سندھ اسمبلی :ارکان کا صوبے میں شکار پر پابندی کا مطالبہ

سندھ اسمبلی :ارکان کا صوبے میں شکار پر پابندی کا مطالبہ

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں بدھ کو محکمہ جنگلی حیات سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں شکار پر پابندی عائد کی جائے ۔ سینئر وزیر برائے خوراک و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے وزیر اعلیٰ سندھ کی طرف سے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ شکار کے لائسنس یا پرمٹ محدود شکار کے لیے جاری کیے جاتے ہیں ۔ کسی کو مقررہ حد سے زیادہ شکار کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلی حیات شکار کے لائسنس جاری کرتا ہے ۔ شکار کا موسم یکم نومبر سے فروری کے آخری ہفتے تک ہوتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2015-16 میں سندھ آئی بیکس ( پہاڑی بکرے ) کے شکار کے لیے 11 لائسنس اور جنگلی بھیڑ ( Urial ) کے شکار کے لیے 3 لائسنس جاری کیے گئے تھے ۔ 2016-17 ء میں سندھ آئی بیکس کے لیے 11 اور جنگلی بھیڑ کے شکا رکے لیے ایک لائسنس جاری کیا گیا تھا ۔ یہ لائسنس نیلام عام کی بنیاد پر فروخت ہوتے ہیں ۔ آئی بیکس کے شکا رکے لیے 5200 امریکی ڈالر اور جنگلی بھیڑ کے شکار کے لیے 14000 امریکی ڈالر کا ریٹ مقرر ہوا تھا ۔ اس سال مزید لائسنس جاری کرنے کی درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں ۔ شکار کے لائسنس یا پرمٹ محدود شکا رکے لیے ہوتے ہیں ۔ روزانہ 10 یا 15 سے زیادہ شکار نہیں کیے جا سکتے ۔ نثار احمد کھوڑو نے بتایا کہ ضلع دادو کے علاقے واہی پاندھی میں نایاب ہرن پایا جاتا ہے ۔ اس نایاب جانور کی حفاظت کے لیے ایک گیم انسپکٹر اور 5 گیم واچرز کو علاقے میں تعینات کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع شہید بے نظیر آباد میں دہہ اکڑو میں حیاتی تنوع اور ایکو ٹور زم کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اسکیم منظور کی گئی تھی ۔ اسی طرح ہالیجی اور لنگ جھیلوں کی بحالی اور بہتری کے لیے بھی ایک اسکیم منظور کی گئی تھی ۔ یہ جھیلیں جنگلی اور آبی حیات کا مرکز ہیں ۔ نثار کھوڑو نے بتایا کہ 2011-12 ء میں ایک بیماری کی وجہ سے سندھ آئی بیکس سمیت 42 بڑے جنگلی جانور ہلاک ہو گئے تھے ۔ باقی جانوروں کو بچانے کے لیے کھیرتھر نیشنل پارک میں ان کا علاج کیا گیا تھا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول