ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو زبردست سہولیات حاصل ہونگی :گورنر سندھ

ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو زبردست سہولیات حاصل ہونگی :گورنر سندھ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی کے وژن پر عملدرآمد کر رہی ہے کیونکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اس ضمن میں وفاق کے تعاون سے صوبہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو زبردست سہولیات حاصل ہو نگی ،تعلیم ، صحت ، انفرااسٹرکچر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے منصوبے قومی توقعات ، عوامی ضروریات اور جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل دیئے جارہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں صوبہ کے اضلاع حیدرآباد ، ٹھٹھہ ، سجاول ، ٹنڈو محمد خان اور جیکب آباد میں وفاق کی جانب سے اعلان کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید ایاز شاہ شیرازی ، رکن صوبائی اسمبلی اعجاز شاہ شیرازی ، ایم ڈی سوئی سدرن گیس امین راجپوت ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ، پاکستان ریلویز ، حیسکو ، سیسکو ، واپڈا اور پی ڈبلیو ڈی کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں گورنر سندھ کو وفاقی فنڈز کے منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔انہوں نے ان شہروں میں گیس اور بجلی ، فراہمی و نکاسی آب کے منصوبوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے آغاز میں جو بھی رکاوٹیں ہیں انھیں فوری دور کیا جائے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ماہانہ بنیاد پر اجلاس منعقد کئے جائیں تاکہ ان کی جلد از جلد اور معیار ی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد، ٹھٹھہ اور جیکب آباد میں ہیلتھ کارڈ کا اجراء موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے جس سے غریب افراد کو علاج معالجہ کی معیاری سہولیات فراہم ہو رہی ہیں ۔ انہوں نے ٹھٹھہ کے مریضوں کو کراچی کے اسپتالوں میں علاج میں درپیش مشکلات کے خاتمہ کی بھی ہدایت کی تاکہ انھیں بروقت علاج فراہم کیا جا سکے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ وہ بی آئی ایس پی سروے کو مزید موئثر بنانے کے لئے ادارے کی سربراہ سے بات کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہکہ قدیم حیدرآباد تجارتی لحاظ سے اپنی منفرد اہمیت کا حامل شہر ہے جہاں تجارتی ، صنعتی اور مقامی صنعتی سے ہزاروں افراد روزگار سے وابستہ ہیں، حکومت حیدرآباد کے صنعتی علاقوں میں بھی انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی پر بھرپور توجہ دے گی ، حیدرآباد میں جاری منصوبوں کی تکمیل سے شہر کی بڑی آبادی کو آمد رفت ، پینے کے صاف پانی ، تعلیم اور صحت کی سہولیات حاصل ہو نگی جو کہ شہریوں کا حق ہے اس ضمن میں وفاق ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گا تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات حاصل ہو سکیں ، حیدرآباد میں آبادی کے دباؤ کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کی عدم فراہمی نے مسائل کو گھمبیر بنادیا ہے لیکن وفاق کے تعاون سے شروع کئے جانے والے منصوبوں کی تکمیل سے لوگوں کو مشکلات سے نجات ملے گی ۔اجلاس میں حیدرآباد میں یونیورسٹی کے سنگ بنیاد اور ایئر پورٹ کو فعال کرنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں ترقیاتی منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہے ، ضلع میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کرمنصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں ، ان منصوبوں کی تکمیل سے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل اور مستقبل کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی اسی طرح ٹھٹھہ ، سجاول اور ٹنڈو محمد خان میں بھی جاری منصوبوں کی افادیت سے عوام بھرپور مستفید ہو سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بعد حکومت عوامی فلاح وبہبود کے اقدامات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے ،معاشی خوشحالی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جبکہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ میں بھی مدد مل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام منصوبوں میں شفافیت برقرار رکھنے کے لئے ایک میکانزم تیار کیا گیا ہے جس کے تحت منصوبوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹھٹھہ میں 105176 ، حیدرآباد میں 123526 جیکب آباد میں 130080 ، سجاول کے 99745 ، ٹنڈو محمد خان کے 50505 افراد کو ہیلتھ کارڈ ز کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹھٹھہ ، سجاول اور ٹنڈومحمد خان کے مختلف علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے313 منصوبے منظور کئے گئے ہیں جن پر 881 ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ ٹھٹھہ میں 500 بستروں کے اسپتال کے لئے 35 ایکڑ زمین کی نشاندہی کرلی گئی ہے جس کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان PWD نے ٹھٹھہ اور سجال کے گاؤں کے لئے 50 کلومیٹرز طویل روڈ کی تعمیر کے لئے پی سی ون تیار کرکے بھیج دی ہے ۔ اجلاس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی نے بتایا کہ 111 دیہاتوں میں گیس فراہمی کے لئے وفاقی حکومت کو 536.907 ملین روپے جاری کرنے کو کہا ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی بھی 307.965 ملین روپے خرچ کرے گی ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حیدرآباد میں اسٹیٹ آف آرٹ یونیورسٹی کے لئے اراضی کی نشاندہی کرلی گئی ہے اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مشاورت سے پی سی ون کی تیاری بھی جاری ہے ۔حیدرآباد میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر کے حوالہ سے سول ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ حیدرآباد ایئر پورٹ کو اپ گریڈکرنے کے لئے خطیر فنڈزدرکار ہیں جبکہ دوسرا آپشن پی اے ایف بیس بھولاری کا ہے جو کہ کراچی حیدرآباد موٹروے پر ہے اور وہاں سے مسافروں کو بھی آسانی ہوگی اس ضمن میں سی ایوی ایشن نے پی اے ایف سے کہا ہے کہ وہ سول ایوی ایشن کے مطلوبہ معیار کے مطابق رن وے کو بڑھائیں جس کی تکمیل آخری مراحل میں ہے جس کے لئے سول ایوی ایشن بورڈ نے 474 ملین روپے کی منظوری بھی دی اور منظور کردہ رقم میں سے 316 ملین روپے ادا بھی کردیئے گئے ہیں ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے حیدرآباد کے لئے 500 ملین روپے کے اعلان کے بعد میئر حیدرآباد کی جانب سے منتخب کردہ اسکیموں کی پی سی ون موصول ہوئی تھی ، دو پی سی ون KIDCL کی مشاورت سے تیار کی گئی جس میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کے لئے 200 ملین روپے اور روڈ سیفٹی ، شہر کی اندرونی سڑکیں ، سیوریج لائن ، اسٹریٹ لائٹس سمیت دیگر کے لئے 300 ملین روپے شامل ہیں مذکورہ سمری منظوری کے لئے بھیج دی گئی ہے ۔ اجلاس میں ڈی ایس ریلوے نے بتایا کہ حیدرآباد سے میر پور خاص کے لئے مہران ایکسپریس کے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں ۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹنڈو الہیار اور حیدرآباد کے 41 دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی کے لئے سروے مکمل کرلیا گیا ہے جس پر تخمینی لاگت 53.53 ملین روپے لگایا گیا ہے جسے منظوری کے لئے وزارت پانی و بجلی اسلام آباد میں بھیج دیا گیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...