جب گلے سے لگ گئے سارا گلہ جاتا رہا ، ایک نام ، ایک نشن ، ایک منشور ، فاروق ستار اور مصطفی کمال کا مل کر جدوجہد کرنے کا اعلان

جب گلے سے لگ گئے سارا گلہ جاتا رہا ، ایک نام ، ایک نشن ، ایک منشور ، فاروق ستار ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر228 مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی نے مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نام، ایک منشور اور ایک نشان پر آئندہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اتحاد قائم کرنے کا مقصد مہاجروں کے ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے روکنا ہے اور ہم تمام جماعتوں کو اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان قائم رہے گی ۔ سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم الطاف حسین کا نام نیست ونابود کرنے آئے تھے۔ ایم کیو ایم ہمیشہ الطاف حسین کی تھی اور رہے گی۔ اب ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد کرنے پر متفق ہیں۔ مشترکہ جدوجہد سے پورے ملک کو بہترین قیادت دیں گے اور آئندہ اپنا وزیراعلیٰ اور پھر اپنا وزیراعظم بھی لے کر آئیں گے۔ کراچی پریس کلب میں پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفی کمال اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر اور میئر کراچی وسیم اختر، ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری، رؤف صدیقی، خواجہ اظہار الحسن، سینیٹر نسرین جلیل اور پی ایس پی کی جانب سے انیس قائم خانی، انیس ایڈووکیٹ، رضا ہارون، وسیم آفتاب، اشفاق منگی، بلقیس مختیار اور دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج اہم واقعہ رونما ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مثبت کوشش سرانجام دے رہے ہیں۔ پاکستان، صوبہ سندھ اور کراچی بہت سے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ کراچی اور سندھ میں سیاست کرنے والی جماعتوں نے ان مسائل کو محسوس کیا ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم صرف یہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ایک قیادت فراہم کریں گے۔ صوبہ سندھ اور کراچی کے ووٹ بینک کی تقسیم کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کو کامیاب کیا جائے گا۔ بدامنی کو امن میں تبدیل کیا جائے گا۔ یہاں کسی بھی سیاسی اختلاف کو لے کر بے امنی نہیں ہونے دیں گے۔ کراچی میں دوبارہ سے سیاسی انتشار پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ سب کچھ ایک طویل مشاورتی عمل کے بعد طے پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بالخصوص کراچی کے مسائل کو مل کر حل کریں گے اور متحدہ کوشش کریں گے۔ ایک بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور ایک اتحاد قائم کریں گے۔ اس پروگرام کو لے کر آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ اب عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن رہنا ہے۔ کراچی تین کروڑ کی آبادی ہے جس میں مشترکہ مثبت کوشش کی ضرورت ہے۔ اس لئے آج ہم ایک ساتھ ہیں۔ سندھ کے شہروں کا ووٹ بینک تقسیم ہوگیا ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں بھی وڈیروں کا غاصبانہ قبضہ ہے جس کو خالی کرائیں گے۔ اس لئے ایک سیاسی اتحاد کراچی، سندھ اور پاکستان کے لئے ضروری ہے۔ اس اتحاد کا نام کیا ہوگا اس کے لئے ہماری میٹنگز ہوتی رہیں گی جس سے میڈیا اور عوام کو آگاہ کیا جاتا رہے گا۔ یہ اتحاد آئندہ انتخابات میں بھی اہم ہوگا اور یہ اتحاد اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ایک منشور، ایک نام اور ایک نشان پر آئندہ انتخابات لڑیں گے۔ اس کی تفصیلات مل بیٹھ کر طے کرلی جائیں گی۔ پی ایس پی کے کارکن اور ایم کیو ایم کے کارکن کو بھی اس مفاہمتی پالیسی میں بھرپور کردار اد اکرنا چاہئے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے کارکنان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو۔ ہم اس چیز کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ کارکنوں کے درمیان افہام وتفہیم کی فضاء قائم کریں گے اور آئندہ کی حکمت عملی بھی جلد طے کرلی جائے گی۔ ہم اس اتحاد میں دیگر جماعتوں کو بھی شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہماری یہ پیشکش محدودمدت کے لئے نہیں ۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے کہا کہ ڈیڑھ برس کے اندر ہم نے تبدیلی پیدا کی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار چاہتے ہیں کہ ان کا نام ڈاکٹر فاروق بھائی لوں لیکن میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بھائی بدنام ہوگیا ہے۔ اس لئے میں ان کو بھائی نہیں کہہ سکتا جس کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس بھائی کی کھوئی ہوئی عظمت کو بھی بحال کرائیں گے۔ سید مصطفی کمال نے کہا کہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی مل کر کام کریں گے تو آئندہ انتخابات کے بعد بھی ہمارا ایک منشور اور ایک پارٹی کا نام اور ایک نشان پر پورے پاکستان میں جدوجہد کریں گے۔ میں فاروق ستار بھائی کی تمام باتوں کی تائید کرتا ہوں۔ ہم اس وقت ایک نشان پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا پہلے دن سے موقف ہے کہ ایم کیو ایم صرف الطاف حسین کی تھی۔ وہ کسی دوسرے کی نہیں ہوسکتی۔ ہمارا اس بات پر ایگریمنٹ ہے کہ ہم کوئی بھی جدوجہد ایم کیو ایم کے نام سے نہیں کریں گے۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ اس شہر میں لاکھوں افراد موجود ہیں جو کہ مختلف قومیتوں کے ہیں۔ اگر اس شہر میں مہاجر نام کی سیاست کروں گا تو اس سے نقصان بھی مہاجروں کو ہوگا۔ اگر ہم بلوچوں، پنجابیوں، سندھیوں، پختونوں کو کہیں گے کہ وہ چلے جائیں تو وہ ہمیں چھوڑ کر جائیں گے لیکن مہاجروں کے لئے ان میں نفرت پیدا ہوجائے گی۔ میں مہاجر ہوتے ہوئے سب کو اپنے گلے لگانے کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اپیل ہے کہ بلوچستان کی طرز کا وہ پیکیج جو ان کے نوجوانوں کو دیا گیا ہے۔ ان سے ہتھیار لے کر گلدستے اور پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک دیئے گئے ہیں۔ اس طرح کا پیکیج ہمارے بچوں کو بھی دیا جائے۔ کراچی کے بچوں کو صرف ایک بار معاف کریں وہ کسی کے کہنے پر غلطی کرچکے ہیں۔ تین سو ماؤں کے بچے اپنی اس غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ہماری اپیل ہے کہ ان کو معاف کردیا جائے۔ اس سے الطاف حسین کا کوئی نقصان نہیں۔ شہر کے قبرستان بھی ایم کیو ایم کے کارکنان سے بھرے ہیں۔ اب ایک بار بچوں کو معاف کردیا جائے۔ ہماری بات سے ڈاکٹر فاروق ستار، ان کے رفقاء اور کارکنان کی اگر دل آزاری ہوئی ہے تو ہم معذرت چاہتے ہیں۔ ہم الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو نیست ونابود کرنے آئے تھے۔ اب ماضٰ کو بھول کر آگے چلنا چاہتے ہیں۔ پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ اگر ماضی میں میرے الفاظ سے فاروق ستار کا دل دکھا ہو تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔ ۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے درمیان ورکنگ فارمولا بھی طے پاگیا ہے جس کے تحت مردم شماری سمیت کراچی کے مسائل پر مل کر کام کیا جائے گا ۔۔رضا ہارون کا کہنا تھا کہ ہم نے تین مارچ سے کوئی بھی بیان افسانے کے طور پر نہیں دیا، جو بھی کہا حقائق کی بنیاد پر کہا اور حقائق ہی بتائے، اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا پی ایس پی اور ایم کیوایم پاکستان کے اتحاد پر کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں میں اچھے لوگ موجود ہیں تاہم وہ دونوں جماعتوں میں کسی سے بھی رابطے میں نہیں۔عشرت العباد کا کہنا تھا کہ منظور وسان کا اشارہ ان کی طرف نہیں، منظور وسان سے رابطہ ہے، انہوں نے خواب دیکھا ہے تو بندہ بھی دیکھا ہو گا، منظور وسان نے خواب میں مجھے نہیں دیکھا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی تاکہ ہم آہنگی پیدا ہو، ملک اور شہر کے لیے مثبت کام کریں، لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں، دونوں طرف کی قیادت کا امتحان ہوگا۔سابق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اتحاد میں بلایا گیا تو فی الحال جانے کا ارادہ نہیں، ممکنہ قیادت کے لیے ذہنی طور پر تیارنہیں ہوں، دونوں طرف اچھے لوگ ہیں مل جل کر رہ نمائی کرلیں گے۔عشرت العباد نے کہا کہ ماضی میں جب حقیقی بنائی گئی تو بہت عرصے بعد لوگوں نے قبول کیا، مائنڈ سیٹ کو بدلنا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے، حقیقی کو نہ بھی ملائیں تو ورکنگ ریلیشن شپ توہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہی سے متعلق خبریں غلط ہیں، پرویز مشرف کی اپنی پارٹی ہے وہ اپنی پارٹی پر توجہ دے رہے ہیں جب کہ قیادت عوام کی خواہش پرہوتی ہے۔

مزید : صفحہ اول