پولیس سٹیشن تخت بھائی میں نو تعینات ایس ایچ او انسپکٹر عجب خان کا تعارفی اجلاس

پولیس سٹیشن تخت بھائی میں نو تعینات ایس ایچ او انسپکٹر عجب خان کا تعارفی ...

  



تخت بھائی(نامہ نگار) پولیس سٹیشن تخت بھائی میں نو تعینات ایس ایچ او انسپکٹر عجب خان کا تعارفی اجلاس۔ سیاسی، سماجی اوربلدیاتی نمائندوں سمیت عوامی حلقوں، صحافیوں،تاجر برادری ، علمائے کرام اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھر پور شرکت۔اس سلسلے میں بدھ کے روز پولیس سٹیشن تخت بھائی میں ایک تعارفی اجلاس منعقد کیا جس میں سیاسی، سماجی اوربلدیاتی نمائندوں سمیت عوامی حلقوں، تاجر برادری ، علمائے کرام اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے اپنی طرف سے نو تعینات ایس ایچ او انسپکٹر عجب خان کو ہر قسم تعاون کا یقین دلایا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر عجب خان نے کہا کہ عوام جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی کریں تاکہ معاشرتی کا برائیوں خاتمہ ہو کر تخت بھائی مثالی شہر بن سکے،سود انڈر پلے، منشیات فروشی اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کو نشانہ عبرت بنایا جائے گا ، پر امن اور مثالی معاشرہ بنانے کے لیے علمائے کرام، صحافی ، سیاسی و سماجی نمائندے اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پولیس کے دست و بازوں بن کر معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں ، اجلاس سے جے یو آئی کے صوبائی آفس سیکرٹری علامہ محمد صدیق ، میڈیا کلب کے چیئرمین حاجی ہدایت اللہ مہمند، اے این پی ضلع مردان کے نائب صدر محمد ایوب یوسفزئی،مرکزی انجمن تاجران تخت بھائی کے جنرل سیکرٹری حاجی شیر قیوم مست خیل، پی پی پی ضلع مردان کے جنرل سیکرٹری اورنگزیب خان، تحصیل کونسلر موسیٰ خان، وی سی ناظم شیر زمین،نائب ناظمین امجد علی مہمند،محمد اقبال صافی، جنرل کونسلرز عرفان اللہ مہمند، میاں محب اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ڈی آر سی کے رجسٹرار حاجی بشیر احمد، ممبر ڈی آر سی و سینئر صحافی جاوید عالم مہمند،ملگری تنظیمونو کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر میاں طاہر ایڈوکیٹ، تحصیل کونسلران حاجی وارث خان، مقصود ایڈوکیٹ،ذولفقار علی بھٹو،پریس کلب کے چیئرمین حاجی حیات اللہ اختر، میڈیا کلب کے سرپرست اعلیٰ احمد زادہ مہمند، مشرق ٹی وی مردان کے بیورو چیف امجد خان مہمند، وی سی ناظم مشتاق خان، قومی وطن پارٹی PK-26کے چیئرمین حاجی ملک عزیز خان، یوتھ پارلیمنٹ کے صدر الحاج سردراز خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر