شاہ جی گل چادر سے پاؤں باہر نکالنے کی کوشش نہ کریں:قبائلی عمائدین

شاہ جی گل چادر سے پاؤں باہر نکالنے کی کوشش نہ کریں:قبائلی عمائدین

  



باڑہ(نامہ نگار)شاہ جی گل چادر سے پاوں باہر نکالنے کی کوشش نہ کرئے۔یہ صرف این اے 45کے ایم این اے ہے۔پورے فاٹا کے نہیں ہے جو ہر ایک کے خلاف بولتے ہے۔قبائلی مشران کا میڈیا سے بات چیت۔تفصیلات کے مطابق خیبر ایجنسی کے قبائلی مشران ملک داود،ملک وارث خان،ملک محمد علی اورملک دوران گل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الحاج شاہ جی گل اپنے کام سے کام رکھے دوسروں کے کاموں میں مداخلت نا ہی کرے تو بہتر ہوگا۔ملک داود نے کہاکہ شاہ جی گل این اے 45خیبر ایجنسی کے ایم این اے ہے انکو کوئی حق نہیں کسی دوسرے ایجنسی کے پولیٹکل انتظامیہ کے خلاف بولنے کا۔انہوں نے کہاکہ شاہ جی گل پہلے اپنے حلقے کے عوام کو بنیادی سہولیت تو فراہم کر ۔ملک محمد علی ،ملک وارث خان اور ملک دوران گل نے کہا کہ شاہ جی گل اپنے حلقے کے لوگوں کو تو پانی مہیا نہیں کرسکتا اور نہ ہی دیگر مسائل حل کرواسکامگر دیگر قبائلی ایجنسیوں کے انتظامیہ کے خلاف بولتے رہتے ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسروں کے خلاف لب کشائی کرنے سے پہلے اپنے علاقے پر نظر دوڑائے کہ اس نے عوام کیلئے اب تک کیا کیا ہے۔تب دوسروں کے بارے میں بات کرے۔انہوں نے کہا کہ شاہ جی گل نے شمالی وزیرستان کے پولیٹکل انتظامیہ کے خلاف جو الزامات لگائے ہے وہ سراسر بے معنی اور بے بنیاد ہے۔ الحاج کاروان یوتھ ونگ کے صدر قاری سید عالم شنواری نے روزنامہ پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفاد پرستوں اور مرعاتیافتہ افراد کا ٹولہ ہے اور جہالت کی انتہاہے کہ ان کو یہ نہیں معلوم کے ایک ایم این اے کو یہ حق ائین وقانون نے دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہرجگہ جاسکتے ہے اورفاٹا کے مسائل پر بات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں عوام کے ساتھ ناراوا سلوک کیا جارہے جس کی ذمہ داری پولیٹیکل ایجنٹ ہے اور وہ پارلیمنٹرین کو جواب دہ ہے ۔ قاری سید عالم شنواری نے کہا الزام لگایا کہ مذکورہ ملکان کو پیسوں سے خریدا گیا ہے اور ان سے اس کے بیانات دلوائے جارہیں اور یہی وہ عناصر ہے جو قبائلی علاقوں کو تاریکی میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک قبائلی عوام کو بنیادی انسانی حقوق نہیں مل جاتے اور ان کو پاکستا کا برابر کا شہری تسلیم نہیں کیاجاتا۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...