ججز کا بغض،حصہ سامنے آ گیا ،الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے :نواز شریف

ججز کا بغض،حصہ سامنے آ گیا ،الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے :نواز شریف

  



اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228آئی این پی)احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تینوں نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکی زیرسربراہی نیب ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں موجود ر ہے۔ جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف دائر تینوں نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہو نے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جوکل ہونے والی سماعت میں سنادیا گیا۔اس موقع پرفیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے باہرسکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے باہر موجود تھی۔احتساب عدالت میں نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ ‘چونکہ تینوں ریفرنسز نیب نے خود نہیں بنائے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں اس لئے عدالت اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔سابق وزیراعظم نواز شریف پر نیب کے تین ریفرنسز میں دوبارہ فرد جرم عائد کی گئی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ نواز شریف کی موجودگی میں ان پر ایک مرتبہ پھر تینوں ریفرنسز لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فرد جرم عائد کی، جج محمد بشیر نے انہیں فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے۔سابق وزیراعظم نے روسٹرم پر آکر کہا کہ 'مجھے فیئر ٹرائل کے حق سے محروم اور میرے بنیادی حقوق سے انکار کیا گیا ہے۔معزز جج نے ریمارکس د یئے کہ آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل پر کہتا ہے کہ کیسز کو جلد نمٹایا جائے جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس طرح تو ہر ریفرنس کے ٹرائل کے لئے ڈیڑھ مہینہ ملے گا جب کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیا ہے۔جج محمد بشیر نے سوال کیا کہ کیا آپ کو چارج شیٹ کی کاپیاں مل گئی ہیں جس پر نواز شریف نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا اور چارج شیٹ پر دستخط کیے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے ظافر خان کے ذریعے سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔عدالت نے نواز شریف پر باضابطہ فرد جرم کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سماعت 15 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف پانچویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 26 ستمبر، 2 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں عائد فرد جرم میں ترمیم سے متعلق جمع کرائی جانے والی درخواست عدالت نے جزوی طور پر منظور کرلی۔ عدالت نے کیلبری فونٹ کی جعلی دستاویز سے متعلق سیکشن 3 اے کو فرد جرم سے نکال دیا ۔ عدالت نے قرار دیا کہ کیلبری فونٹ کی جعلی دستاویز سے متعلق پیرا گراف فرد جرم کے متن کا حصہ رہے گا۔ پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ کیلبری فونٹ 31 جنوری 2007 سے قبل کمرشل طور پر دستیاب نہیں تھا۔وکیل درخواست گزار نے دلائل میں کہا کہ اس مرحلے پر کیلبری فونٹ والا الزام فرد جرم کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، کیلبری فونٹ والی دستاویز جعلی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کا اختیار ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ فی الحال کیلبری فونٹ کو فرد جرم کا حصہ نہیں بنایا جارہا تاہم متن شامل رہے گا اور عدالت میں بحث کے بعد دیکھیں گے کیا کارروائی کرنی ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لئے مری سے پنجاب ہاؤس پہنچے جہاں سے وہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ احتساب عدالت آئے۔ اس موقع پر مریم نواز بھی ان کے ساتھ تھیں۔سابق وزیراعظم کی آمد کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے۔ پولیس، ایف سی اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے ساتھ خواتین اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے تینوں ریفرنسز میں صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فیئر ٹرائل کے حق سے محروم کیا گیا اور میرے بنیادی حقوق سے انکار کیا گیا۔نوازشریف نے کہا کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی، بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، ٹرائل میں اپنا دفاع کروں گا جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 10 اے فیئر ٹرائل پر کہتا ہے کہ کیسز کو جلد نمٹایا جائے جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس طرح تو ہر ریفرنس کے ٹرائل کے لئے ڈیڑھ مہینہ ملے گا جب کہ سپریم کورٹ نے 6 ماہ میں ریفرنسز پر فیصلے کا حکم دیا ہے۔

نواز شریف ۔ فرد جرم

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک 228آئی این پی) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے فیصلے کا پہلے ہی پتہ تھا، فیصلہ میرے حق میں نہیں آنا، ججز کا بغض اور غصہ ان کے الفاظ میں آ گیا ہے۔نواز شریف نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا نظرثانی فیصلے میں آئے الفاظ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے، ملک میں 70 سال سییہی ہو رہا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہی آئے گا، کیونکہ ججز کا بغض اور ان کا غصہ فیصلے میں سامنے آچکا ہے۔لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں باضابطہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد عدالت سے واپسی پر نواز شریف نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ 'مجھے پتہ تھا کہ فیصلہ میرے خلاف ہی آئے گا، کیونکہ یہ جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں اور ان کا غصہ فیصلے کے الفاظ کی صورت میں سامنے آگیا ہے'۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ تاریخ کا سیاہ باب بنیں گے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...