نئی حلقہ بندیوں پر چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ، مشترکہ مفادات کونسل پارلیمنٹ سے بالا تر نہیں 98ء کی مردم شماری پر الیکشن نہیں ہو سکتے : سپیکر

نئی حلقہ بندیوں پر چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ، مشترکہ مفادات کونسل ...

  



اسلام آباد(آئی این پی،آن لائن )نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں پارلیمانی رہنماؤں کا چوتھا اجلاس بھی بے نتیجہ رہا۔ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کئے جاسکے،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ 1998ء کی مردم شماری پر الیکشن نہیں ہوسکتے۔اجلاس میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا‘ پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جایا جائے جبکہ کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ مشترکہ مفادات کونسل سے کسی بھی طور پر کم تر ادارہ نہیں ۔پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا چاہئے حکومت پاکستان کو کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر مشاورت کرے اور ہمیں بتائے کہ مشترکہ مفادات کا اجلاس بلایا جائے گا یا نہیں جس کے بعد ہم طے کریں گے کہ پارلیمانی پارٹیز کا اجلاس دوبارہ بلائیں یا نہیں۔سب کے مفاد میں ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں۔عبوری سیٹ اپ 62 دنوں کے لئے ہوگا جو حکومت اور اپوزیشن مل کر بنائیں گے۔بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وفاقی وزراء عبدالقادر بلوچ‘ زاہد حامد‘ شیخ آفتاب‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی‘ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاؤ‘ پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر‘ مسلم لیگ ضیاء کے اعجاز الحق‘ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور‘ جے یو آئی (ف) کی رہنما نعیمہ کشور‘ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما شیخ صلاح الدین اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے مشاورت کی گئی تاہم پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کئے جاسکے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ آج حلقہ بندیوں کے حوالے سے چوتھا اجلاس منعقد کیا گیا۔ تمام جماعتوں کا ایک چیز پر اتفاق ہے کہ الیکشن تاخیر کا شکار نہ ہوں ۔دوران اجلاس ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے کہا کہ ووٹرز فہرستیں اپ ڈیٹ ہونا ووٹرزکا حق ہے جو ووٹر کو ضرور دیں گے، مردم شماری کے بعد انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہونا آئینی ضرورت ہے، انتخابات 2018 نئی ووٹرلسٹوں اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہونے چاہیں، نئی حلقہ بندیوں کے متعلق حکومت 10 نومبرتک فیصلہ کرلے۔اجلاس کے بعد شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس 63 بندے کم ہیں، دوتہائی کے لیے 228 بندے چاہئیں، (ن) لیگ 88 بندوں کی پارٹی ہے، اگر شام تک حکومت قرارداد نہ لاسکی تواسے مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ حکومت ناکام ہوچکی اور عوام کا اعتماد کھوچکی ہے، اجلاس میں انہیں بتایا کہ (ن) لیگ تباہ ہوچکی ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کی بیل چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی، لگتا ہے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہیں ہوں گے اور (ن) لیگ کورم بھی پورا نہیں کرسکتی لہٰذا ترمیم کا مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا، جب یہ ناکام ہوجائیں گے تو پھرہوسکتا ہے ہم کوئی حل دے دیں۔

نئی حلقہ بندیاں

مزید : صفحہ اول


loading...