واک آؤٹ کیا ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے طاہر حسین مشہدی سے شکوہ کیا کہ مشکل سوالوں کے جواب دینے پر بھی شاباش ملنی چاہیے، طلال چوہدری نے ایوان میں وقفہ سوالات کے وقت کی طرف توجہ دلائی جس پر ایک گھنٹے 20منٹ کے بعد وقفہ سوالات ختم کردیا ۔چیئرمین قائمہ کمیٹی دفاع سینیٹر مشاہد حسین سید نے سینیٹ میں واضح کیا ہے کہ حلقہ بندیوں اور انتخابات کے فیصلے پارلیمنٹ کی بجائے کہیں اور ہوں گے تویہ ملک قوم کی بدقسمتی ہوگی۔اداروں کے اختیارات سے متعلق تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم متفق نہیں ہونگے تو ججزو جرنیل فیصلے کریں گے ۔ سانحہ سلالہ چیک پوسٹ ،یمن ،ٹرمپ کے معاملات پر پارلیمنٹ نے خود کو ثابت کیا سیاسی قوتیں رولز آف گیمز طے کریں ۔میثاق جمہوریت کا اطلاق نہ ہوسکا اب بھی وقت ہے سیاسی قوتوں کو مضبوط کرسکتے تھے اس وقت بڑا امتحان ہے حلقہ بندیوں اور عام انتخابات کے فیصلے ہونے ہیں سیاسی طبقہ اپنے اختیارکو استعمال کرے کسی اور کیلئے دروازہ نہ کھولے ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر‘ اعظم سواتی‘ کامل علی آغا اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ سینیٹ کوبتایا گیا ہے کہ ملا اختر منصور کو جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے والے اہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائی کی گئی، ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو ملازمت سے برطرف کیاگیا اور کئی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سکیورٹی پر تنقید کرنے والوں کو ویڈیوز پر جانے کی بجائے حقائق جان لینے چاہئیں۔ نواز شریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سب سے آگے بڑھ کر لڑی ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ بھی انہوں نے شروع کیا ہے۔ بعض لوگ وزراء اور مشیروں کے ان کے ساتھ عدالت جانے پر تنقید کرتے ہیں‘ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وزیر اور مشیر پہلے پارٹی کارکن ہیں۔ اگر وہ پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے تو پارٹی میں رہنے کا انہیں کیا حق ہے۔ میں بھی اپنے قائد کے ساتھ عدالت میں کھڑا ہوتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سکیورٹی دینا ہمارا فرض ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کو بھی خطرات ہیں۔ انہیں بھی اسی طرح سکیورٹی دی جاتی ہے۔ سکیورٹی اور پروٹوکول میں فرق ہوتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر