ایم کیو ایم پی ایس پی اتحاد ،ناراض رہنماؤں کے شدید ردعمل کا امکان

ایم کیو ایم پی ایس پی اتحاد ،ناراض رہنماؤں کے شدید ردعمل کا امکان

  



کراچی (رپورٹ/نعیم الدین) متحدہ قومی موومنٹ اور پی ایس پی کا سیاسی اتحاد ، ایک نام ، ایک منشور اور ایک نشان کراچی کی سیاست میں بڑا تہلکہ مچ گیا، دونوں جماعتوں کے بعض ناراض، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی جانب سے کوئی بڑا رد عمل آسکتا ہے، فوری استعفے کا اعلان، کچھ ارکان کا پریس کانفرنس میں شرکت نہ کرنا کیا رنگ لائے گا، کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے، عوامی حلقے اس بات پر حیران ہیں کہ مصطفی کمال اور متحدہ کے سربراہ فاروق ستار ایک دوسرے پر سخت جملے استعمال کرتے تھے، آج دونوں یکجا ہوگئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دن میں خواب دیکھنے والے صوبائی وزیر منظور وسان نے پہلے ہی اپنے خواب میں جو پیش گوئی کی تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے تمام دھڑے ایک ہوسکتے ہیں اور متحدہ کا نام ہٹا کر کوئی نیا نام ہوسکتا ہے ، وہ خواب پورا ہوگیا۔ کراچی میں بدھ کی شام کراچی پریس کلب میں زبردست سیاسی گہما گہمی نظر آئی، دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ اپنے اپنے رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے، جس سے بڑے عرصہ بعد سیاسی ہلچل نظر آئی۔ اسے 2018 کی سیاسی سرگرمیوں کی ابتدا بھی کہا جاسکتا ہے ، دو بچھڑے ہوئے دھڑے ایک ساتھ نظر آئے، کیا یہ دونوں پارٹیاں اگر اپنی اپنی پارٹیوں کے نام برقرار رکھے ہوئے ہیں تو ایک دوسرا نام بالکل اس ہی طرح کا اتحاد ہوگا جس طرح ماضی میں اس طرح کے الیکشن کیلئے اتحاد ہوتے رہے ہیں اور حکمت عملی تیار ہوتی رہی ہے، آج کی پریس کانفرنس سے اندازہ ہوا کہ یہ متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین مائنس کے بعد دوسرا بڑا ایکشن تھا جو کہ تاریخی فیصلہ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے آئندہ الیکشن پر مثبت اثرات نمایاں ہوں گے کیونکہ ایم کیو ایم کے اندر بن جانے والے دھڑوں سے کراچی اور اندرون سندھ دیگر جماعتوں کو بالکل میدان خالی نظر آرہا تھا، اور ایک بہت بڑا خلاء تھا ۔ متحدہ کے عامر خان جو کہ سعودی عرب سے چلے تھے، انہیں اس اتحاد پر تحفظات ہیں جبکہ کشور زہرہ اور انیس قائمخانی بھی پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بڑی ڈیویلپمنٹ میں کہ آثار تو بہت پہلے نظر آرہے تھے ،سلیم شہزاد نے بھی اس کا اشارہ دیا تھا کہ تمام دھڑوں کا ایک ہی نام ہوسکتا ہے۔ یہ اتحاد کس نے کرایااور کس طرح ہوا؟ کیونکہ اس قدر اختلافات کے بعد یکجا ہونا بڑا عمل اور مشکل کام تھا ۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے جو اشارے مل رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں متحدہ کی سربراہی اس وقت دبئی میں رہنے والی دو شخصیات پرویز مشرف یا ڈاکٹر عشرت العباد کو سونپی جاسکتی ہے ، اشارے ملے ہیں ۔ ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ تشویشناک صورتحال یہ تھی کہ متحدہ کی پتنگیں آئے دن کٹ کر پی ایس پی کے آنگین میں گرتی رہیں ، اب اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیش نہیں آئے گی۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین کی تھی، ہے اور رہے گی۔ لہذا ہم اب نئے نام سے ایک سیاسی اتحاد کریں گے۔ آج کی پریس کانفرنس میں مصطفی کمال کے اعتماد سے اندازہ ہوا کہ کھچڑی کافی دنوں سے پک رہی تھی ، اور ان کی تقریر اس ہی طرح کی تھی جس میں اکثر وہ یہ مطالبہ بھی کرچکے ہیں کہ گمشدہ نوجوانوں اور جو کارکن جو کہ جیلوں میں ہیں، ان کی رہائی بالکل بلوچستان کی طرح معافی دی جائے یہ مطالبہ ان کا ہمیشہ رہا ہے ۔ مصطفی کمال نے الطاف حسین کے خلاف اس ہی طرح بات کی جس طرح بالکل پہلے کرتے تھے جبکہ فاروق ستار گفتگو سے یہ اندازہ لگانامشکل تھا کہ یہ اتحاد چاہتے تھے یا نہیں یا یہ کوئی مجبوری ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...