بونیر میں پی ٹی آئی ،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو دھچکا

بونیر میں پی ٹی آئی ،جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو دھچکا

  



بونیر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)حلقہ 78 کے گاؤں باجکٹہ میں پی ٹی آئی ،جے آئی اور جے یو آئی کو دھچکہ، سینکڑوں پارٹی کارکنان نے وفاداریاں بدل کر اے این پی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا ۔ تفصیلات کے مطابق گاؤں باجکٹہ میں اے این پی کا شمولیتی تقریب سابق ایم پی اے قیصرولی خان، مرکزی ممبر حاجی سرور خان،یوسی صدر عبدالقہار ، یو سی جنرل سیکرٹری عبدالستار اور شمشیر خان کے سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں مختار خان ، سیداللہ، گل شیرین ، احسان الحق، سعیدا للہ، یاسر خان، زرین داد خان، شیرین داد خان، زرداد شاہ اور اعظم خان کے سربراہی میں پی ٹی آئی سے ستر افراد ، جے یو آئی کے صاحب گل باچا، صدیق ، حسن علی، نور زمین ، محید اللہ، فرمان، لقمان اور اسلام خان کی سربراہی میں 80 افراد، جبکہ جماعت اسلامی سے دیار خان، مسلم خان، مزمل ، محمد زمین خان ، فرمان خان، مین جان ، سخی داد شاہ کے ساتھ 102 افراد نے وفاداریاں بدل کر عوامی نیشنل پارٹی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا ۔ شمولیتی تقریب سے سابق ایم پی اے قیصر ولی خان ، امیدوار اے این 28 حاجی رووف خان، ممبر صوبائی کونسل سردار جہان، نائب ضلع ناظم یوسف علی خان نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بونیر خالی ہاتھ آنا یہاں کے پختونوں کے ساتھ مذاق تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے صوبہ کو کنگال بنا دیا ہے۔ ناکام ترین حکومت نے تاریخ رقم کردی ہے۔ کوئی ادارہ ٹھیک طرح کام نہیں کرتا۔ پی ٹی آئی کے خود کے وزراء کرپشن میں ملوث پائے گئے ۔عمران کی نظریں مرکز پر ہے۔ پختونوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم کی حقوق کیلئے اے این پی نے ہر دور میں قربانیاں دی ہیں اور آئیندہ بھی دیں گے۔ ہم پر کرپشن کے الزامات لگانے والوں نے آج تک ہمارے ایک ادنیٰ سے کارکن پر بھی کرپشن ثابت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر سے ایم ایم اے بحالی کو کوششیں جاری ہیں۔ جس کی کارکردگی عوام بہت پہلے دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے نام پر ووٹ لیکر اسلام آباد میں جگہ حاصل کئی ہوئی تھی لیکن اسلام کیلئے کچھ نہیں کیا تھا۔ تقریب کے آخر میں نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو پارٹی کی ٹوپیاں بھی پہنادی گئی۔

مزید : کراچی صفحہ اول